
الھام مجید
تاریخ کےاوراق سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بلند حوصلگی تعلق باللہ کی بےنظیرمثال پیش کرتےہیں۔ ایک طرف ایک بزرگ باپ کی قربانی کہ ایک
باپ نے دنیا کی سب سےمحبوب ترین چیزکواللہ کےحکم سےاللہ کی راہ میں قربان کرڈالنےکا پختہ عزم کیا تو دوسری طرف ننھے بیٹے نےاپنے آپ کو قربانی کےلیے پیش کردیا اورماں جس کی ممتا کےسائےمیں آج کائنات آباد ہےسیدہ ہاجرہ نےحکم اللہ پرکوئی چون وچرا نہیں کی ۔ یہ وہی خاتون ہیں جنہوں نےاس سےقبل بیٹےاسماعیل کی پیدائش پرپامردی وثابت قدمی کامظاہرہ کیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نےاللہ کےحکم سے اپنی بیوی اوربچے کوبیابان صحرا میں اورتپتے سورج میں چھوڑ کراپنی محبت وجذبات کی قربانی کی بےنظیر مثال قائم کی۔ یہ سب قربانیاں اللہ کو اس قدر پسند آئیں کہ اسے مسلمانوں کی عید کا حصہ بنا دیا اور تو اور انہی ارکان یعنی قربانی وسعی کو ادا کرنے سے مسلمانوں کاحج مکمل ہوتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ قربانیاں ان ہی کےلیے ہی تھیں یا ہم بھی ابراہیم، اسمعیل اور ہاجرہ جیسی بےمثل قربانیوں کی مثال پیش کرسکتےہیں۔
خانوادۂ ابراہیم علیہ السلام کی قربانیاں ،توکل علی اللہ اورتعلق بااللہ ،ہمارےلیےقربانیوں کابہت بڑادرس اپنےاندرسموئے ہوئے ہے۔ان کےسیرکامطالعہ کرکےہم بھی مختلف قربانیاں دےسکتے ہیں۔ مثلاً
خواہشات وجذبات کی قربانی
ریاکاری جیسےوصف کی
نفس امارہ کی اکساہٹوں کی قربانی
رویوں کی قربانی
جذبات اور خواہشات کی قربانی
ہماری قربانی ہم سےمختلف قربانیاں مانگتی ہے۔ وہ سیدہ ہاجرہ بھی ہیں جوکہ بےشمارجذبات وخواہشات کی قربانیوں کا پیکراورعصرحاضرکی خواتین بھی۔۔ اگرموازنہ کیاجائےتومعلوم ہوگا کہ آج کی عورت ہراس بات کوماننےسےانکارکردیتی ہےجواس کی مرضی کےخلاف ہوتی ہے۔ایئرکنڈیشنڈرومزمیں بیٹھ کربھی ناشکری اورکم ظرفی کااظہارہی دیکھنےکوملتاہے مگرہماری اماں کی قربانیاں ہمیں سبق دیتی ہیں کہ اللہ کےدین کےلیےاسلام کےلیےہرچیزکی قربانی پیش کرنےکےلیےکمربستہ رہواوربھی ضرورت پڑےمجادین کارزارمنتظرہیں تواپنےجگرگوشوں کواپنےاسماعیلوں کواللہ کی راہ میں قربان کردو۔
یہ توبہت بڑامطالبہ ہےمگرہم اتناتوکریں ہماری خواہشات اورآرزوئیں جواللہ کےاحکامات سےٹکراتی ہیں انہیں قربان کردیں۔
ریاکاری جیسےوصف کی قربانی
آج ہم اپنی سیئات کےستاراوراپنی حسنات کےریاکاربنےہوئےہیں۔اسی طرح قربانی کےموسم میں بھی یہ وصف انسانوں کےدلوں میں اجاگرہوتا ہےاس سےبچنا انتہائی ضروری ہے۔ورنہ انسان کواس کی حسنہ کااجرملنا توالگ بات ہےریاکاری کاگناہ ملےگا۔اوراللہ کافرمان:
لن ینال اللہ لحومھاولادمآءھاولکن ینال اللہ تقوی القلوب
پس موسم قربان میں ہمیں ریاکاری جیسےوصف کی قربانی بھی کرنی چاہئےتاکہ بدلےمیں خلوص جیسی نعمت حاصل ہو۔
نفس عمارہ کی اکساہٹوں کی قربانی ۔۔۔۔آج دیکھنےکوملتاہےکہ ہرفرداپنےنفس کاغلام بنا بیٹھا ہے۔ نفس اگرحدوداللہ کےساتھ ٹکرانےکاحکم دیتاہےتواس کےحکم پرلبیک کہاجاتاہے۔ نفس عمارہ زناو بد کرداری اوربرے خیالات پراکساتا ہےتوانسان ان کی تکمیل کرتاہےمگریہ خانوادۂ ابراہیم علیہ السلام کاکردارآئینےکی مانند ہماری اصلاح کےلیےپیش پیش ہمیں ان سےغیرضروری عادات وعملیات کوقربان کرناسیکھناچاہئے۔
رویوں کی قربانی
ہم سنت ابراہیمی کےطورپرجانورتوقربان کرتےہیں اگر انسان اپنی انا،ضد،حسد،بغض،لالچ،کینہ،شح نفس اورتمام رنجشوں اورنفرتوں کواللہ کےلیےقربان کرڈالیں توبھی قربانی کا مقصدپورا ہوسکتا ہےاورشایدان ہی خاص مقاصدکےلیےذوالحجہ/قربانی کاموسم آتاہے ۔
گَلا کاٹیں ،اِسی قربانی میں اپنی ” اَنَا ” کا بھی
تکبر اور نَخوت کو چلو قربان کر ڈالیں
اگر چلنا ہے ابراہیم و اسماعیل کے رستے
زمانے کی ہر الفت کو چلو قربان کرڈا لیں
ہمارا ہر عمل ، اخلاص ہی کے دائرے میں ہو
ریاکاری کی فطرت کو چلو قربان کرڈالیں
ذبیحُ اللہ سے سیکھیں اطاعت آشنائی ہم
کہ جان و دل کی ثَروت کو چلو قربان کر ڈالیں
ہمارا جینا مرنا ، ہو فقط اللہ کی خاطر
ہر اک خواہش کو، لذت کو چلو قربان کر ڈالیں




































