
عریشہ اقبال
زندگی بھی کتنی عظیم نعمت ہے اگر یہ نہ ملی ہوتی توہم اپنے شوق اپنی خواہشات اور اپنی مرضی کے مطابق کیسے پورے کرتے۔ آئیے کہیں کسی
خوبصورت وادی میں چل کر نیلےآسمان کے نیچے اپنے معیارات کا ایک نظر جائزہ لیں۔ میں اس آبشار کے نیچے بہتی نہر کے کنارے بیٹھتی ہوں اور آپ سامنے موجود سایہ دار درخت کے نیچے ٹھیک میرےسامنے بیٹھیں کیا حسین اورپر کشش منظر ہے ،بہار کا موسم اور ہر طرف رنگ اور خوشبو بکھیرتے ہوئے پھول اورشگوفے۔۔ زرا سوچیں اگر یہ زندگی نہ ہوتی تو کیا ہوتا ۔
مجھے دراصل آج آپ سے ایک سوال پوچھنا ہے کہ آپ کی زندگی گزارنے کےمعیارات کیا ہیں ؟؟ آئیں ایک جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔ ہمارے عمومی معیارات! ۔کسی طرح باس خوش ہوجائے تو بونس پکاہےاور اگر پروموشن ہوجائے توکیا ہی بات ہے۔ اگر کچھ پیسے جوڑ کر کھادی کا سوٹ بنوالوں تو سب لوگوں پرامپریشن بڑازبردست جائے گا.۔ اگر کوئی لڑکی کسی محفل میں عبایا اورنقاب زیب تن کیے آجائے تو اسے قدامت پسند کا ٹائٹل دیا جائےگا.۔ کسی شخص سےاگر حسن سلوک کریں گےاوراگر سامنے سے برائی ملے توحسبِ معمول مایوسی کاشکار کہ میں نے تو نیکی کی بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے.۔ اس کے برعکس!!اگرسوچ کا معیار یہ ہوتا کہ یہ سارے کام میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کرلوں تومیری دنیاوی و اخروی دونوں زندگیاں کامیابیوں اورکامرانیوں سے سرفرازہوجائیں گی۔ ۔سوچنے کی بات!!۔ہمارا دین بھی ہمارے سامنے مثبت اورمنفی خواہشات کا فرق واضح کرتا ہےاورشیطان ہم انسانوں کو بآنڈریز پرلے آتا ہے اور ہمیں وہ چیزیں محض بہت چھوٹی لگ رہی ہوتی ہیں مگر ایک مثال ہے کہ”قطرہ قطرہ سمندر بنتا ہے”تو یہ سمندرہم گناہوں کےبجائے نیکیوں سے کیوں نہ بھریں سارا فرق جوآتا ہےوہ محض معیارات اور ترجیحات کا آتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنی تکالیف برداشت کیں جس شہرسے برے حالات کےباعث ہجرت کی اسی شہرمیں فاتح بن کرلوٹے کیوں؟؟
معیاراونچا تھا ترجیحات کی نوعیت مختلف تھی۔افسوس کےساتھ!!صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نےتورضائےالٰہٰی کے لیےجانیں قربان کیں خون بہایا مگر آج ہمارے پاس اپنےرب کےسامنے بہانےکےلیےآنسوؤں کےچند قطرے بھی نہیں فرق کیا ہےصرف معیارات اورترجیحات ۔




































