
نیرنگِ خیال /عریشہ اقبال
وہ پیکرالفت وہ ملنسارمسیحا
ایک جانب وہن کی اس بیماری نے دلوں کو زندگی سےمحروم کردیا اورایک جانب شہادت کی آرزونے دل کے ساتھ روح کو بھی حقیقی محبت سےسرشار کردیا
اوراس کے بعد وہ وجود اپنےرب کی بندگی کےحق کو ادا کرنےکے لیےخالص کرلیے گئے۔ ہاں وہ رخصت کےطلبگار نہیں بلکہ عزیمت کی اعلیٰ مثال بن کر اپنے قدموں کو ثبات عطا کرتے رہے ۔ وہ میدان جنگ میں اپنےخون کے آخری قطرے تک لڑتےرہے کیونکہ ان کا یقین بندگی کا تقاضا پورا کرتا اوران کی مزاحمت اصل زندگی کا شعور دیتی ہے ان کا موت کو بخوشی گلے لگا لینا ان کے اپنے رب سے کیے جانے والے عہد وپیمان پرثابت قدمی سےقائم رہنے کی قوی دلیل کے طورپر میرے اورآپ کے سامنے موجود ہے، اگر ہم چشم تصورسےان مجاہدین حق کاعزم واستقلال اوران کی عظیم جدو جہد کودیکھیں تو یقیناً اس حقیقت کا ادراک مجھےاور آپ کو بھی ہوگاکہ :
"ایمان لانےوالوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نےاللہ سےکیے ہوئےعہد کوسچ کردکھایا ہےان میں سےکوئی اپنی نذرپوری کرچکا اور کوئی وقت آنےکامنتظر ہےانہوں نےاپنے رویے میں کوئ تبدیلی نہیں کی "(القرآن)
جہاں اس حقیقت کا ادراک اور اس وعدے کی سچائ پر یقین کامل ہمیں حاصل ہوگیا وہیں سے ایمان کا وہ سفر شروع ہوگا جس کی منزل اپنے رب سے اس حال میں ملاقات ہوگی کہ وہ ہم سے راضی اور ہم اس سے راضی مگر ٹہریے!
کسی بھی شے کو محبوب رکھنے کی چاہت اپنے اندر ایسی قوت رکھتی ہے کہ اس کے کھوجانے یا چھن جانے کا خوف بھی ہمہ وقت انسان کے دل کو بے چین رکھتا ہے مگر یہ میں اپنی آنکھوں سے کیسا منظر دیکھ رہی ہوں جس پر دل غم سے نڈھال ہے اور اس امت کی خاموشی پر ایک ہوک سی اٹھتی ہے ساتھ ہی روح پکار رہی ہے کہ کیا ہم وہی امت ہیں جس کے حق میں راتوں کو اٹھ کر رب کے حضور مغفرت کی دعائیں مانگی گئ تھیں مگر میں کیا دیکھتی ہوں کہ مساجد میں وعظ و نصیحت کے انبار لگاۓ جارہے ہیں مگر وہی مساجد قبلہ اول کی حرمت سے ناواقف اور اس میں کی جانے والی دعائیں امت کے درد سے خالی ہیں۔ ایک جانب حلاوت ایمان کا مظہر وہ قافلہ سالار ہے جو اپنے لہو میں موجود حریت کا پیغام لیے صدا لگا رہا ہے اورایک طرف وہ لوگ جو فصاحت و بلاغت کا لوہا منوانے میں ہر موضوع پر گفتگو کرنے اور درس و تدریس کے ذریعے بظاہر اپنے علم کے جوہر دکھانے میں بڑی شان سے مصروف عمل نظر آتے ہیں مگر افسوس در افسوس سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت کا ایک دوسرے سے تعلق سمجھنے سے احترازبرتنے ہیں قلم میں طاقت کہاں سے لاؤں کہ یہ درد بیان کیا جاسکے کہ المیہ تو یہ ہے کہ
خواہشاتِ نفس اور دنیا کی رنگینیوں نے آج کے مسلمان کو باطن سے اور اس کی فکر سے ناآشنا کردیا ہےوہ خدا کی بندگی کو بھول کر نفس کی بندگی اختیار کر چلا ہے کہ عشقِ رسول کی اصلی تصویر پیش کرنے والے تو سرزمین انبیاء اور قبلہ اول کی حرمت پر کٹ مرنے کا ایسا حوصلہ رکھتے ہیں کہ ان کے ایک نعرہ تکبیر کی گونج کفار پر لرزہ طاری کردیتی ہے ۔
جی ہاں کلمہ حق کی تاثیر اور ایمان کی حلاوت فیصلہ کن فتح کے لیے طاغوت کےخلاف مزاحمت کا درس دیتی ہے اور فیصلہ کن فتح کا انحصار محض علم کے جوہر دکھانے پر منحصر نہیں بلکہ اس فتح کا انحصار سراسر عمل پر ہے اس وقت یحییٰ سنوار حفظہ اللہ کی شہادت ، اس سے قبل اسماعیل ہانیہ کی شہادت اور ان گنت فلسطینیوں کے لہو میں موجود حریت کا پیغام ہمیں پکار رہا ہے ، ہم جہاں جس مقام پر بھی کھڑے ہیں وہاں اپنے طور پر حتی الامکان کوششیں سرانجام دینےوالے ہوں بائیکاٹ سے لےکر امت کو بیدار کرنے کا فریضہ ہمارا منتظر ہے یہ شہادتیں یہ جانیں لٹانا ان شجاعت کا پیکر ہستیوں کے لیے تو رب کے حضور سرخروئی کا حق ادا کررہی ہیں مگرساتھ ہی امت کی اس خاموشی پر ایک سوالیہ نشان کی صورت میں لمحہ فکریہ ہے کہ جس خاموشی کو توڑنے اورمزاحمت میں ہی زندگی ہے کا شعور ہم سب نے ناصرف اپنے اوپر لازم کرلینا ہے بلکہ اپنی نسلوں میں بھی اس شعور کو منتقل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہےتاکہ ہم روز قیامت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور اللّٰہ تعالیٰ کے حضور شرمندہ نہ ہوں،
جہاں غفلت آپ کو اپنے آغوش میں لیتے ہوۓ اس فریضے سے غافل کرنے کی کوشش کرے وہیں اپنے رب سے دعاؤں کا ہتھیار استعمال کرکے جہاد کےجس بھی درجے پرآپ ہیں ضمیرکی آواز پر جس حد تک بھی آپ لبیک کہہ رہےہیں قلم کی نوک سے گواہی کا جتنا بھی حق ادا کررہے ہیں یا بائکاٹ کے ذریعے اس فرض کی ادائیگی کے لیے کوشاں ہیں استقامت طلب کیجیے دعا مومن کا ہتھیار ہے اورعلم وعمل میں تفریق ان دعاؤں کو تاثیر سے اور قبولیت سے محروم کرسکتی ہے جبکہ عمل مستقل ہو اور جدو جہد جتنی تیز ہو منزل اتنی ہی قریب محسوس ہونے لگتی ہے کیونکہ جو یقین کی راہ پہ چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت عطا فرمائے۔ اور ہم سے آسان حساب لے آمین
اللھم انصرنا المجاھدین فی فلسطین آمین یا رب العالمین
وآخرو دعوانا ان الحمدلله رب العالمین
e




































