
حمادیہ صفدر
گھرکےبڑےصحن میں دادی جان بہشت بی بی سوت کاتنےمیں مصروف تھیں۔جب کبھی بڑی بی کونیندنہ آتی توسخت گرمی ہوتی یاسردی انہیں سوت
کاتنا، کروشیےکی مختلف چیزیں بنانا بہت مرعوب ہوتا تھا۔ چنانچہ حسب معمول آج بھی دوپہرکےتین بجےجب گھرکےسب افراد سورہے تھے، بڑی بی کوشش کے باوجود سونےکےلیےکامیاب نہ ہوسکیں تواپنےکام میں مشغول ہوگئیں۔ یہ بہت ہی سعادت مندی کی بات تھی کہ بڑی بی کام بھی کرتیں مگرساتھ ساتھ ذکراللہ میں مشغول رہتیں۔ سب سےزیادہ ذکرو وردجوان کی روٹین کاحصہ اورتکیۂ کلام بھی تھا، وہ یہی تھاکہ ہرلمحہ وہ کہاکرتیں رضیت باللہ رباو بالاسلام دینا وبمحمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبیا۔ بڑی بی کاعام ورد بھی یہی تھااورجب کبھی بڑی بی کوکوئی خوش خبری یاغم کی خبرپتالگتی توپہلی سماعت پرہی رضیت باللہ ربا کےترانےپڑھ کراپنےرب کی رضا میں راضی ہونےکااعلان کرتیں۔ نہ جانےرب اکبرکوان کاایسےکہنا کس قدرمحبوب ہوگا کوئی اس بات کااندازہ نہیں لگاسکتا۔ آج بھی بڑی بی نےہمیشہ کی طرح رضائے الٰہٰی میں راضی ہونےکااعلان کیا۔
جب دوپہرکوبڑی بی سوت کاتنےمیں مصروف تھیں ۔ پوتی رقیہ نےدروازےپردستک دی دروازہ کھلاتھااندرآئی ۔انتہائی گھبراہٹ کی حالت میں کہ بات کرناچاہی مگراس کےسانس کےساتھ سانس نہیں مل رہی تھی ۔ پس بڑی بی بڑے حوصلےسےاٹھیں پوتی سےپیارکیااورمحبت سےاس کیفیت کی وجہ معلوم کی۔ تووہ لڑکھڑاتی زبان سےبولی دادوبابا کاروڈ ایکسینڈنٹ ہوگیا توان کوزبردست چوٹ لگی اطباءحضرات کہتےکہ زندگی موت کی کشمکش میں ہیں ۔بڑی بی نےاتنی دل پھاڑدینےوالی خبرکوسنی توحوصلےپست نہ کیےبلکہ فوراکہارضیت باللہ ربا اوروضوکرکےجائےنمازپرصلوۃالحاجت کےلیےکھڑی ہوگئیں اوراللہ سےدعائیں کرنےلگیں، پس کچھ ہی دنوں بعد بڑی بی کےبیٹےعابدصاحب شفایاب ہوگئے۔
بڑی بی کافی معمرتھیں مگرتندرست ہشاش بشاش اورچست بزرگ تھیں 85سالہ زندگی بڑےکمال حافظےاورتندرستی میں گزاری اور86ویں سال کےاوائل ہی میں بڑی بی کابلڈپریشرعروج پررہنےلگاساتھ ہی ذیابیطس کےزبردست شکنجےمیں آگئیں ۔اطباء حضرات نے بھی چیک اپ کےبعدعلاج کرنےسےانکارکردیا اور کہہ دیاکہ کچھ دن ان کی مہمان نوازی کرلی جائے۔اہل خانہ پاس بیٹھتے،تسبیحات کرتےمگرجیسےہی اوقات الصلواۃ آن پہنچتےتوبڑی بی سب سےدرخواست کرتیں کہ وہ نمازکواول وقت میں اداکریں،دنیاوی گفتگوسےمنع فرماتیں۔
نصیحت کرتیں کہ زبان سےہرلمحہ ایسی بات نکالوجوہماری مغفرت کےلیےمعاون ثابت ہوسکے۔ایسےہی گفتگوکرتےکرتےبڑےہی جوش وجذبےسےبلندآوازمیں اپنادائمانہ ترانہ رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا وبمحمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبیا دہراتیں۔ آخرکار زندگی انسان کوبسترمرگ پرپہنچا کراس کاساتھ چھوڑدیتی ہے۔یہ جمعرات کی سہ پہرکوعصرکےوقت بڑی بی نےبڑےاہتمام سےنمازعصرکاوضوفرمایااورنمازعصرکووقت اول میں اداکیا نمازکی تکمیل کےبعدوظائف کےلیےلب ہلانےلگیں اوراچانک ہی بلندآوازسےبولیں اشہدان لآالہ الااللہ ۔۔۔۔کلمۂ شہادت کومکمل نہیں پڑھابلکہ ساتھ ہی رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا وبمحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبیا پڑھنےلگیں تقریباً تین سےچاربارکاوردکیا توبڑی بی اپنےاللہ کےرب ہونےپرراضی ہونےکااعلان کرتےہوئےاپنےمالک حقیقی سےجاملیں۔۔اناللہ واناالیہ راجعون۔
نمازعشاءکےبعد جنازہ تھاپس بڑی بی کوجمعہ کی شب میں سپردخاک کیاگیا۔ دل کایقین کہتاہےکہ اللہ نےرضیت یاعبدی کےترانے پڑھتےہوئےاپنی راضیہ مرضیہ بندی سےملاقات کی ہوگی۔ پوتی رقیہ غم سےنڈھال تھی ۔رات کوسوئی توصبح بوقت سحربڑی بی خواب میں ملیں۔ رقیہ نےپوچھاپوچھا دادی جان آخروی منازل میں سے پہلی منزل کوکیسا پایا۔دادی جان بولیں منکرنکیرکےسوالات کےجواب میں میری زبان پکاراٹھی رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا وبمحمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبیا۔ بھئی جس کی زندگی اس ترانےکوپڑھتےہوئے گزری جس کی زندگی کااختتام اس ترانےپرہو، پھرکیوں نہ وہ منکرنکیرکےسوالات کا جواب دے پاتیں بلکہ انہوں نےتوبڑے زبردست اندازسےجواب دیا اوربڑی بی بتانےلگیں کہ میرےلیےکہاگیا "افرشوھامن الجنہ ،والبسوھامن الجنہ وافتحولھابابامن الجنۃ"۔(اس کےلیےجنت کا بستربچھا دو،جنت کالباس ان کوپہنادواورجنت کی طرف سےدروازہ ان کےلیےکھول دو)ساتھ ہی رقیہ نیندسےبیدارہوگئی ،یہ خواب رقیہ کی زندگی کوبڑےحسین رخ دےگیا۔پس رقیہ نےاصول لےلیاکہ زندگی اسی کلمہ کا ورد کرتےہوئےگزارنی ہے۔ صبح بیداری کےساتھ ہی رقیہ انتہائی خوش تھی کیونکہ دادی جان نےاپنی زندگی میں جس ورد سےزبان کوتررکھاآج بیداری کی دعاکےبعدرقیہ کی زبان پربھی وہی کلمات جاری تھے۔اس نےسب کواپنےخواب کےاحوال بتائےیہ خوشی کی خبرسن کرسب بجھےچہروں پرطمانیت آگئ اورہرایک نے رشک وشکرکااظہارکیارقیہ پکاراٹھی آخرانھیں ثمرتوملناتھا ناں سب نےبیک زبان کہارضیت باللہ رباکاثمرپاگئیں وہ۔۔۔۔اللہ اکبر وللہ الحمد




































