
انیلاکوثر
یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ اسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
اسلامیہ یونیورسٹی کا جو ابھی حال ہی میں ایک سکینڈل سامنے آیا ہےبہت ہی افسوسناک مقام ہےبلکہ کسی بھی صاحب عزت شخص کا اس معاملے میں سن
لیناہی سرشرم سے جھکا دیتا ہے۔ ہماری علمی درس گاہیں جن کومادر علمی کہا جاتا ہے جوآنے والی نسلوں کو پروان چڑھاتی ہیں اور یونیورسٹی وہ لیول جہاں پہ ایجوکیشن کےدرجات ختم ہو جاتے ہیں اورہر کوئی سمجھ بوجھ اور عقلمندی کے اعلیٰ درجے پر براجمان ہوتا ہے ۔ اپنی عملی زندگی میں قدم رکھ رہا ہوتا ہے ، وہاں یہ نادانی ،یہ سیاست ،یہ بدتمیزی یہ بے شرمی کی ساری حدود کا پار کرجانا بے انتہائی قابل افسوس، قابل مذمت اور قابل گرفت ہے۔ ابھی چند دن پہلے ڈاکٹرعمرعادل صاحب کا انٹرویو آرہا تھا ایک نجی چینل پر انہوں نے اس اسکنڈل پربڑے ہی غم وغصے کا اظہار کیا اورکہا کہ وزیرتعلیم صاحب کو تو مرجاناچاہیے اورمیں کہوں گی کہ صرف وزیر تعلیم کو نہیں ہر اس شخص کو جس کے ذمےیہ ریاست ہے، یہ شعبہ ہے ۔
یہ یونیورسٹی ہے۔یونیورسٹی کے اندر جو تمام پروفیسرزہیں وہ سب اپنے سٹوڈنٹس کو کیا سکھانے آئے ہیں کہ اتنا آسان ہے، انتہائی گھٹیا لیول کا سودا کر کےعلم کی ڈگریاں دی جارہی ہیں تووہ علم آنے والے وقت میں نئی نسلوں میں کس لحاظ سے منتقل ہوگا۔ بالفرض یہ سکینڈل نہ بھی سامنے آتا سب کچھ چپ چاپ ہورہا ہوتا تو بھی کیا اداروں کا یہ کام ہے اساتذہ کا یہ کام ہوتا ہے ٓ۔ یہ کس قسم کا علم بانٹا جا رہا ہے۔اس یونیورسٹی کے وی سی صاحب پرساری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ قابل گرفت ہیں ۔ اس وقت یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان کے زیر نگرانی چلنے والا ادارہ اتنی زیادہ کرپشن میں ملوث ہےاور برائیوں میں مبتلا ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ رات کے وقت بھیس بدل کر اپنے علاقے میں گشت کیا کرتے تھے کہ کہیں کوئی کرپشن تونہیں ہورہی کہیں کوئی حق تلفی تونہیں ہورہی ، کہیں کوئی ایسی غلطی مجھ سےتو نہیں ہو رہی جس کی قیامت کے دن مجھ سے پوچھ گچھ ہو ۔ کیا یہ باتیں ہمارے ون اورٹو کےسلیبس میں ہی شامل کرنے کے لیے تھیں ۔ ان کا ہماری عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں اور یہ سارا معاملہ ہم ایک طرف رکھ دیں ہماری وہ بیٹیاں جو یہاں علم حاصل کرنےآئی ہیں جنہوں نے گھرآباد کرنے تھے ،نئی نسل پروان چڑھانی تھی وہ اتنی آسانی سےبک گئیں اگروہ اپنی عزت کے بدلے میں یہ کاغذ کا ٹکڑاجسے ڈگری کہاجا رہا ہے،حاصل کرنا چاہ رہی تھیں تو انہوں نے کوئی علم حاصل نہیں کیا ،وہ اپنے بچوں کو کیا سکھائیں گی ۔
اپنے بچوں کو کیسے پالیں گی بلیک میل کرنا یہ لفظ کہناآسان ہےان کے لیے تو سب سے پہلا آپشن یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ ایجوکیشن چھوڑ کر چلی جاتیں وہ ماسٹرز کی ڈگری پر لعنت بھیج دیتیں ،اپنے گلے میں برائی کا طوق نہ ڈالتیں ۔اپنی عزت داؤ پر نہ لگاتیں ۔
گھناونے کاروبار میں یونیورسٹی کےاساتذہ شامل ہیں، سٹوڈنٹس شامل ہیں ، ان کا انتظامی عملہ یا کوئی سیاسی پارٹی شامل ہے اس کو منظر عام پر لایا جانا چاہیے تاکہ پتا چل سے کے مادرعلمی اور اس کے مستقبل سے کون کھلواڑ کررہا ہے اوران ذمہ داروں کو جو ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ اس کا ذمہ دار ہے سب کو پھانسی پہ لٹکانا چاہیےتاکہ ائندہ دوبارہ کسی کو اس حرکت کی جرات نہ ہو ۔
ایک دفعہ رات کے وقت ایک عورت سفر کررہی تھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےسوال کیا کہ تم اکیلی سفرکررہی ہو کیا تمہیں ڈر نہیں لگتا تو اس عورت نے جواب دیا کہ یا تو تم خود ہی عمر ہو یا پھرعمر کی وفات ہو گئی ہےجو عام کسی بندے کی یہ جرات کے مجھے روک کر مجھ سے بات کر رہا ہے۔ اپنے آپ کو تعلیم یافتہ کہنا سب غلط ،سب جھوٹ اور یہ اہل جامعہ نے تو جہالت کی انتہا کر دی ہے۔
اس واقعے نے تو ان کا سر بھی شرم سے جھکا دیا جنہوں نے 20 ،25 سال پہلے اس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی ۔ ان کے لیے یہ عزت کا مقام تھا ۔اپنا گھر،اپنا شہر، اپنا ہائی سکول، ڈگری کالج اوراس کے بعد یہ یونیورسٹی سب کو ایسے ہی عزیز ہوتی ہے،جیسے اپنا آبائی علاقہ جیسے لڑکی کو اپنا والدین کا گھرپیاراہوتا ہے ۔ یہ ساری دنیا ایک طرف اور والدین کا گھر چاہے کسی پسماندہ علاقے کا کوئی چھوٹا سا گاؤں میں بھی ہوتو وہ اس لڑکی کے لیے پہلےنمبرپرہوتا ہےتو ہماری یونیورسٹی کا ذکراتنے گھٹیا انداز سے کیا گیا یا اتنے گھٹیا لوگوں کے حوالے سے اس کا ہمیں بہت افسوس اور بہت دکھ ہے۔
کاٹ دو انگلیاں توڑ ڈالو قلم
شہر بےنورمیں جبر کا دور ہے
کیا چراغاں کریں گےاندھیروں میں ہم
آندھیوں کا جہاں میں بڑا زور ہے
ظلمتیں بڑھ گئیں یہاں کس قدر
ہر طرف چیختی رات کا شور ہے
پتلیوں کی طرح ناچتے ہیں سبھی
وقت کے ہاتھ میں وقت کی ڈور ہے
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو)




































