
خودکلامی/ عریشہ اقبال
نو نومبر پاکستان کی تاریخ کو دہرانےکا دن ہے ۔کسی بھی چیزکی اہمیت کو اجاگر کرنے کےلیے پہلے اس چیز کا ادراک ہونا ضروری ہے، لہذا ہم بات کو بغیر
کسی تمہید کے آگے بڑھاتے ہیں ۔9 نومبر کا دن یوم اقبال کے نام سے موسوم ہے شہر کے تقریباً تمام تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کردیا گیا ہے اور اب اس امت کی نسل جس کے روشن مستقبل کے لیے اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا اور اسی نسل کو اس خواب کی تعبیر کہا تھا مگر ہماری نسل نو کا المیہ یہ ہے کہ علامہ اقبال کی شاعری میں موجود حقائق کو جاننے کی جستجو تو درکنار اس کو اپنے نصاب کے مخصوص حصے میں شامل ہونے پر بھی شکوہ ہے ۔ میں یہاں تمام تعلیمی اداروں ، ان میں موجود اساتذہ اور شاگردوں کی بات نہیں کررہی کیونکہ اس بات کا علم بہرحال مجھے بھی ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر تو نہیں ہوتیں مگر تکلیف کے لیے انتہائی معذرت خواہ ہوں اور ایک تلخ حقیقت آپ کے گوش گزار کرنا چاہتی ہوں وہ یہ کہ اقبال نہ صرف ہمارے لیے قومی شاعر کی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ وہ حکیم الامت اور ایک بہترین فلاسفر کی حیثیت سےاپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔
ان تمام باتوں کو آپ سے کرنے کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ آپ اس تحریر کو پڑھیں لائیک کا بٹن دبائیں اور آگے بڑھ جائیں بلکہ اس کو آپ کی خدمت میں پیش کرنے کا اصل مقصد آپ کو لمحہ فکریہ کے طور پر متوجہ کرنا ہے تاکہ آپ کو اور مجھے ٹھہر کر سوچنے اور خود سے سوال کرنے کا موقع ملے کہ آیا یہی وہ مثالی پاکستان ہے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور یہی وہ نسل ہے جس کو انہوں نے بڑے فخر سے شاہین کی صورت میں متعارف کروایا تھا ؟
آج کا نوجوان کیا اپنے اندر اس فلسفہ خودی کے چراغ کو محسوس کرتا ہے ؟ اور اسے اپنی شخصیت میں ڈھالنے کی کوشش میں کس حد تک سنجیدہ ہے ! اقبال نے جو بیداری کی لہر پیدا کی تھی اور جو انقلاب نمودار ہوا تھا وہ تو محض ایک پرانے بوسیدہ اوراق پر مشتمل کتاب کی شکل اختیار کر چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان اپنا مقام کھوچکا ہے اور زوال پذیر ہے کیونکہ اس نے اپنی تاریخ کو اپنے اسلاف کی تعلیمات کو نہ صرف بھلا دیا ہے بلکہ تعلیمی اداروں کی صورتحال دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا مکمل طور پر فراموش کردی گئی ہیں اور نصاب میں موجود اس رہے سہے حصے کو جو کامیابی کی ضمانت ثابت ہوسکتا ہے فراموش کردیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک اور اس کی نسل کو کلام اقبال کو سمجھنے اور اس کی قدر کرنے والوں میں شامل فرمائیں اور ایک بار پھر وہی مثالی پاکستان کو ہمارے نوجوان فکر اقبال سے تسخیر کرتے ہوئے نظر آئیں۔ آمین یا رب العالمین




































