
نورالسحر اظہار
شوہر نے جب نیک سیرت بیوی کوننھے بچے کے ساتھ انجانے سفر کی اطلاع دی تو نہ وہ چونکیں نہ کسی تردد کا اظہار کیا۔ کہاں جانا ہے۔۔۔ سفر
کتنےدن کا ہے۔۔۔واپسی کب ہے۔۔۔کچھ معلوم نہیں۔۔۔ مزید یہ کہ نھنے بچے کے ساتھ ریگستان وبیابان کا تھکا دینےوالا پرخطرسفر ۔۔۔اور بچہ بھی وہ جو اس جوڑے کو پیرانہ سالی میں بڑی دعاؤں مرادوں کے بعد نصیب ہوا تھا۔ ۔سودلیلیں موجود تھیں لیکن بخت آور بیوی اطاعت رب کے بعد شوہر کو مجازی خدا گردانتی تھیں۔۔۔سو ایمان کی کے بل بوتے پر آنکھوں میں یقین کی جوت جگاۓ،شیر خوار بچے کو سینے سے چمٹائےسواری پرشوہر کےپیچھے پورے اعتماد سے بیٹھیں تھیں۔۔۔ جبریل امین کی اقتدا میں یہ خاندان عازم سفرتھا۔ پرخطر جنگلوں، پہاڑوں،ویرانوں سے ہوتی ہوئی یہ سواری بالآخر ایک ایسے مقام پررک گئی جسے ریگستان کہتے ہیں۔ جہاں دور دور تک نہ سبزہ نہ کسی چرند پرندکا نام ونشان۔۔۔ ریت ہی ریت ہے اورجابجا ریت کے ٹیلے۔۔ جہاں سورج کی تپش سے ہر شےجھلس جھلس جاتی۔۔ایسے مقام پر آدم یا آدم زاد کا تصور دیوانے کا خواب ہوسکتا ہے۔۔۔ حقیقت نہیں۔۔۔خدا کی یاد میں مستغرق شوہر اپنے لخت جگر اوروفا شعار بیوی پر الوداعی نگاہ ڈال کر وآپس پلٹتا ہے تو نیک سیرت بیوی بے قراری کے عالم میں پوچھتیں ہیں"کہاں چھوڑے جارہے ہیں"جواب ندارد۔ دوبارہ گویا ہوتیں ہیں کیا اللہ کا حکم ہے۔۔۔ شوہر کا سراثبات میں کیا ہلتا ہے بے چین دل سکینت سے آشنا ہوتا ہےاور بے اختیار کہہ اٹھتیں ہیں "پھر رب ہمیں ضائع نہیں کریگا"۔۔چشم تصور سے دیکھیے ایسی صورتحال میں آج کی عورت اپنے شوہر سے کیسے کیسے گلےشکوہ کرتی۔ دلائل کے ذریعے زیر کرنے کی کوشش ہوتی۔۔۔کڑروں سلام تسیلم ورضا کی اس پیکر پر۔۔۔جب شوہر نے بیوی کو اللہ کی ذات سے تمام توقعات وابستہ کرتےدیکھا ہوگا تو معصوم بچے اور بیوی کو بیابان میں چھوڑنا کیساآسان بناگیا ہوگا۔
یہ یقین ہی کی دولت تو تھی جب بچہ بھوک سے بلبلانےلگا تو ماں جسم وجان کےرشتے کو برقراررکھنے کی آس میں تڑپ کراللہ پر بھروسہ کیے ہوۓ قریبی پہاڑ پر پہنچ گئی پھر بچے کی حفاظت کے خیال سے نیچے آگئی۔۔ بار بار یہ عمل دھراتی رہی لیکن نہ پایۂ استقامت میں لرزش آیا نہ ایمان متزلزل ہوا۔۔اللہ سے مانگنے کا یہ انداز انھیں رب کی نگاہ میں معتبر کر گیا اور انکے نقش پا پر دوڑنا ہر عاشق رب پر لازم ٹہھرا۔۔۔بلاشبہ جب توقعات یقین میں بدل جائے تو معجزے جنم لیتے ہیں۔۔۔جیسے بھوک سے تڑپتے ننھے اسماعیل کی ایڑیوں کے رگڑ سے اس تپتے ریگستان میں چشمہ پھوٹ پڑا۔۔۔جس سے دنیا آج تک سیراب ہوتی چلی آرہی ہے۔۔۔جو دوا بھی ہے اور شفا بھی۔۔۔
بے شک یہ مثالی خاندان ہمیشہ ہمیشہ کے لئےامرہوگیا اور اللہ پر توکل کےساتھ ساتھ تمام مستورات کوبی بی ہاجرہ کی شوہر سےوفا شعاری کا سبق دے گیا۔۔




































