
عریشہ اقبال
منتظر نگاہیں،شدت جذبات سےدھڑکتےدل اورویران ہوتی روح میں موجود خلا کوپرکرنےوالےآنسوؤں کی جھڑیاں جوپلکوں کے کنارے سے اس طرح
پھوٹتی ہیں جیسے اسماعیل کی ایڑیاں رگڑنے سےآب زم زم کا چشمہ پھوٹ نکلا تھا ۔ عرفہ کا دن قریب ہے اور اس دن کی ہر ایک ساعت آپ کو اپنے رب سے قریب ہونے کا بہترین موقع دے رہی ہے
ساتھ ہی آلودگیوں سے آپ کےوجود کو پاک کرکےآپ کی زندگی کو پاکیزگی اورشفافیت کےنورسےمنورکرنےکاسامان کررہی ہے
زرا سوچئیے ! حج کے لیےرخت سفر باندھنے والوں کی فہرست میں اگر آپ کا نام بھی شامل ہوجاۓ تو آپ کے باطن کی کیفیت کیا ہوگی ؟
طوافِ کعبہ کے لیے آپ کا دل نہ مچلے گا ؟
زیارتِ مدینہ اورروضہ رسول کےدیدار کےلیےآپ خود پرقابو رکھ سکیں گے ؟
مگر یہی ساری کیفیات ایام ذی الحجہ آپ کو بطور ہدیہ پیش کرنےآۓ ہیں تاکہ قرب کی تلاش نا صرف حاجیوں کے مقدر کو جگمگادے بلکہ آپ بھی قابلِ رشک بن جائیں
کیونکہ اہمیت اور اصل حاصل تو تقوی ہے
کعبے کی حدودمیں چکر لگانا ہو
یا پھر رب کےحضورسجدہ ریز ہوکراپنےمکان کی چھت کےنیچےقبلہ رخ ہونا ہو
دونوں اعمال رب کی خوشنودی کے لیے ہی تو ہیں مگرفرق صرف سمجھنےکاہےکہ منزل سے عشق کتنا اور کس حد تک سر چڑھ کر بولتا ہے
میں سوچتی ہوں وہ بھی توایک ماں کا دل تھا جو اپنے لخت جگرکو پیاس سے تڑپتا دیکھ کر ایک لمحے کے لیے دھڑکنا بھول گیا ہوگا مگر کونسی چیز تھی جس نے اس دل کو لمحے بھر کی غفلت سے روک دیا تھا ، وہ کونسا احساس تھا جس نے اس شدت جذبات سے دھڑکنے والے دل کو مضبوطی فراہم کی تھی کچھ آگے قدم بڑھایا تو میرے دل پر دستک ہوئی اور اس دستک نےیہ رازسمجھایا کہ آخر تپتے صحرا کے درمیان مدت کے شمار کا علم نہ ہوتے ہوۓ بھی اپنی قرہ العین ( آنکھوں کی ٹھنڈک) اور اپنے جانشین،محبوب اولاد ، بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو چند کھجوریں اور پانی حوالے کرکے اسی صحرا میں چھوڑ آۓ یہ پہلا امتحان تو نہ تھا جس میں وہ باپ اور وہ شوہر سرخرو ہوا تھا بلکہ اس سے پہلے لیےجانےوالے امتحانات میں بھی وہ اپنے ایمان کو یقین کی ڈور سے مضبوط کرتا چلا آیا تھا ۔ انسانی فطرت پر پیدا وہ بھی کیا گیا تھا اوردل ودماغ اس کے پاس بھی تھےمگر ان ساری چیزوں کے ساتھ ابراہیم علیہ السلام کے پاس وہ سمت بھی تھی جس سمت کو اختیار کرکے انہیں منزل مقصود کو پالینا تھا یہی حرفِ آرزو تھا اور یہی تمناۓ دل تھی کہ قربان سب ہوجاۓ مگر قرب رب کا مل جاۓ کیونکہ اگر میرا رب مجھے مل گیا وہ میرا ہوگیا تو سب نہ ہوتے ہوۓ بھی سب میرا ہوجاۓ گا یہی وجہ تھی کہ ان کا اور بی بی ہاجرہ کا دل ان کے رب کے لیے دھڑکنا نہ بھولا اور روح اس کے نور سے خالی نہ ہوسکی ، آج ان بہترین ایام میں ہم اور آپ موجود ہیں وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس بھی تھا اور وقت میرے اور آپ کے پاس بھی ہے مگر کیا ہے جو ان کے پاس موجود تھا اور ہم آپ اس سے خالی ہیں ؟
یقین کی مضبوط ڈور
توکل کا سہارا
اور خاموشیوں میں موجودسرگوشیاں جوصرف رب کےساتھ ہو
شکوے اور شکایات سے لڑتا بھڑتا ہوا دل جو اس جنگ کو قلب سلیم کے حصول کے لیے کھپا دیتا ہے
رب کی رضا پر راضی رہنے والا اس عظیم ماں کا قلب اور نور سے روشن روح جو پاکیزگی کی زندہ مثال ہے
جس نے اپنے صبر و استقلال سے انسانی نسلوں کو سنوارنے کا ایک بہت گہرا راز اپنے عمل سے سمجھایا
آدابِ فرزندی سکھائے ہی تب جاتے ہیں جب سیکھنے کی خواہش کا چراغ دل میں روشن ہو اور کوشش کے ساتھ جدو جہد کا وہ حوصلہ شمعیں جلا کر ہدایت کی مشکل راہوں کو آسان کرتا ہے پھر نتیجے میں قبولیت کا دروازہ کھلتا ہے نگاہوں کا انتظار ختم ہوتا ہے
آنکھیں شکرگزاری سے اشکبار ہوجاتی ہیں،سیاہیوں کواشک ندامت سےمٹایا جاتا ہےاورپھرزبان کے ساتھ قلب و روح اقرار کرتے ہیں
لبیک اللھم لبیک
لا الہ الااللہ وحدہ لا شریک
اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لا الہ الااللہ واللہ اکبر اللّٰہ اکبر وللہ الحمد ❤️
اللّٰہ اکبر کبیرا والحمد اللہ کثیرا وسبحان اللّٰہ بکرہ واصیلا
مانگنے کے دن ہیں، مانگ لیجیے
اپنے رب سے اس کی رحمت اور محبت کا سوال کر ڈالئیے کیا معلوم آپ کی نگاہوں کا انتظار بھی ختم ہونے والا ہو
اور آپ بھی اپنا سب دے کر صرف رب کو چاہنے کا وعدہ نبھانے کا سچا عہد کر بیٹھیں
کیا پتہ آئندہ سال حاجیوں کی فہرست میں آپ کا نام بھی شامل کردیا جاۓ اس حال میں کہ آپ کا دل طوافِ کعبہ میں مصروف ہو
اور پھر معجزے آپ کی تقدیر کے نوشتے میں لکھ دئیے جائیں
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی محبت سے سرشار کردے ۔آمین یا رب العالمین




































