
عریشہ اقبال
کائنات میں سب سے پہلے انسان کی جب تخلیق ہوئ تو اس کا وجود بظاہر مکمل تھا مگر یہ جو کاملیت کا تصور ہے یہ بہرحال انسانی فطرت اور
اس کی عقل کے پیمانے کو صحیح معنوں میں تلاشنے اور اس فکری تربیت کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اس کو پورا کرنے کے لیے درست راستے کے انتخاب کا نام ہے میں سوچتی ہوں کسی بھی راستے کا تعین اسی وقت کیا جاتا ہے جب منزل نگاہ میں ہو اور نگاہیں اس پر مضبوطی سے جمی ہوں کیونکہ اہم یہ نہیں کہ ہم نے راہ کا تعین کیا یا نہیں بلکہ اہم تو یہ ہے کہ اس راہ کے انتخاب کے بعد ہم کس حد تک اس پر مستحکم ہیں میرے نزدیک مقصد کے حصول کی خواہش کو بیدار کرنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک انسان اس مقصدیت سے صحیح طور پر آشنا نہ ہو ،اگر آشنائی سے رشتہ جڑ جاتا ہے تو پھر کامیابی کی راہیں بھی ہموار ہوتی ہیں اور تکمیل کی جستجو کا چراغ صرف روشن نہیں بلکہ مزید گہرا ہوجاتا ہے انسانی فطرت میں موجود ایک عجب راز کے متعلق جب میں مزید گہرائ سے سوچتی ہوں تو نا معلوم میرے وجود میں بحیثیت ایک مسلمان خاتون سنسنی خیز لہر دوڑ جاتی ہے
اور میں اس نقطہ پر آکر ٹہر سی جاتی ہوں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کے اندر کامیابی حاصل کرنے کی حرص رکھی ہے اور جب ہم انسانی زندگی کا جائزہ لیں تو ہمیں دو طرح کے پہلو واضح ہوتے ہیں جن کے اثرات ہمیں انسان کی زندگی پر شخصی اعتبار سے تعمیر اور روحانی اعتبار سے
تسخیر کے مراحل میں نظر آتے ہیں جب انسان تعمیر کی بنیاد اور تسخیر کی قوت کو فراموش کرتا ہے تو نتیجتاً وہ حقیقی مقصد سے دور چلا جاتا ہے اور غفلت کے اندھیروں میں خود کو گم کردیتا ہے میرے نزدیک عورت کو اسلام نے جو مقام و منزلت بخشی ہے وہ آج تک کسی مذہب نے نہیں بخشی اس کی وجہ دراصل عورت کی ضرورت اور اس کی اہمیت کا حقیقی شعور پیش کرنا ہے اس کے ساتھ ہی اسلام نے عورت کو جو احساس برتری دیا ہے وہ آغاز سے لے کر اختتام تک ہر لحاظ سے منفرد بھی ہے اور مکمل بھی کیونکہ وہ عورت کے اصل معنی و مفہوم کو سمجھ کر اس کی زندگی کا دائرہ کار سمجھاتا اور بتاتا ہے
عورت کے لفظی معنی چھپی ہوئ چیز کے ہیں زرا سوچیئے اگر درس گاہ میں درسی کتب میں موجود سبق کا رٹا لگوا دیا جاۓ اور اس کے معنی و مفہوم سے رو گردانی کی جاۓ تو کیا اس تعلیم کا معیار بلند اور اس کا مقصد پورا ہوسکتا ہے جس تعلیم سے شعور حاصل کرنا اور صحیح غلط میں فرق کرنا مقصود تھا وہی تعلیم اس کی روح سے خالی اور بے سود ثابت ہورہی ہے ثابت ہوا کہ تکمیل کے لیے صحیح راستے کا انتخاب اور اس راہ پر مضبوطی سے قدم جماۓ رکھنا مطلوب ہے اسی طرح عورت اسلام کی نظر میں وہ گمشدہ گوہر ہے جو اپنے گمنام رہنے کی ہی شکل میں اصل خوبصورتی کا عکس پیش کرسکتا ہے بصورت دیگر اس اجنبیت سے کترانے اور اس سیپ سے نکل کر وہ عورت جو ایک موتی کی مانند ہے نہ صرف وہ موتی بے مول ہوسکتا ہے بلکہ اپنی اصل خوبصورتی سے محروم ہوسکتا ہے، یہی بلند مقام اسلام نے عورت کو حجاب کے احکام نازل کرنے کی صورت میں دیا ہے کہ جہاں وہ نہ صرف حجاب اوڑھ لینے کی صورت میں اپنے پختہ کردار کی گواہی دے سکتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی معاشرے میں موجود بے حیائی اور نفس کے شکنجوں سے اس حکم ربی کو اوڑھ لینے کے ذریعے اپنے رب کی حفاظت میں خود کو سونپ دیتی ہے اور وہ رب جس کی قدرت میں ساری کائنات کی سلطنت ہے وہ اپنی بندی کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور اس کو ایسی قوت ایمان کے ساتھ حیا کے نور سے جگمگاتا کردار ادا کرتا ہے کہ اس روشنی سے ہر باطل اور طاغوت کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں اور وہ اپنے ہی کھودے گئے گھڑے میں گر کر شکست خوردہ واپس لوٹ جاتا ہے مگر افسوس در افسوس آج کی مسلمان عورت مغربی رجحانات اور اس تہذیب سے مرعوب ہوکر اپنے مقام و منزلت کی ناقدری کرنے کے ساتھ اپنے ایمان کی توہین کرتی نظر آتی ہے ، جس ایمان کا وہ دعویٰ کرتی ہے اس کا ایک حصہ حیا اور حجاب پر مشتمل ہے ایک عورت پوری نسل کی امین ہوتی ہے اور اس امانت کا پاس رکھنا اس کی اولین ذمہ داری ہے نیز اس ذمہ داری کی احسن طور پر ادائیگی اسی وقت ممکن ہوگی اور اپنی پوری زندگی کو صحیح سمت لے جانے میں حیا اور حجاب کے اندر پوشیدہ راز اور اس کے کردار کو سمجھنا آج کی مسلمان عورت کی بنیادی ضرورت ہے یعنی امت کی بیٹیوں کا فخر اور ان کا وقار صرف ایک صورت میں ہی برقرار رہ سکتا ہے اور وہ حکم حجاب کی پابندی کے ساتھ اس کی روح کا ادراک ہونا ہے ۔
غلبہ اسلام کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے، مسلمان نسلوں کا تاریک ہوتے مستقبل کو بچانے اورعصر حاضر میں رونما ہونے والے فتنوں سے خود کو محفوظ کرنے کی بہترین مثال یقیناً میرے رب کی جانب سے بھیجی گئی ہدایت پر عمل اوراسوہ صحابیات میں موجود حجاب کی خوبصورتی سے راہنمائ لینے ہی سے مل سکتی ہے تاکہ اسلاف کی تعلیمات سے ہماری شخصیت مضبوط ہو ،کردار بلند ،مقصد نگاہوں کے سامنے اور منزل کا حصول ممکن ہوجاۓ ساتھ میری اور آپ کی نسلوں سے صلاح الدین ایوبی ، محمد بن قاسم اور ابو عبیدہ جیسے فرزند پیدا ہوں اور ہماری دونوں جہانوں کی زندگی کامیابیوں سے ہم کنار ہوجائےمگر یہ محض ایک ہی راستہ اختیار کرنے سے ممکن ہوسکتا ہے جب میں حکم خداوندی کو ہر محبوب چیز پر قربان کرنے والی بن جاؤں ،پھر چاہے معاملہ موسم کی سختی کا ہو یا پھر خواہشات نفس کے لبھانے کا میرا حجاب میرا فخر میرا وقار ہونا چاہیے ، شوق جنت سے میرا دل سرشار اور شہزادی جنت سے ملاقات میرا ارمان ہونا چاہیے میری نسلوں کے ایمان کی بقا میرا معیار ہونا چاہیے ۔




































