
عریشہ اقبال
وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے
ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر
وقت گزرتا جارہا ہے ۔ پہلے بھی اذیت تھی اور اب بھی اذیت ہے۔کیا فرق ہے اس پہلے کی زندگی میں اورآج کی زندگی میں بس اتنا کہ پہلے جسمانی طور پر کمزور ہورہے تھے اور اب ذہنی طور پر کوفت کا شکار ہوچکے ہیں ۔ اس نقطہ نظر کے سامنے آجانے کے بعد میں یہ سوچتی ہوں کہ راستہ بڑا مختصر ہے جو ہم نے اختیار کیا ہےمگر ہمیں یہ راستہ اسی لیے طویل معلوم ہوتا ہے کیونکہ راستے پر چلنے کا ارادہ تو کر بیٹھے مگر اس ارادے کی دیوار کو توکل اور صبر کی اینٹوں سے مضبوط بنانے کی جانب توجہ نہیں کی ۔یایہ کہا جاسکتا ہے توجہ دینا ضروری نہیں سمجھا ۔ یہی سبب ہے کہ خواہشات کے پیچھے دوڑتے ہوۓ تقدیر اور قسمت کو کوسنا آسان ہوجاتا ہےاورصبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹتا جاتا ہے ۔
یہ بات اگر سمجھ لی جائےکہ زندگی میں ہرموڑپرلائے جانےکےپیچھےہمارا وہ امتحان ہےجسےہم بھول جاتےہیں ۔اسی وجہ سےاللہ کی مشیت اور اس کے اختیار پر باقی سارے اختیارات کو ترجیح دے دیتے ہیں جبکہ ترجیح کا حقیقی شعور ہمیں اس احساس کی جانب متوجہ کرتا ہے جہاں سے بصیرت نہ ہوتے ہوئے بھی مشیت الٰہی پر سر تسلیم خم کرکے شکر گزاری کا رویہ اپنایا جائے، حتیٰ کہ وہ جھکا دیا جانے والا سر قلب سلیم کی حجت بن جائے اور قلب سلیم سے ہوتا ہوا یہ سفر یقین کی ان کنجیوں کو ہمارے نام کردے جہاں سے رب کی محبت اور اس کے عشق کا تالا کھلتا ہے ۔
یاد رکھیں آپ جس بھی اذیت میں مبتلا ہیں
خواہ وہ ماضی میں جینا ہو
حال کا غم منانا ہو
یا پھر مستقبل کے خوف میں مبتلا ہوجانےکی صورت ہو
آپ اس اذیت سے نکل جانے کا ایک ہی راستہ پاسکیں گے، وہ اس بات کو تسلیم کرلینا ہے کہ وقت گزرتا رہا ہے
اب بھی وقت گزر رہا ہے۔۔۔
اور آئندہ بھی جو وقت آئےگاوہ دراصل تبدیلی ہی لےکرآئے گا آج اگر مشکل ہےتوکل آسانی ہوگی یاپھربہت امکان ہے کہ کل اس سے بھی بڑی مشکل آپ کی منتظر ہو لیکن آپ کو یہ سمجھنا ہے کہ میں جہاں ہو جس حال میں ہوں وقت کا پیا گھوم رہا ہے ،بس مجھے اپنی رفتار پر غور کرنا ہے کہ اپنی رفتار میں میں کہاں صحیح ہوں اور کہاں غلطی پر ہوں،جب غلط اور صحیح کا حق سمجھ لیا جاتا ہے تب زندگی کی گتھیاں کافی حد تک سلجھنے لگتی ہیں اور بے چینی سکون میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔۔۔ اصول ایک ہی ہے کہ واقفیت حاصل کرنے کے معاملے میں اپنی ذات کو پہلے دیکھیں ۔
اطمینان کو اپنی تنہائیوں میں تلاشیں
پھر جاکر آپ ان اذیتوں سے چھٹکارا پانے کی راہ پاسکیں گے ۔۔۔




































