
سارہ امجد
قربانی اس چیز کوکہتے ہیں جس سےاللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے۔عید قرباں جو ہر سال ذوالج کی 10 تاریخ کو دنیا میں بسنےوالے
تمام مسلمان مناتے ہیں۔ یہ قربانی ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کی جانب سےپیش کی گئی عظیم قربانی کی یاد دلاتی ہے.
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اس لئے نہیں ہوئی کہ اللہ تعالی مخلوق کو پریشان کرناچاہتے ہیں بلکہ اس آزمائش کا مقصد فردیا قوم کی صلاحیتوں کونکھارنا اوران کی نشوو نما کرنا ہوتاہےاس بنا پر آزمائشوں کےذریعے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عزیمت اوراستقامت کا امتحان لیا گیا۔
کبھی ابراہیم علیہ اسلام قوم کے بت کدے کہ درمیان کھڑے ہو کر کلمہ توحید بلند کر رہے ہیں اور کبھی حاکم وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کراس کی جھوٹی خدائی کے پرخچےاڑارہے ہیں اورپھر اس جرم کی پاداش میں آگ میں بےخطرحسبی اللہ کہہ کر کود پڑتے ہیں۔
گھربارملک و وطن سب کچھ چھوڑکرہجرت کرجاتے ہیں اور اس کے بعد اکلوتےجگر گوشےاور نہایت فرماں برداراطاعت شعاررفقہ حیات کو سنسان وادی میں چھوڑ کر پلٹ کردیکھےبنا وہاں سے چلےجاتے ہیں۔اورآخر میں نہایت خوبصورت وخوب سیرت معصوم لخت جگرکے حلق نازک پرخدائے واحدہ لاشریک کی رضا کےلئے چھری چلا دیتے ہیں تب جا کر اعلان ہوا۔
ترجمہ:جب ابراہیم علیہ السلام کے رب نےاس کو چند معالات میں آزمایا ہےتو وہ پورااترے فرمایا ابراہیم میں تجھ کو دنیا کا امام بناتا ہوں( البقرہ )
قربان کرنےوالےخلیل اللہ تھےاورقربان ہونےوالے ذبیح اللہ تھے۔یہ منتظر آسمان نے بھی کبھی پہلےنہ دیکھا ہو گا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی یہ قربانی اللہ تعالٰی نےاستطاعت رکھنے والے مسلمانوں پر لازم کردی ہے۔اللہ رب العزت کوہرادا اس قدرپسند ہےکہ کسی حاجی کا حج مکمل نہیں ہوتا جب تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پرعمل نہ کرے۔ اللہ تعالی ہمیں سنتوں پر چلنے والا بنائے (آمین)




































