
وردہ خان
اللہ تعالی انسانوں کی ہدایت اوررہنمائی کے لیے بےشمارانبیاء علیہ السلام کو بھیجتےرہےاور وہ اللہ تعالی کےاحکامات کو لوگوں تک پہنچا دیتے۔یہ سلسلہ
کافی عرصے تک جاری رہا لیکن وقت آگیا تھا۔ جب اس سلسلہ نبوت کو روک دیا جاتا۔ اس لیے اللہ تعالی نے اس سلسلےکااختتام اپنےآخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا اوراسی طرح آخری کتاب قرآن جوتمام کتب سماویہ میں (افضل واعلیٰ)کو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کیا گیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دین ہمیں دوصورتوں میں ملتا ہے۔ ایک "قرآن مجید" اور دوسری صورت "سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم" ۔قرآن مجید آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر23 سال میں تھوڑا تھوڑا کرکےنازل ہوا۔اللہ تعالی نے خود اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔
" اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتے ہیں۔" "بے شک ہم نے یہ قرآن اتارا اور بے شک ہم خود ہی اس کے محافظ ہیں۔"قرآن پاک میں آج تک کوئی رد و بدل نہ کرسکا اور نہ ہی کر پائے گا۔ قرآن مجید نے ہمیں زندگی گزارنےکےاحسن طریقےسمجھائے۔
قرآن پاک جس زبان میں نازل ہواتھا۔ وہ زبان آج بھی کئی ممالک میں بولی جاتی ہے۔ قرآن پاک کےعلاوہ جتنی بھی آسمانی کتابیں نازل ہوئیں۔ وہ کسی خاص قوم یا کسی خاص ملک پرنازل ہوئی تھیں لیکن واحد قرآن مجید ہے جو سارےانسانوں ورسارےزمانوں کےلیےقیامت تک ذریعۂ رشدوہدایت بنا کرنازل کیاگیا ہے۔ پہلی کتابوں میں سےبعض کتابیں ایسی ہیں جومختلف موضوعات پر مشتمل ہیں لیکن قرآن مجید تمام مسائل کامجموعہ ہے جس میں ہرمسئلے کا حل مل جاتا ہے۔جیسا کہ تجارت،سیاست ،معاشرتی آداب، طلاق، نکاح ،وراثت اور والدین کےحقوق وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
یہ ایک ایسی جامعہ کتاب ہےجس میں ہمیں ہرشعبے پر رہنمائی ملتی ہے ۔ قرآن تو ہمارے لیےخیر کا سرچشمہ ہے۔ اگرہم اس سے کسی بیماری کا حل چاہتے ہیں یا کسی پریشانی کا حل تویہ ہمارےلیےپیش پیش ہےمگریہ ہماری کم ظرفی ہےکہ ہم نےہدایت کےلیےتواسےپڑھا ہی نہیں بلکہ اپنےدینوی الجھےمسائل کوسلجھانےکےلیےضروراس سےمدد لیتے ہیں۔ ہم نےوظائف کی کتاب سمجھ رکھاہےاسے۔ یہ کتاب سچائی سے بھرپور ہے۔اب رہی بات قران مجید کی بے حرمتی پہ تو۔۔۔۔
اللہ تعالی نے جب اس دنیا کو بنایا اورانسانوں اورجن وانس کو پیدا کیا۔ ان کی ہدایت کےلیےاپنے پیغمبربھیجےاورساتھ ساتھ مقدس کتابیں اتاریں جیسا کہ تورات، زبور، انجیل، قرآن مجید اور کئی صحیفے تاکہ جن وانس ان سے ہدایت حاصل کرسکیں۔ آج تک کسی مسلمان نےیا کسی مسلمان انسان نے کسی آسمانی کتابوں کی توہین نہیں کی ۔
آخر کافرکیوں بے حرمتی کرتے ہیں قرآن پاک کی؟ کیونکہ ہم مسلمان توہیں مگر ہمیں خود نہیں پتہ قرآن کی قدروقیمت کا۔ہم تو صرف ثواب کی نیت سے پڑھتے ہیں۔ اس کی اہمیت ہمارے دلوں میں ایسی نہیں ہے، جیسی ایک مسلمان کےدل میں ہونی چاہیے ۔52 مسلم ممالک جن میں سے صرف دو تین ممالک ایسے ہیں جو اپنے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور قرآن مجید کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔
سویڈن جو دنیا میں جنت ماناجاتا ہے۔اس میں جہنم کے کرتوت ہوتےہیں۔ قرآن پاک کی توہین ہوتی ہے۔عید والے دن ایک ملعون نے جس کا نام "سلون مومی" ہے نے مسجد کے باہر جہاں مسلمان نماز عید ادا کررہے تھے۔ نماز عید کے بعد نعوذ باللہ نے قرآن کو شہید کیا اور جوتے صاف کیے۔
پھراس نے قرآن پاک کو آگ لگا دی۔اس چیزکی اجازت سویڈن کے کورٹ نے دی اوراسے آزادی اظہاررائے کہا کہ یہ ہر ایک کو حق ہے حاصل ہے ۔اگر وہ شخص یہ کہتا کہ میں سویڈن کا جھنڈا جلاتا ہوں یا جوتے صاف کرتا ہوں اس کے ساتھ تو کیا وہ لوگ اجازت دیتےاس کو اس کام کی؟سویڈن کے صدر اور وزیراعظم اس توہین کواظہار رائے کہہ کر نظراندازکردیتےکیا؟ قرآن پاک ہی مظلوم کتاب رہ گئی تھی ان کے لیے؟
آج امت مسلمہ کی بہت بڑی تعداد ایمان والےبہت بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن وہ اتنےکمزورہو گئے ہیں کہ اپنے مقدس کتاب اللہ تعالی کی اورآخری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بےحرمتی کی جارہی ہےتومسلمان کےکان پہ جوں تک نہیں رینگ رہی۔
اچھاتوجنہوں نے توہین کی انہیں تواللہ تعالی تباہ و برباد کرہی دیں گے لیکن امت مسلمہ کی غیرت کہاں ہے؟مسلم ممالک کہاں ہیں؟ کہیں مسلمانوں کی مسجدوں کو جلایا جاتا ہے۔۔مسلمانوں کو ان لوگوں کو پہچان لینا چاہیے اب۔۔۔
اےمسلمانو! ان کےمکروہ چہرے پہچانو۔۔آج ان کی ہمت جرات یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ ہماری مقدس کتاب کی بےحرمتی کر رہےہیں لیکن آج کے مسلمان کیوں خاموش ہیں؟ کیوں نہیں ان کےخلاف کوئی قدم اٹھاتے؟
آج اگرارتغرل غازی، سلطان عبدالحمید، محمد بن قاسم، حجاج بن یوسف، طارق بن زیاد اورسلطان صلاح الدین ایوبی جیسےعظیم مجاہد اور ہمارے تابناک ماضی کے درخشاں ستارےموجود ہوتےتوکیا یوں ہی ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہوتے؟
حقیقت جانتے ہیں کیا ہے؟ ہم امت مسلمہ ہونے کا حق ادا ہی نہیں کر سکےجس منہج ومقصد کی خاطریہ کتاب اتری اس مقصد پرہم نےکبھی گہری سوچ دوڑائی ہی نہیں۔
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور ہم خوار ہوئے تارک قران ہو کر
آج ذراایک نظر تو ڈالیے اپنی نوجوان نسل پر۔ کیاایسےہوتے ہیں مسلمان؟
ذرا خوداپنےگریبان میں نظرمارکرہم اپنےآپ سے پوچھیں کیا ہم نے قرآن کا حق ادا کر دیا؟ ہماراضمیرکچوکےلگاتا ہےلیکن ہرضمیرکی آوازکوہم نےدبارکھا ہے،تبھی توکچھ کرنہیں پاتےہم۔آج اگرکائنات کی مقدس کتاب کےساتھ یوں ظالمانہ سلوک کیاگیا توہم اٹھےہیں کہ احتجاج کریں۔ ورنہ بےہوش اپنی خوابگاہوں میں ہم پڑےہوتےہیں دنیا کےعلوم کلیہ پردسترس ہےمگرافسوس کہ ہم قرآن نہیں پڑھتے،قرآن نہیں سمجھتے،قرآن ہی پرعمل نہیں کرتے۔
آج کفار ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور قرآن پاک کی بے حرمتی صرف مسلمانوں کی غیرت کو آزمانے کے لیے کرتے ہیں۔آج بھی اگر مسلم ممالک اپنے اپنے ملکوں میں اتفاق کریں اور اس کا نفاذ کریں تو کسی کافر ملک یا کسی کافر انسان کے جرات نہیں ہوگی کہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کریں یا قرآن پاک کی بے حرمتی کریں۔
ورنہ یہ تماشا لگا رہے گا
قرآن کو جلاتے ہو
بدبختی تمہاری ہے
ذلت بھی مقدر ہے
رسوائی تمہاری ہے
قرآن کو جلاتے ہو
بدبختی تمہاری ہے
ذلت بھی مقدر ہے
رسوائی تمہاری ہے۔
کیوں اہل سویڈن تم گستاخیاں کرتے ہو؟
حرکت نہ کسی کو بھی یہ بھائی تمہاری ہے
قران کو سمجھ گر نوبت یہ نہ آئے پھر۔
نہ سمجھی میں بھرتی ہے گوستاخی تمہاری ہے
قرآن کو جلاتے ہو
بدبختی تمہاری ہے
ذلت بھی مقدر ہے
رسوائی تمہاری ہے
کیوں عقل پہ پردہ ہے شیطان سے یاری ہے؟
کیوں عقل پہ پردہ ہے شیطان سے یاری ہے؟
کیوں آگ میں جلنے کی تیاری تمہاری ہے ؟
کیوں آگ میں جلنے کی تیاری تمہاری ہے؟
قرآن کو جلاتے ہو
بدبختی تمہاری ہے
ذلت بھی مقدر ہے
رسوائی تمہاری ہے




































