
ہادیہ بنت مریم
وَاِب٘راہِی٘مَ الَّذِی٘ وَفّٰی
(اور ابراہیم نے وفا کا حق ادا کردیا)
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے کشادہ آڈیٹوریم میں آج کا یہ پُر وقار سیشن منعقد ہوا تھا-سیشن کا مقصد ذوالحجۃ کے مبارک ماہ میں کرنے والے کاموں پر روشنی ڈالنا تھاجن کے ذریعے اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کی جا سکتی ہے- جہاں شرکا سے آڈیٹوریم کھچا کھچ بھرا تھا ، وہیں مختلف اسپیکرز بھی منفرد موضوعات لیے امت کے نوجوانوں کو نورِ ایماں سے منور کرنے کے لیے موجود تھے-ہراسپیکر کو بولنے کا مقررہ موضوع اور وقت دیا گیا تھا-
استاذ عمّار محسن کو ابراہیم علیہ السّلام خلیل اللہ کی زندگی پر روشنی ڈالنی تھی- اور اُن کی زندگی سے اپنے لیے مشعلِ راہ ڈھونڈنی تھی- جون کا شدید گرم دن تھا ، آڈیٹوریم میں اے .سی پوری آب و تاب سے چل رہا تھا اور آنے والوں کا ٹھنڈی ہواؤں سے استقبال کر رہا تھا- مہمان آتے جارہے تھے اور تمام کرسیاں رفتہ رفتہ بھرتی جا رہی تھیں…. پس منظر میں خوبصورت اناشید چل رہی تھیں جو دھیمی دھیمی روشنی کے ساتھ آڈیٹوریم کے ماحول کو مزید پرسوز اور دل نشین بنا رہی تھیں-
تقریب کا آغاز نہایت حسین قراءت سے کی گئی تلاوت اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا .. دو اسپیکرز کے بعد استاذ عمّار تیسرے نمبر پر ایک خوشگوار مسکراہٹ کے ساتھ ڈائس پر موجود تھے - "السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ !" انہوں نے سامعین کو ایک خوبصورت مکمل سلام پیش کیا- " وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ ! " حاضرین کو جیسے صرف انہی کے بولنے کا انتظار تھا کیوں کہ اس بار جواب نہایت پرجوش تھا-
" تو انصار اللّٰہ کیسے ہیں ؟.. اور ایمان کی حالت کیسی ہے ؟ " .. کتنا خوبصورت طریقہ ہے نا احوال پوچھنے کا- " الحمدللّہ! " نوجوان یک آواز جواب لیے حاضر تھے -" الحمدللّہ! ، اب مزید بہتر ہوجائےگی ، ان شاء اللہ ! ، چلیں پھر شروع کرتے ہیں." سامعین میں سے بے شمار نے اثبات میں گردن ہلائی.
" جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں ہمارا آج کا عنوان ابراہیم علیہ السّلام کی زندگی ہے جس سے ہم نے سبق حاصل کرنا ہے ، اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپٔ کا لقب خلیل اللہ ہے تو میرا آپ سب سے ایک سوال ہے … آپ سب کے نزدیک دوست کیا ہوتا ہے ؟ "... سوالیہ نظروں سے آڈیٹوریم میں موجود لوگوں کو دیکھا.
"وفادار !"
" قابلِ اعتماد !"
" بھروسہ مند !"
دور بیٹھے لوگ تو چپ ہی تھے مگر قریب سے کئی جواب آنے لگے"ہمم ، جی بالکل ! سب سے اچھا دوست سب سے وفادار ہوتا ہے اور بالکل وہ قابلِ اعتماد بھی ہوتا ہے ..اب اللّٰہ نے ابراہیم علیھ السلام کو اپنا خلیل کہا تو ہمیں دیکھنا چاہیے نا کہ ایسا کیا خاص تھا اُن میں جو وہ اتنے بلند مقام پر فائز ہوگئے .. ہوں ؟".... سر ہلا کر گویا تائید مانگی اور دوبارہ گویا ہوئے ۔ خلیل سے مراد ہے دلی دوست ، گہرا دوست ، سچا دوست اور ایسا دوست جس کی دوستی میں محبت غالب ہو … ایک سچا دوست جوآپ کا ہم دم ہوتا ہے ..
اللہ تعالیٰ کے لیے اتنی اہمیت کا حامل ہونا کوئی آسان بات تو نہیں ہے نا… دیکھیں جب ہم انسان بھی اپنا کوئی خلیل چنتے ہیں تو سوچ سمجھ کر چنتے ہیں .. ربّ العزّت نے بھی ابراہیم علیھ السلام کو چننے کے لیے مختلف مراحل سے گزارا .."
تمام افراد ہمہ تن گوش دم سادھے بیٹھے تھے اورآڈیٹوریم کی پر سکون خاموشی میں صرف استاذ عمّار کی آواز گونج رہی تھی.
" ابراہیم علیہ اسلام کے والد مشرک تھے اور نہ صرف بتوں کو پوجتے تھے بلکہ خود اپنے ہاتھوں سے تراشا کرتے تھے ، جب ابراہیم نے اللہ ﷻکو بذاتِ خود پہچان لیا اور نبوّت جیسی زمہ داری کے حامل ہوئے تو ظاہر سی بات ہے انہوں نہیں اپنے والد کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے کی بھرپور کوشش کی .. بار ہا قرآن میں اس کا ذکر ملتا ہے کہ کس خوبصورتی سے انہوں نے " پیارے ابا جان! پیارے ابا جان! " پُکار پُکار کر ان کو ہدایت کی راہ دکھلائی مگر ابّا نہ مانے ..
اب کیا تھا … خود نبی تھے ، شرک کے انجام سے واقف تھے ، کوئی اور حل نہیں ملا تو رب سے التجا کر رہے ہیں
وَاغْفِرْ لِاَبِىٓ اِنَّهٝ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيْنَ
”اور میرے باپ کو بخش دے کہ وہ گمراہوں میں سے تھا۔“ لیکن رب کی طرف سے صاف انکارملتا ہے تو کیا کرتے ہیں ، سرِ تسلیم خم کر دیتے ہیں اور رب سے وفادار ہونے کا ثبوت دیتے ہیں. .
اس کی بدلے میں باپ کو کہاں پاتے ہیں ؟ آگ میں ڈلوانے والوں میں سب سےآگے پاتے ہیں … اللّٰہ واحد معبود ہے اس اقرارِ جرم کی پاداش میں جب کہا جاتا ہے آگ میں کود جاؤ تو پھر رب سے وفاداری نبھاتے ہوئے کود پڑتے ہیں اور دیکھیں یہاں سے معلوم ہوتا ہے نا کے اللہ نے خلیل کیوں کہا .. ابراہیم رب کے وہی دوست ہیں جن کی دوستی میں محبت کو غلبہ حاصل ہے - "
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
ہزار بار کی سنی ہوئی یہ کہانی آج جذبہء ایمان کو دوبارہ ترو تازہ کر رہی تھی- " وفاداری کے صلے میں اللّٰہ نے اپنے دوست کو آگ سے محفوظ کردیا …. مگر تھوڑے ہی عرصے بعد دوبارہ اسی وفاداری کا امتحان شروع کردیا .. اب کی بار ابراہیم کی شدّت سے کی گئی خواہش پر جب دوسری بیوی سے اولاد دی تو اللہ ربّ العزّت نے اپنے قابلِ بھروسہ دوست کو حکم دیا اس محبوب ترین بیوی اور شیر خوار بیٹے کو فلاں صحرا میں چھوڑ جاؤ!آہ ! نوجوانو ! سوچو کتنا مشکل ہے اس حکم پر عمل در آمد کرنا ..کیا آسان ہے اپنی محبوب شے سے یوں اتنی آسانی سے دستبردار ہوجانا؟… اپنے دل پر ہاتھ رکھیں اور سوچیں!"
استاذ عمار محسن نے نوجوانوں کو مخاطب کر کے احساس دلانے کی کوشش کی .." ابرہیم کا اس حکم پر کیا ردِّ عمل ہے … پھر وہی سَمِع٘نَا وَ اَطَع٘نَا ' ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی ' ..بلا چوں چرا ایک دفعہ پھر رب پر ثابت کردیا کہ ہاں میرے نزدیک آپ ہی اہم ہیں …آپ سے وفا ہی میری صفت ہے - ٹھیک ہے مگر یہ کیا ؟؟؟..
اب جس بچے کو رب کے حکم پر صحرا کے حوالے کیا تھا وہ خوبرو نوجوان بن گیا ہے… باپ کا بازو بن سکتا ہے ،اس کے بڑھاپے کا سہارا ہے ، باپ کی تمام محبت کا اکلوتا حقدار ہے اور اتنے سالوں بعد باپ بھی اس کی اُلفت میں سرشار اس سے ملنے آیا ہے … رب کو ادھر بھی ابراہیم کی اپنے لیے محبت ، وفا اور قابلِ اعتماد دوست کی حیثیت کو جانچنا ہے ..کہیں مُجھ سے زیادہ اس اولاد کی اہمیت تو نہیں ہوگئی ؟ کہیں ابراہیم پر اولاد کی محبت میری محبت سے حاوی تو نہیں ہوگئی … چلو آزما لیتا ہوں ۔
نیا حکم تیار ہے …اے ابراہیم ! یہ جو بیٹا ہے نا تیرا ..جو بڑھاپے کےانتہا پر شدید چاہتوں اور دعاؤں سے ملا تھا ،جس سے تو اتنے سالوں بعد ملنے آیا ہے ، ایسا کر اس کی گردن پر چھری چلا دے اور اپنی وفاداری اور محبت کا ثبوت پیش کر .. "
"اُمتِ مسلمہ کے وارثو ! انصار اللہ ! کیا محسوس کرتے ہو ؟ آسان آزمائش ہے یہ ؟ کیا تم میں سے کوئی رب سے اتنی محبت کرتا ہے کہ اس کے لیے اپنی اولاد بھی وقف کر دے ؟ چلو اولاد اپنے سے بھی زیادہ جان سے پیاری ہوتی ہے .. کیا تم میں اتنی ہمت ہے، اتنی لگن ہے کہ رب کی خاطر خود کی جان قربان کر دو ؟ ہماری تو یہ اوقات ہے کہ رب کا حکم آتا ہے بلکہ رب کی طرح سے دعوت آتی ہے
حَی عَلی الصَّلاةِ ۔ حَیّ عَلی الْفَلاحِ
”آؤ نماز کی طرف “، ”آؤ کامیابی کی طرف“ اور ہم چادر میں منہ لپیٹے یہ الفاظ ایک کان سے سن کر دوسرے تک پہنچنےبھی نہیں دیتے..ہم سے اپنی نیند کی قربانی نہیں دی جاتی …
میرے ساتھیو! رب سے وفا ایسے ہی باتیں بنانے سے نہیں ادا ہوجاتی .. دو چار باتیں سن لی دو چار سنا دیں اور سمجھ لیا کہ ہم اللہ کے وفادار بن گئے ؟ بالکل نہیں -"پھر وہیں سے بات کو جاری رکھتے ہوئے استاذ کی آواز گونجتی ہے :" ابراہیم پھر سے رب کی رضا . رب کے حکم کے آگے سر جھکا دیتے ہیں اور بیٹے کو اس کی رضامندی سے قربان گاہ لے جاتے ہیں .. بیٹے کو لٹا دیا ہے ، آنکھ پر پٹی بھی باندھ لی ہے اور اب بس چھری پھیری ہی ہے کہ ندا آتی ہے " اے ابراہیم تم نے وفا کا حق ادا کردیا ! تمہاری قربانی قبول کر لی گئی ہے !" بیٹے کی جگہ دنبہ ذبح ہوجاتا ہے مگر رب پر ابراہیم کی وفا ایک بار پھر ثابت ہو جاتی ہے."
آڈیٹوریم میں بیٹھے افراد کے رونگٹےکھڑے ہورہےتھے۔چند ایک کی آنکھ سےتو اشک بھی رواں تھے .." رب سے وفا کا صلہ بڑا خوبصورت ہوتا ہے .. بالکل ویسا جیسے ابراہیم علیہ السلام کو ملا .. رب کے ہر حکم پر عمل کیا اور جان بھی بچ گئی ..بیٹا بھی بچ گیا .. الگ سے انعام کیا ملا …رب کی دوستی ، خلیل اللہ کا لقب اور پھر ربّ کائنات نے اپنے معزز ترین کلام میں نہایت حسین اعتراف کیا کہ آنے والا ہر شخص قیامت تک گواہ رہے گا .
وَ اِب٘رَاہِی٘مَ الَّذِی٘ وَفّٰی °
"اور ابراہیم نے وفا کا حق ادا کردیا"
" بلا شبہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السّلام نےرب سے وفا کا حق ادا کردیا " اب ہمارا یہ کام ہے کہ ان کی زندگی سے سبق سیکھیں .. رب سے وفا کریں… ذوالحج میں ہم حج پر جاتے ہیں وہاں شیطان کو کنکریاں مارنا سنتِ ابراہیمی ہے ، وہاں قربانی کرنا سنتِ ابراہیم ہے .. دیکھا رب سے وفا کا یہ صلہ کہ رہتی دنیا تک ہر آنے والا مسلمان جب تک یہ اعمال نہیں کرے گا تب تک اس کا حج مکمل نہیں ہوگا تو قبول بھی نہیں ہوگا۔
رب تعالیٰ سے وفا کرنا سیکھیں … یہ قصے رب نے قرآن میں اس لیے اتنی باریک بینی سے نہیں بیان کیے کہ ہم سنیں ، واہ واہ کریں سر دھنیں اور جب عمل کا وقت آئے تو یہ کہہ کر سائیڈ پر ہوجائیں کہ وہ بڑے لوگ تھے، وہ تو انبیاء تھے ہماری کیا اوقات کہ ہم یہ کر سکیں .. بھئی انہوں نے یہ سب اسی لیے کر کے دکھایا تھا کہ ہم جان جائیں انسان کیا کچھ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
یہ سوچ انسان کو ناکارہ بنا دیتی ہے … قرآن کے یہ قصے ، رب تعالیٰ کہ یہ حسین اعتراف حوصلہ افزا ہوتےہیں ، ہمت بندھانے کے لیے ہوتے ہیں … یہ صرف اَسَاطِی٘رُ ال٘اَوَّلِی٘ن ( پچھلوں کی کہانیاں ) نہیں ہوتیں جو وقت گزاری کے لیے سنی اور پڑھی جائیں … ان کا ایک مقصد ہوتا ہے،لہٰذا ابراہیم خلیل اللہ کی زندگی سے ہم نے وہ مقصد حاصل کرنا ہے اور وفاداری سیکھنی ہے پھر وہ رب ہماری وفا کو بھی رایگاں نہیں جانے دے گا… اور ایسی خوبصورت جزا دے گا جو وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگی.. ان شاء اللہ !
والسّلام !! "
استاذ کا وقت ختم ہو چکا تھا اور وہ اختتامی باتوں کو لمبا کیے بغیر حاضرین کو سوچوں میں غرق چھوڑے ایک مسکراہٹ اچھالتے ڈائس سے اتر چکے تھے ..
﴿ تَمَّت بِالْخَیر ﴾




































