
عرشیہ شاہد
سلام اس شخصیت پرجس نےراہ حق میں اپنی وفاکومکمل کردیا۔ آخروہ شخصیت کون تھی؟ اس نے ایسا کون ساکام کیا تھا؟
وہ شخصیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تھی ،جنہوں نےاللہ تعالی کی راہ میں وفاداری اوردانش مندی اوربہادری کےساتھ اللہ تعالی کے ہرحکم اور ہر امتحان پر لبیک کی صدا بلند کی۔ رشک وحسرت ان کی ہر پیروی واطاعت پرجوانہوں نےاللہ کےحکم سےکی۔
بچپن ولڑکپن میں بت پرستی کواپنےمعاشرےمیں عروج وکمال کی حدپردیکھا مگران بتوں کواپنارب کبھی نہ سمجھا۔بہت ہی محبت اورپیارکےجذبات اس ذات کےلیےجو اتنامواحد تھا کہ بتوں کو توڑابھی اور شرک کی لعنت سےبیزاری کااعلان کھلےلفظوں میں کیااورفرمایا:"انی بریء مماتشرکون"۔کیا وصف خاص نظرآتاہےاس جملےمیں؟کہ اگربت بنانےاورسجانےوالامیراباپ ہی کیوں نہیں اگریہ رب واحد کےساتھ شرک ہےتو میں اس سےبری ہوں۔آخریہ کیا تھا ؟یہ وفاداری نہیں تواورکیاہے؟یہ حب توحید نہیں تواورکیاہے اورکبھی توتوحید کےاس دردکومشرکوں کےقلوب پر نافذ کرنے کے لیےطرح طرح کی تراکیب لڑائیں۔ اپنی جان کی پروانہ کی مشرکوں کےبتوں کےٹکڑےٹکڑےکردیےکہ وہ سمجھ جائیں کہ یہ خدائی اوصاف نہیں رکھتے۔ اس جرم میں ظالموں نےسیدنا ابراہیم کوجلانےکےلیے چالیس روزتک چخہ جلائی اوراس میں ڈال دیا تو پھر کیا ہوا؟
مشرکین توظالم تھےمگراللہ تورحمدل تھااس نےاپنےمواحدپرآگ کوٹھنڈااورسلامتی والابننےکاحکم دیا کہ شدید ٹھنڈی ہوکربھی آگ ابراہیم علیہ السلام کانقصان نہ کرے، اس لیےباسلامت ہونےکاحکم بھی دیا۔سلام ذات پر جس کے برگزیدہ اورسلیم القلب ہونےپراللہ تعالی بھی مہربان ہے۔
پھرشادی کےبعدحضرت ہاجرہ کےبطن سےبزرگی وبڑھاپےکاسہارااسماعیل علیہ السلام اللہ کاانعام ملےلیکن یہ کیا ہوابےشماردعاؤں کےنتیجےمیں اللہ نےںیٹاعطا کیا توفرمایا انہیں صحرامیں چھوڑآؤ۔چنانچہ آج جہاں حرم کی مقدس فضائیں ہرایک کومسحورکررہی ہیں، اس سرزمین پرسب سےپہلےابراہیم علیہ السلام نےاپنےخاندان کوچھوڑااوراس خطےکوآباد کیا یہ ادااللہ کواتنی پسندآئی کہ ہمیشہ کےلیےابراہیم علیہ السلام کوخلیل اللہ کالقب عطافرمایا۔ ابراہیم علیہ السلام توبیوی بچےکواللہ کےحکم اوراس کےسہارے پرچھوڑکرواپس آگئے۔ سیدہ ہاجرہ اپنےمعصوم بچےکےساتھ وہاں رہیں پھروہاں حرم پرہی آب زم زم کےمعجزات ہوئےجب پیاسےاسماعیل کوسیراب کرنےماں بےقراری سےصفا ومروہ پرچڑھتی ہےتواللہ تعالی کوبےقراری سےماں دوڑنااتناپسندآیاکہ تاقیامت ایسےپانی کاچشمہ رواں کیاجس میں شفائیں پنہاں ہیں اور حضرت ہاجرہ کی سنت کوایک بڑی عبادت کاجز قراردیاجسےحاجی بطورسعی اداکرتےہیں۔اس کےبغیرحج نہیں ہوتا اللہ اکبراورپھربہت ہی کڑاامتحان کہ86 سال کی عمر میں اللہ تعالی نےڈھیروں دعاؤں کےنتیجےمیں جوبیٹاعطاکیا۔ اسےہی اپنی راہ میں قربان کرنےکاحکم دیا۔
بیٹا بھی اتنا نیک اور پرہیزگار تھا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بتایا کہ بیٹا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں آپ کو قربان کر رہا ہوں۔ تو بیٹے نے کہا کہ بابا آپ کو اللہ تعالی کا حکم ہے اور اللہ تعالی کا حکم کی پیروی کریں۔
رشک وحسرت ابراہیم علیہ السلام کی ہر پیروی واطاعت پرجوانہوں نےاللہ کےحکم سےکی۔ان کابچپن ،لڑکپن ،جوانی،ادھیڑعمری اوربڑھاپاابتلاؤں آزمائشوں اورنتیجےمیں سنہری کامیابی کےساتھ گزرا۔امتحانات میں کامیابیاں ہی کامیابیاں حاصل کیں تو اللہ تعالی کو اپنے بندے کی یہ محبت،ایمان کی پاکیزگی اورخلوص اتنا پسند آیا کہ قیامت تک ان کی سنت کوزندہ رکھا۔ یہ کونسی سنت اورکونسی قربانی؟جب زمین اورآسمان بھی رشک آمیزہوئےہوں گےکہ ایک باپ صرف اللہ کی محبت واطاعت کےجذبےمیں اپنےبیٹےکی گردن پرچھری چلادیناچاہتاہےمگراللہ تواسرارپوشیدہ سےواقف ہے،اللہ کی محبت سےسرشارننھےبیٹےکی ننھی گردن پہ چھری چلانےکی ادا کوبھانپ لیا اوردنبہ بھیج کران کا ذبیحہ قبول فرمالیا۔ یہ سنت براہیمی جسےتاقیامت اہل استطاعت پرلازم قراردیا۔
سنگلاخ سی وادیوں میں
منہ دیکھنےکوسرہے
چھری تلےبھی سرہے
اک خواب کااثرہے
چھری نہیں کیوں
گردن نہیں کٹی کیوں
کس کاحکم چلاہے
اللہ بہت بڑاہے
اللہ بہت بڑاہے
اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی اِبراھیم وعلی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید۔
اللھم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علٰی اِبراھیم وعلی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید۔




































