
عریشہ اقبال
مومن کاہر ہرلمحہ گواہی ہےاوراس گواہی کا حق ادا کرنا اس کےاوپر لازم ہے !خصوصاًوہ لمحہ جب فتنوں کا دوردورہ ہرجانب ایک سیلاب کی
صورت اختیار کررہا ہو۔۔۔ جی ہاں ایک ایسا سیلاب جوامت مسلمہ کی غیرت اس کے احساس حتیٰ کہ اس کے اندرموجود جذبہ ہمدردی اورانسانیت تک کواپنے ساتھ بہا کرلےجارہا ہے کیوں ہم خاموش ہیں؟
کیوں ہمارے ضمیر کو قفل چڑھ گیا ہےکیا۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نےقرآن میں ہمیں امت وسط ہونےکاعظیم درجہ دیا تھا ، کیا اسی وقت کے لیے ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے آنسو بہائے تھے اور تکالیف پر صبر کیا تھا۔ آج ہم اس مقام پر آکرکھڑے ہوچکے ہیں کہ عہد الست کی یاد دہانی تو درکناراس کا خیال بھولے سے بھی نہیں آتا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی معصوم بچوں کی ماؤں کی اور ہمارے اپنے مسلمان بھائیوں بہنوں کی جس میں ہربوڑھا اورجوان شامل ہے، اسرائیلی فوج کی بربریت اور دل کو چیرکر رکھ دینے والےمظالم سے دوچار مناظر ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں مگر پھر بھی ہماراالمیہ ہے کہ اسلامی مملکت میں ہونے کے باوجود آواز نہیں اٹھائی جاتی ۔
یقین جانیےافرادی قوت چاہےلاکھوں کی ہو ہزاروں کی ہو یا پھر کروڑوں کی مگراللہ رب العالمین کےسامنےایک کا عمل درج ہونا ہے۔ لہذا یہ کہ کر خود کوجھوٹی تسلی ہر گز نہ دیجیے گا کہ با ئیکاٹ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ یاد رکھیے شیطان ہرجانب سے اپنے حملے کرتا ہے اور شیطان کو ایک صورت میں خیال کرنا دراصل ہماری اپنی کوتاہی ہے، شیطان صرف خود کام نہیں کرتا بلکہ وہ شیطان صفت انسانوں کےذریعہ بھی اپنا شرپھیلاتا ہے۔ خدارا شرکوشر ہی پناہ دے سکتا ہےمگر خیر ایک واحد شےہے جہاں نہ ہی مکرو فریب کوجگہ ملتی ہے اور نہ ہی کسی شرکو پناہ مل سکتی ہے ۔
آج اگرہم اپنی زندگی کے ہر گزرتے لمحے کو بحیثیت گواہی سمجھ کراپنےفلسطینی بھائیوں سےاظہار یک جہتی کریں گے تواس اظہار کو تقویت بھی ہمارے عمل اور ہمارے کردارہی سے ملے گی ۔ میری اورآپ کی یہ ذمہ داری ہی نہیں بلکہ ہمارایہ فرض بھی ہےکہ جب امت پریہ وقت آچکا ہےکہ حق اور باطل کی واضح تفریق لازم وملزوم ہوچکی ہے۔
ظلم حد سے بڑھ چکا ہےتوہم نے بھی سرپر کفن باندھ کرخود کوجام شہادت نوش کرنے کی تمنا سے سرشار کرنا ہے ۔ہم نے اپنی گواہی کا ،اپنے قبلہ اول کی حرمت کا حق ادا کرنا ہے۔ اب چاہے وہ زبان کے ذریعے ہو ،قلم کے ذریعے یا پھربائیکاٹ کےذریعے ۔ مومن کی ہرکوشش اوراس میں موجود اخلاص کی تاثیراللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک عزیمت اورجہاد کا درجہ رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنےدین کے لیے خالص کرلیں اورروز محشر ہم سب کو حق کی گواہی دینےوالوں میں شامل فرمالیں۔ آمین یا رب العالمین
لبیک یا اقصیٰ




































