
انیلا کوثر/جھنگ
جب پاکستان بنا تو یہ نعرہ عروج پہ تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔ پاکستان بننے کے بعد کئی دہائیوں تک یہ نعرہ زباں زد عام رہا۔
ہرالیکشن پر یہ نعرہ لگایا جاتا---ہر اچھے موسم میں بچوں نےاسے گنگنایا۔حتیٰ کہ ماؤں نے اپنے بچوں کو لوری کے طور پر بھی سنایا۔مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنے بچوں کو دو ترانے بہت سنائے۔آؤ بچو! سیر کرائیں تم کو پاکستان کی جس کی خاطر دی قربانی ہم نے لاکھوں جان کی اوردوسرا ترانہ یہ دیس جگمگائے گا نورلا الہ سے۔ یہ شہر جگمگائے گا نور لا الہ سے اور ان کے ساتھ یہ نعرہ بھی۔"پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ"۔
میں نے اپنےبڑے بیٹےکی شادی جلدی کردی۔ اللہ نےاسےدو بچوں سے نوازا۔ کل بڑا بچہ کسی بات پہ مچل گیا۔اسے بہلانے کے لیے میں نےگنگنا دیا پاکستان کا مطلب کیا-- لا الہ الا اللہ
میرے ذہن میں تھا کہ یہ چھوٹےبچےبھی ہروقت موبائل سے ہی چپکے ہوئے ہیں۔ان کے کان لا الہ کی آواز سےآشنا ہوں۔ پاس ہی میراچھوٹا بیٹا بیٹھا تھا۔ جیسے ہی میں نے کہا کہ پاکستان کا مطلب کیا "لا الہ الا اللہ۔"اس نے فوراً کہا اب تو پاکستان کا مطلب لا الہ نہیں رہا۔میں نے حیران ہو کر اس کی طرف دیکھا۔ چھٹی کلاس کے بچے کا بے ساختہ تبصرہ مجھے چونکا گیا۔میں نے پوچھا کیوں بیٹا اب اس کا یہ مطلب کیوں نہیں۔اس نے شانے اچکاتے ہوئے جواب دیا---جو ہماری حکومت کررہی ہے-- جو ہمارے ارد گرد ہو رہا ہے مجھےتو نہیں لگتا کہ پاکستان کا مطلب لا الہ الا اللہ رہ گیا ہے۔ یہ کہہ کر میرا بیٹا تو اٹھ کرباہر چلا گیا--- اورمیں اسی وقت سے اسی سوچ میں غرق ہوں کہ بچے جھوٹ نہیں بولتے۔ نئی نسل چاہےعمرمیں چھوٹی ہے ابھی، لیکن اس کا فہم زیادہ ہے۔میرے بچےکابےساختہ، بےلاک تبصرہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔
کیا اب--- پاکستان کا مطلب ہے "جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔" "بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لو۔" یا پھر------ 1947 کی طرح یہ نعرہ ہمیں نئے سرے سے لگانا ہوگا۔ لا الہ الا اللہ کی تفصیل، تفسیر اورتمام اغراض و مقاصد نئی نسل کو بتانا ہوں گے۔ تاکہ آنے والے وقت میں نئی نسل اس کا نفاذ کرسکے۔ ابھی تو بس
لا الہ کے دیس میں،کشور حسین پر
المیہ ہی المیہ، پاک سر زمین پر
نوٹ: ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )




































