
نمرہ امین/ لاہور
"محرم کا لفظ حرمت سےنکلا ہے۔ حرمت کے لفظی معنی عظمت واحترام کےہیں یعنی محرم الحرام عظمت، احترام اور بڑی فضیلت والامہینہ ہے۔"
اسلامی سال کا پہلا مبارک مہینہ محرم الحرام کاہے۔ ماہ محرم اللہ کا مہینہ ہے۔ یہ اسلامی سال رسولؐ کے اس واقعہ کی یاد تازہ کرتا ہےکہ جب کوئی مسلمان اتنا مجبور ہو جائے کہ اسے دین الٰہٰی کی وجہ سے اتنےمصائب و مشکلات، دکھ، تکلیف اور ہر طرف دشمنی اوریہاں تک کہ اپنے بھی ساتھ نہ دیں تو وہ اپنے دین کی تبلیغ کے لیےاس جگہ سے ہجرت کرجائے۔
اسلام میں ہجرت کی بہت اہمیت ہے۔رسولؐ نے فرمایا: "ہجرت پہلے تمام کے تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔"ہجرت اورماہ محرم الحرام ہمیں درس دیتا ہے کہ ہر وقت اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار رہناچاہیے۔ بلاوجہ کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کرنی چاہیے۔
اللہ کے نزدیک یہ چار مہینے ( رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم) حرمت والےہیں۔ ان مہینوں کی عبادات، نماز، روزہ کی بہت فضیلت ہےاوراللہ سب دعائیں اور عبادات قبول فرماتا ہے۔انسان کو نہایت عقیدت و احترام سے اس مہینے میں رہنا چاہیے کوشش کریں خاموشی اختیار کرکے اپنے ہر کام اور عبادات میں اپنا وقت صرف کریں۔ جھوٹ، برائی، لڑائی جھگڑوں سے خود کو بچا کہ رکھیں۔ کوشش کریں اس ماہ میں کسی بھی مجلس، امام بارگاہ، مساجد میں کوئی لڑائی، فتنہ فساد، دہشت گردی سے اجتناب کیا جائے۔ "تاریخ اسلام کا سب سے بڑا حادثہ جس کو سانحہ کربلا کہتے ہیں وہ اسی ماہ محرم میں پیش آیا تھا کہ اپنے ہی نبیؐ کی آل کو مسلمانوں نے ہی شہید کر دیا"۔ ( نعوذ بااللہ)وہ کربلا کی گرمی، شدت پیاس سے نڈھال حال اور رسول کی آل کو شہید کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ یہ منظر بہت ہی درد ناک ہے۔
اسی سانحہ کی یاد میں مسلمان اس ماہ مبارک کو ادب واحترام میں گزارتےہیں اورجب بھی یہ واقعہ یاد آتاہےسب کے دل خون کے آنسو روتا کہ رسول کی آل کو اتنی اذیت دی گئی تھی۔اس ماہ مبارک میں احترامً شادیاں اور اس طرح کے خوشیوں والے تہواروں سے اجتناب کرتے ہیں اورعزت و احترام کے ساتھ امام حسین اور کربلا کے شہداء کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔
حضرت امام حسین جو نواسہ رسولؐ اور فرزند حضرت علی ابن طالب کےہیں اوراس وقت کےنام نہاد خلیفہ یزید ابن معاویہ کےحکم پر ماہ محرم کی 10 تاریخ یعنی عاشورہ کے دن بڑی بے دردی کےساتھ شہید کر دیا گیا۔ اس دن کائنات میں عجیب وغریب واقعات رونما ہوئےآسمان وزمین، جن و انس، کائنات کا ذرہ ذرہ اس سوگ میں شامل تھا۔
"حسین تیرے لہو کی خوشبو فلک کے دامن سے آرہی ہے
یہ خون ناحق چھپے گا کیسے جسے یہ دنیا چھپا رہی ہے"
( عاشورہ کا مطلب دسواں ہے۔ یہ دن چونکہ محرم کی دسویں تاریخ کوآتا ہے اس لیےاس کو یوم عاشورہ کہتے ہیں۔) اس مہینے میں عاشورہ کا دن تمام ایام سے افضل ہے اورشب عاشورہ افضل ترین رات ہے اوریہ رات بھی لیلتہ القدر سے کم نہیں۔
اس ماہ محرم میں امام حسینؓ کی شہادت کے واقعہ پر شیعہ ماتم اور نوحہ کرتے ہیں۔ تیز دھار آلات سے اپنے جسم کوتکلیف دیتے ہیں زخمی کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو پیٹتے ہیں رنج و غم کرتے ہیں اورخود کو تکلیف دیتے ہیں۔ شہادت حسینؓ کے رنج و غم میں ایسا وحشیانہ اور خوفناک منظربرپا کیا جاتا ہے جو بہت غلط ہے اورایسا سب جائزنہیں ہے۔ اس ماہ میں احترام کے ساتھ افسوس کیا جائے اور دعائیں کی جائیں۔
حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسولؐ نے فرمایا: "رمضان المبارک کے بعد اللہ کےمہینے محرم کے روزے سب مہینوں سے زیادہ افضل ہیں اورفرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز آدھی رات یعنی (تہجد) کے وقت پڑھی جانے والی نماز ہے" (مسلم: کتاب الصیام! باب فضل صوم المحرم)اسی طرح یوم عاشورہ کے روزے کی بہت اہمیت ہے۔ رسولؐ نے فرمایا: "مجھے اللہ سےامید ہے کہ یوم عاشورہ کا روزہ گذشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔"( مسلم: کتاب الصیام: باب استحباب صیام)
عاشورہ اللہ کے دنوں میں سے ایک معزز دن ہے جو اس دن کا روزہ رکھنا چاہے رکھ لے جو نہیں رکھنا چاہے نہ رکھے یہ فرض نہیں ہے پر اس کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔




































