
عریشہ اقبال
آج نہ جانےکیوں دماغ کےکسی گوشےمیں موجود خیال نےمیرے وجود کو جھنجوڑدیا اوراس سےکہیں زیادہ حیران کن بات یہ کہ نظرنےان خیالات پر تصدیق
کی مہر ثبت کردی۔13اگست 1947,یہ آل انڈیا ریڈیو لاہور ہے
آپ ہمارے اگلے اعلان کا انتظار کیجیے ۔۔14 اگست1974 یہ ریڈیو پاکستان لاہور ہے آپ سب کو پاکستان مبارک ہو۔13 اگست سے قبل حالات اوراس دن کے اعلان سے لے کر 14 اگست کی کہانی کے اوراق کو پلٹ کردیکھا جائےتو بہت سے ابواب ملتے ہیں جس میں نظریہ پاکستان سےلے کر حصول پاکستان کی جدو جہد کی داستان ہے۔
اس داستان میں موجود کرداروں کاایک نظرجائزہ لینے کی کوشش کی جائے تو بہت سی ماؤں کےجگر کےٹکڑے اوران کی قربانیوں کی تصویرآنکھوں کے سامنےآتی ہے۔ اس سے تھوڑا آگےبڑھ کردیکھنے اورمحسوس کرنے کی کوشش کریں تونگاہوں کےسامنے تاریک اوردشوار راستوں میں موجود سفر اورہجرت کی سختیوں کاتصور ایک ایسے منظرکی حقیقی صورت پیش کرتاہے جونا صرف ایک انسانی ذہن کوسوچنے پر مجبورکردے بلکہ پورے کے پورے وجود پرایک ایسی کیفیت طاری کرنے کی بھرپورطاقت رکھتی ہےجو ہرجانب پھیلےتاریک اندھیروں کو اجالوں میں تبدیل کردے۔
مگر افسوس در افسوس
یہ سوچنے کو تو دور کی بات اس کا خیال بھی دل میں آجانا گویا گناہ کبیرہ کی سی حیثیت معلوم ہوتا ہے، آج پاکستان کوآزادی کی نعمت سےسرفراز ہوئے چھہتربرس گزرچکے ہرطرف وطن سے محبت کااظہار کرتےاورعقیدت کے نغمے گاتے ہوئےبظاہر بہت دلکش محسوس ہوتےہوئےیہ مناظرہراس فرد کے لیے لمحہ فکریہ ہےجوحقیقتاً اس سرزمین کےلیے خالص جذبات رکھنےوالااور اس سے سچی محبت کرنے والا ہوگا ۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ جن انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہونےکا ہم جشن منارہے ہیں ۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر پوچھیے کہ کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟؟
نہایت افسوس کے ساتھ میں نسل نوکو یہ پیغام دیناچاہتی ہوں کہ آج بھی ہم انگریزوں کی غلامی میں جکڑے ہوئےہیں کیونکہ ہم نے آزادی کا صحیح تصوریعنی نظریہ پاکستان اوراس کی اساس کلمہء توحید کوفراموش کردیاہے ہماری حکومت،ہماری مملکت اوراس کے تمام تر معاملات اور اس پاکیزہ اور نہایت مقدم نظریے کےخلاف کیے جانے والے تمام امور کو اپنا فخر سمجھ بیٹھے ہیں کیونکہ ہم نےاپنا سارا سرمایہ لٹا دیا ہے۔
اس ملک کے حصول کے لیے لٹائی جانے والی جانیں اور دی گئی قربانیوں کا شعورہونا تو درکنار اس کا خیال بھی ذہن میں آجانا ایک بہت ہی بڑاعیب بن چکا ہے۔ اگراس وقت بھی قوم بیدار نہ ہوئی جب عافیہ صدیقی کےلبوں پر اس قوم اور اس امت کے بچوں کے لیے دعائیں ہیں اوراس غفلت میں سوئی ہوئی قوم کو اس بیٹی کی آزادی کا خیال نہیں آتا ۔اگراس ملک میں موجود تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی بےحیائی ان کو ان کے ایمان کی راہ میں حائل رکاوٹ محسوس نہیں ہوتی اور اگر دیانت دار قیادت نہ ہونے کی فکر اب بھی ان کی راتوں کی نیند میں کوئی خلل نہیں ڈالتی تو پھر جشن آزادی منانے کا کوئی حق سرے سے حاصل نہیں کیونکہ ایک ملک کی اساس اس کا نظریہ ہوتا ہےاوراگر اس ملک کی قوم اس نظریےکےمخالف نظام کو تسلیم کرنے کو تیارہے اور اس سیاہی کو اپنے اوپر مسلط رکھنے پر رضامند ہے تو پھر زوال ایک یقینی ہے۔
اب بھی وقت ہے اس غفلت سے بیدار ہوجائیں اس پاک وطن کو اسلام کا گہوارہ بنانےاور اس کی اساس کو واپس لوٹانے میں اپنا کردارادا کریں۔
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو




































