
بنت خلیل
صبح کے آٹھ بج رہے تھے۔ ناشتہ کر لینےکے بعد ہاتھ میں چائےکا کپ تھامے وہ گہری سوچوں میں گم تھا۔ ماضی کے اوراق کھل کھل کرسامنے
آرہے تھے.مستقیم اپنے ماضی اورحال کا متقابلی جائزہ لینےلگا... شادی سےپہلے کے دن اسے یادآنے لگےجب وہ اپنےچچا زاد بھائی کی طنزیہ باتوں میں آکر اپنے والدین سے بد زبانی کررہا تھا اور اس بدزبانی کی وجہ وہ لڑکی تھی جس سے اس کی شادی ہونے والی تھی... اس کے چچا زاد بھائی کی لو میریج تھی...وہ یادوں کے ورق کھنگال رہا تھا... کون سی یادیں تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ نہیں مٹ سکی تھیں...
باتوں باتوں میں اس کا چچا زاد بھائی بتارہاتھا کہ اس کی امی کہ رہی تھیں کہ تمہاری ہونےوالی بیوی کچھ خاص پیاری نہیں ہے...کم تعلیم یافتہ ہے... یہی وہ باتیں تھیں جو اسے اس کی ہونے والی شریکِ حیات سے بد ظن کررہی تھیں...اسے اپنے ماں باپ پر بہت غصہ آرہا تھااور غصے میں وہ اپنے ماں باپ کو پتا نہیں کیا کیا سنا آیا تھا... لیکن باپ کی بیماری کو دیکھ کر وہ شادی سے انکار نہ کر سکا... شادی کے دن قریب آ رہے تھے اورمستقیم دل ہی دل میں کڑھ رہا تھا اور پھر اسے وہ دن بھی یاد آئے جب وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی بہت خیال رکھنے والی بیوی کو نا چا ہتے ہوئے بھی بہت غلط باتیں کہہ دیا کرتا تھااور وہ شریف النفس چپ چاپ سب سہہ جاتی تھی...کبھی حرف شکایت تک منہ سےنہ نکالا... کبھی کبھار اس کے حوصلے پر خود بھی حیران ہو جاتا تھا... پھرآہستہ آہستہ اس نے دل میں جگہ بنا ہی لی تھی۔
اور پھر جب اس کا روز صبح نماز کے لئے یہ کہہ کر اٹھانا "کہ جنت میں میں آپ کے ساتھ جانا چاہتی ہوں " یاد آیا تو چہرے پرایک عجیب سی مسکراہٹ پھیل گئی...یادوں کے بھنورسے نکل کربیوی کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا تو اسے وہ لاؤنج میں بچوں کو قرآن پڑھاتی ہوئی نظر آئی... اس وقت وہ گویا کسی حور سے کم نا لگ رہی تھی اور پھر منہ سے بے ساختہ الحمداللہ نکلا
ایک پرسکون مسکراہٹ اس کے لبوں پہ دوڑ گئی... سوچ رہا تھا یہ وہی ہے جسے میں آٹھ سال پہلے کسی خاطر میں نہ لاتا تھا اور مجھے لگتا تھا کہ میں اسے کبھی بیوی کا مقام نہ دے سکوں گا لیکن وہ لڑکی ایسی صلاحتوں کی مالک تھی جو مٹی کو سونا کردے...آج وہ اپنے والدین کا بھی بہت شکر گزار تھا اور پھر سوچ رہا تھا کہ سب سے پہلے تو مجھے اللہ کا شکر کرنا چاہیے جس نے مجھے ہر چیز سے نوازا اور مجھے گمراہی اور پریشان کن حالات سے نکالا...بہترین والدین ،نیک شریک حیات، اولاد، رزق، عزت سب ہی تو ہے الحمداللہ
ابھی وہ اللہ کی نعمتوں کو شمار کر نے کی کوشش کرہی رہا تھا کہ اس کے چچا زاد بھائی کی کال آئی توآوازکچھ پریشان سی لگ رہی تھی... پوچھنے پر بتایا گیا کہ یار تیری بھابھی پھرسےروٹھ کر چلی گئی ہے۔
فون رکھنے کے بعدتلاوت کرتی ہوئی بیوی کی خوبصورت آواز کانوں میں گونجی... "وعسي ان تكرھو اشیأ وھوا خیرلکم وعسیان تحبو شیأ وھو شرلکم واللہ یعلم وانتم لا تعلمون" ہوسکتا ہے ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لئے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لئے بری ہو۔ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ (البقرہ ٢١٦)
آج اسےاس آیت کا مفہوم اچھے سے سمجھ آرہا تھااورآنکھوں سے تشکراور خوشی کےآنسو نکل رہے تھے۔وہ فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور اظہارِ تشکر کے لیے نفل ادا کیے...




































