
عریشہ اقبال
فاطمہ ایک خاموش طبیعت لیکن خوش اخلاق اور نرم مزاج لڑکی تھی،مزاجوں میں زمین آسمان کا فرق ہونے کے باوجود ایک ہی ڈیپارٹمنٹ اور کلاس میں
ہونے کی بنا پرعائزہ سےاس کی بارہا سلام دعا ہوتی لیکن یہ رسمی تعلق دوستی میں تبدیل نہ ہوسکا تھا،فاطمہ سنجیدہ مزاج اورسلجھی ہوئی
سوچ کی حامل تھی جسےمذہب اور روایات کی پاسداری کا ہمیشہ خیال رہتا۔ اس کی باوقارشخصیت کی وجہ سے کسی بھی لڑکے یا لڑکی کو اس سے
بے تکلف ہونے کی جرات نہ ہوتی ۔ ایک ہی کلاس میں ہونے کے باعث عائزہ کی سرگرمیاں اور مشاغل فاطمہ کی نگاہوں سے اوجھل نہ تھے اور وہ اکثر اس کی غیر متوازن شخصیت کے حوالے سے سوچتی رہتی تھی ۔
فاطمہ جو اکثر دوسروں کے معاملات سے لا تعلق رہنے کی عادی تھی خود بھی اس بات پرحیران تھی کہ چند ہی روز قبل ملنے والی عائزہ کیوں اس کی
سوچوں اور خیالات کا مرکزبنی ہوئی ہے۔ عائزہ کی لاپروائی اور لڑکوں سے اس کی بے تکلفی فاطمہ کو بہت کھلتی تھی لیکن فاطمہ نے کبھی اس کا اظہار
نہ کیا، اوروہ کرتی بھی کیسے ؟ ایک ماڈرن گھرانے کی فیشن ایبل اور مغربی اقدار کی دلدادہ لڑکی جو کسی کو خاطر میں لانے کی روادار نہ تھی بھلا یہ کیسے قبول کرتی کہ کوئی اس کے پرسنل معاملات میں ٹانگ اڑائے یا اسے نصیحت کرے۔
عائزہ اور فاطمہ میں کوئی بھی قدر مشترک نہ تھی لیکن بہت عجیب سی بات تھی کہ فاطمہ کو عائزہ کےحوالے سے ایک غیرمعمولی نوعیت کی انسیت محسوس ہونے لگی تھی۔ داعیانہ مزاج کی حامل فاطمہ باربار عائزہ کی جانب متوجہ ہوتی،اسے اپنے اندر سے ایک عجیب سی پکار سنائی دیتی جو اسے عائزہ کی جانب بار بار متوجہ کرتی ۔
فاطمہ کو اکثر اپنےاندر سرگوشی سنائی دیتی کہ ایسی خوبصورت اور من
موہنی صورت والی لڑکی کوجہنم کا ایندھن نہیں بننا چاہیے۔ فاطمہ کا اپنے رب سے تعلق اوراس کے ذہن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ حدیث اکثرگونجتی جس کا مفہوم یہ ہے کہ:
"کسی کو کچھ دو تو اللہ کے لیے،کسی سے کچھ لو تواللہ کے لیے، کسی سے جڑو تو اللہ کے لیے، اور"اگر کسی سےتعلق توڑو تو بھی محض اللہ کے لیے
ً محبت کے علاوہ یقینا ایک احساس جسے یقیناً کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا اسے ہر وقت اس بات پرآمادہ کرتاکہ اپنے اللہ تعالٰی کی خوشنودی و
رضا کے لیے اسے عائزہ سے ایک مضبوط تعلقاستوار کرنا ہوگا ۔ غیر محسوس انداز میں وہ اکثر عائزہ کے متعلق سوچا کرتی اورعین اس وقت
اس کے دل و دماغ میں لاشعوری طور پر وہ آیت گردش کرنے لگتی۔
جس کا مفہوم ہے کہ " احسان کا رویہ اختیار کرو اللہ تعالٰی محسنوں کو پسند کرتے ہیں
ساتھ ہی اس کا ذہن اکثر اس حدیث کو ری کال کرنےلگتاکہ!!"کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہاپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ خود اپنے لیے کرتا ہے۔
یہ کیفیت معمول سے ہٹ لر تھی جو غیرمعمولی طورپر اس پرغالب آچکی تھی ۔ فاطمہ کے دل میں اسفیشن ایبل اس لڑکی کے لیئے اس قدر محبت اور
اپنائیت پیدا ہوچکی تھی کہ اسے یہ سب کچھ کبھی کبھی بہت عجیب سا بھی لگنے لگتا۔ بھلا کسی انجان لڑکی کے لیے کوئی کیوں اس قدر شدت سے سوچے گا؟
لیکن بہت سوچنے کے بعد اسے اس بات کا یقین سا ہو گیا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالی کی جانب سےہے۔ بس
یہی وہ لمحہ تھا جب اس نےمصمم ارادہ کرلیا کہ عائزہ کی اصلاح کے لیے وہ اپنی سی پوری کوشش کرےگی۔ اسے بہت اچھی طرح پتا تھا کہ اس کا یہ عمل
شاید بہت زیادہ کارگر ثابت نہ ہوگا کیونکہ مغربی اقدار کی دلدادہ ایک ایسی لڑکی جس پر نئی تہذیب نے اپنا بھرپور جادو چلایا ہواہےاور جس کی چکاچوند سے عائزہ کی آنکھیں چندھیائی ہوئی ہیں، ایسے ماحول میں فاطمہ خود کو بہت بے بس محسوس کر رہی تھی ۔ وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی لیکن اسے اللہ تعالی کے قادر مطلق ہونے کا بھرپوریقین تھا۔ وہ جانتی تھی کہ دعائیں تقدیر بدل دیتی ہیں لہذا اس نے عائزہ کے حق میں اسی ہتھیارکو آزمانے کا فیصلہ کیا۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کا مالک ہر بات پردسترس رکھتا ہے اور ساری حقیقتوں سے واقف ہے۔اسے اس
بات کا بھی بھرپورادراک تھا کہ اگردنیا کے تمام سمندروں کو روشنائی میں تبدیل کر دیا جائےتب بھی لکھتےلکھتے اس کے پروردگار کی مکمل تعریف بیان نہیں کی جاسکتی۔ اشجار کوقلم کی صورت دے دی جائےتب بھی، تب بھی اللہ تعالی کی صفات اور قدرت کا مکمل بیان ممکن نہیں!!
فاطمہ کو رنگوں سے بے انتہا لگاؤ تھا مگر تمام رنگوں میں اسے جو رنگ سب سے زیادہ مرغوب اورغالب تھا وہ عشق الہٰی کا رنگ تھا،اس کے نزدیک
تمام رنگوں پراس ایک رنگ کوفضیلت حاصل تھی جسے صبغتہ اللہ" کہا جاتا ہے یعنی "اللہ کا رنگ"جسےاور جو اس کے رنگ میں رنگ جائے تو اس کی مثال کچھ یوں سمجھ لینا چاہیے کہ ایک ایسا ستارہ جوہمیشہ اورہر وقت چمکتا رہے اور اس پرزوال کبھی نہ آئے۔فاطمہ خود تو اس رنگ میں اللہ تعالٰی کے
اذن سے اپنے وجود کورنگ چکی تھی مگر اب عائزہ کی باری تھی،اس نے اپنے رب کو پکارا، اس رب کوجس نے اسے کبھی اکیلا نہ چھوڑا تھا۔ فاطمہ یقین
کی اس منزل پرتھی کہ اسےجب کبھی زندگی میں اپنےارد گرد اندھیروں کے سیاہ بادل منڈالتے محسوس ہوتے تو وہ رنگ اورپختہ ہوجاتا،اس رنگ میں
مکمل رنگ جانے کی دھن اس پرسوار تھی جو اس کی امید کی اس روشنی کو مزید گہرا کردیتی
جاری ہے




































