![]()
حمادیہ صفدر
ہمیں اب اللہ کاگھردیکھ لیناچاہیےاس سےزیادہ بڑی عمرکرکےکیاجانا،جب سب عمرہ یاحج کےارکان ہی وہیل چیئرپرکیےجائیں ۔ پہلےہی ہم جوانی
کابہت ساحصہ گنوادیاہےاوراب ہمیں دیرنہیں کرنی چاہیے۔ سکینہ نےجذباتی اندازسےاپنےشوہرسعید صاحب سےکہا ۔ ہاں بیگم بس جلدہی ہمیں پاسپورٹ بنوانے ہیں۔
سکینہ کی آنکھوں میں خوشی کی لہردوڑی ۔بولی دیکھیں اب 50تک میں ہوچکی ہوں اور60تک آپ ہونےوالےہیں۔ سکینہ بولی۔۔۔۔۔ ہاں ہاں بس تم آج شناختی کارڈڈھونڈ رکھنا کل میں پاسپورٹ بنوانےچلا جاؤں گاان شآءاللہ۔ سعید صاحب نےاسےمزیدحوصلہ دیتےہوئےکہا۔
سعیدصاحب کوڈیوٹی کےلیےروانہ کرنےکےبعدسکینہ نےپہلاکام جوشروع کیاوہ شناختی کارڈ کی تلاش تھا۔ سعیدصاحب کا شناختی کارڈ تلاش کرنا کچھ مشکل نہ تھاوہ دفتری فردتھےان کاشناختی کارڈان کی آفس فائل میں ہوتاتھا۔
جب سکینہ اورسعیدصاحب بیت اللہ دیکھنےکی بات کررہےتھے۔ تب ساتھ کمرےمیں سولہ سالہ ذکیہ بیٹھی تمام گفتگوسن رہی تھی ۔ جب بھی ماں باپ بیت اللہ جانےکی بات کرتےوہ ضد کرتی کہ مجھے بھی ساتھ لےچلو۔ میں خلیل اللہ کےہاتھوں تعمیرکردہ بیت اللہ دیکھنےکی بےحد مشتاق ہوں لیکن وسائل اتنےنہ تھےکہ ایک فرد کا مزید خرچ بڑھا لیاجاتا تو ذکیہ رونےلگتی اوردل دل میں اللہ سےدعاکرتی ۔آج بھی اس نےتمام گفتگومیں یہی اندازہ لگایاکہ عمرہ پرجانےکےلیےاس کا ذکرکیا جا رہاہے یانہیں؟ لیکن اس کا تذکرہ نہ ہواتواس نےکچھ غم نہ کیااوربس آسمان کی طرف دیکھنےلگی گویارب سےکوئی رازونیازکی گفتگو کررہی ہومگراسےکیااندازہ تھاکہ اللہ اس کےلیےکس قسم کےاسباب پیداکررہاہے۔
ادھرسکینہ سعیدصاحب کاشناختی کارڈ ہاتھ میں لیےاپنےشناختی کارڈکی تلاش میں پسینےسےبھیگی پڑی تھی ۔ گھرکی تمام جگہوں پراس نےدیکھ لیامگرشناختی کارڈنہ ملا۔
ساراگھرچھان مارا شنا ختی کارڈنہ ملااورتلاش کرنےکی آخری جگہ صرف ذکیہ کا کتابوں والاکیبن یا اس کی ڈاکومینٹس فائل تھی پس رفتہ رفتہ سکینہ ذکیہ کےکیبن تلک پہنچ گئی۔ اس کےکتابوں کودیکھتےٹٹولتےآگےکرکےوہ ایک چھوٹاساگتےکاڈبہ دیکھتی ہےتواسے باہرنکال لیتی ہے۔اس ڈبےکی بالائی سطح پرایک چھوٹا سا سوراخ کیاتھا۔ ایک طرف لکھاہواتھا"فنڈبکس برائےویزۂ حج" جب اندرکاجائزہ لیا تواس میں ایک دوہزارروپےاورکچھ سکےتھے۔
یہ ذکیہ کافنڈبکس تھاجسےاس نےاپنی حج کی رقم جمع کرنےکی غرض سےلگایا ہواتھا پس ماں کی آنکھیں بیٹی کےجذبۂ وشوق کودیکھ کربھرآئیں مگر وہ کرکچھ نہیں تھی سکتی۔ سوائےدعاؤں کےتوماں نےایک دم دعاؤں اورسداؤں کی آوازیں بلندکیں۔ اللہ میری ذکیہ کواپنےاسباب خاص سےاپناگھر دکھا دے۔ ننھی ذکیہ کے دل کےجذبات اللہ کوبھی پسندتھےادھرماں کی دعائیں رنگ لائیں اورجواسباب اللہ پیدا فرماتاہےوہ کسی کےگمان میں بھی نہیں ہوتے۔ ماں باپ توعمرےکےارادوں میں بیٹی کےلیےاللہ نےاپنی رحمت سےکیسےاسباب پیدافرمائے۔ شوال کےاواخرمیں ذکیہ کے دیےگئےمیٹرک کےامتحانات کارزلٹ آیا۔ ذکیہ نےنمایاں اچھےگریڈزمیں پوزیشن حاصل کی۔ اسی کےانعام میں اس کوحج وعمرہ کےٹکٹس انعام میں دیےگئے۔
کمسن ذکیہ کےگہرےجذبات اوربیت اللہ سےزیارت کےگہرےشغف اورمحبت کےباعث اللہ کی طرف اسے ایک عظیم عبادت کی ادائیگی کاحسین موقع پیش کیاگیا۔۔۔ سبحان اللہ ۔۔۔۔ ننھی ذکیہ نےکمسنی میں ہی کعبہ کےپھیروں میں لبیک پکارا۔۔اللہ اکبروللہ الحمد لبیک اللھم لبیک لبیک لآشریک لک لبیک لآشریک لک لبیک ان الحمدوالنعمۃ لک والملک لاشریک لک




































