
نائلہ تبسم / سیالکوٹ
محرم الحرام کامہینہ جب بھی آتا ہے،اپنےساتھ یہ تصورضرورلاتا ہےجب نواسہ رسول کو فرات کےساحل پر پیاسا عین نمازکی حالت میں شہید کیا گیا۔ بے
شک نو اوردس محرم کو ہرمسلمان گریہ وزاری اورآہ و بکا کی کیفیت میں ہوتا ہےمگر مت بھولیے کہ نواسہ رسول ص نے اپنی گردن باطل کے آگے جھکانے کی بجائے کٹوائی تو کس لیے؟ اپنے عزیزوں اور گھر والوں کی قربانی دی تو کس لیے؟حق و باطل کی کشمکش توہمیشہ سے ہےاور ہمیشہ رہے گی مگر حضرت حسین نے شہادت تو قبول کی مگر جبری بادشاہت کو قبول نہ کیا۔
ذرا ان کاوہ خطبہ ملاحظہ فرمائیے:
لوگورسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و سلم نےفرمایا :جو شخص کسی ایسےبادشاہ کو دیکھتا ہےجو ظالم وجابر ہےاوراللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کررہا ہے، اللہ سے کیے ہوئے عہد کو توڑ رہا ہے۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و سلم کی سنت کو تہس نہس کر رہا ہے۔ اللہ کے بندوں پر گناہ و زیادتی کے ساتھ حکومت کر رہا ہے اور پھر بھی اس شخص کو غیرت نہ آئے۔ نہ زبان سے وہ اس ظالم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ نہ عملی طور پر ظالم کے خلاف کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اللہ کو یہ حق ہے کہ وہ اس ظالم بادشاہ کی جگہ اس شخص کو دوزخ کی آگ میں جھونک دیں۔
آج پھر سےتاریخ اپنے آپ کو دہرارہی ہے جہاں اقتدار کی بھوک تو ہےمگرحرمت قرآن کرنےوالےکا منہ توڑنےکاحوصلہ نہیں۔ مسلمان ممالک کی تعداد کم تونہیں مگرایسا لگتا ہے کہ موت کا خوف ان کو گھروں سے نکلنے نہیں دیتا۔
قرآن کہتا ہے :"تم نے ان لوگوں کی تاریخ پر بھی عبرت کی نگاہ ڈالی ہےجو موت کے خوف سے اپنے گھربار چھوڑ کرنکلےاورہزاروں کی تعداد میں تھےاللہ نے ان سے فرمایا مرجاؤ،پھر ان کو دوبارہ زندگی سےنوازا"(البقرہ)
یہ اشارہ بنی اسرائیل کی طرف ہےجنہوں نےجہاد سےمنہ موڑا تو اللہ نے انہیں چالیس سال تک زمین میں سرکرداں پھرنے کے لیےچھوڑ دیا اور ان کی اگلی نسل کو اللہ نے کنعانیوں پرغلبہ عطا کیا،آج اسوہ حسین اورداستان کربلا بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہےکہ اسلام اورملت اسلامیہ کی زندگی باطل کے خلاف جنگ اور حق کے لیے جدوجہد کرنے میں مضمرہے۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کے اس اجتماعی گناہ کو معاف کردے جنہوں نےجہاد کوترک کردیااور ہم سب کو نواسہ رسول کے نقش قدم پرچلنے اور اسلام کی اصل روح کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔




































