
حسن عالم
معزز قارئین کرام
میں ہوں حسن عالم اورآپ کےسامنے چٹ پٹی اور مسالہ دارخبروں کے ساتھ حاضر ہوں۔ ایسی خبریں جو دل کی دھڑکن کبھی روک دیں۔ کبھی تیز کر دیں۔
کبھی ٹھنڈی آہ بھر کررہ جائیں اور کبھی شکر ادا کرنے والا سانس لیں۔ جی اگر آپ پنجاب میں رہتے ہیں توسمجھ ہی گئے ہوں گے کیونکہ پنجاب ملازمین کی تنخواہ کا معاملہ بڑے دنوں سے لٹک رہا تھا بلکہ مٹک رہا تھا ۔ خدا جانے حکومت کو بھی کیا مذاق سوجھا کہ تین صوبوں نے تو وفاق کے برابر بجٹ میں اضافہ کیا لیکن پنجاب والے انکھ مچولی کا کھیل کھیلتے رہے۔ پھر ملازمین نے لاہورشہر کی سیر کی۔ وہاں دھرنا دیا اور تو اور سراج الحق صاحب نے ان کی میزبانی بھی کی۔ آخر کارحکومت کے وعدوں پہ ملازمین لاہور میں کیمپنگ اورٹینٹنگ کا ارادہ موخر کر کے واپس گھروں میں اگئے اور ان کے دل اس مصرعے کے مصداق تھے۔
ساقی گئی بہار رہی دل میں یہ آرزو
تو منتوں سےجام دے اور میں کہوں کہ بس
اب گھروں میں ان کے ساتھ کیا ہوا؟؟؟بیگمات نے تو برینڈڈ سوٹس کےآرڈرز دیےہوئےتھے۔اب جب پتہ چلا کہ حکومت توملازمین کے ساتھ ہاتھ کرگئی تو بیگمات کو تو دیےگئےارڈرز کی ٹینشن ہوئی۔ ایسے میں جب پنجاب ملازمین کے گھر خطرے کی زد میں آئے تو وزیراعظم صاحب نے فوراً اس معاملے میں انٹری دی اور وزیراعلیٰ صاحب کو ہدایت کی کہ بس اب اس مذاق کو رہنے دو۔ان سب کو ان کا پوراحق دو۔ لہٰذا جیسے ہی نیوز چینلز پہ فیصلے کی خبر نشر ہوئی۔ جہاں پنجاب ملازمین نے شکر ادا کیا وہیں بیگمات اپنے ارڈرز کی تکمیل پہ خوش ہو گئیں۔ اب جو برینڈزوالوں کےساتھ مذاق ہورہا تھا کہ صبح ارڈر کیا اور شام کو کینسل کیا۔ اس کا بھی ڈراپ سین ہوا۔ فائنلی آج نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد بہت سارے ارڈرز ڈن ہو جائیں گے۔ مبارک ہو اپ سب کو اور ایک مشورہ بھی حاضر ہے کہ شکرانے کے نوافل بھی ادا کریں کہ آخر رزق عطا کرنے والے کا بھی تو کوئی حق ہے۔
وزیراعظم صاحب زندہ باد۔
وزیراعلیٰ صاحب۔۔۔۔۔جی جی آپ ہی۔۔۔رک رک کر،ٹھہر ٹھہر کر،چشمہ لگا کر اور بار بار کاؤنٹنگ کر کر کے۔۔۔۔ پائندہ باد
اجازت دیجئے
اپ کا اپنا
حسن عالم




































