
مریم زبیر
حیا اورحجاب ہماری تہذیب ہے، فخر ہے، پہچان ہے، اس کو چھوڑ دینے سے ہماری عاقبت خطرے میں ہے. شیطان کی پہلی چال جو اس نے انسان کو
خدائے واحد کی اطاعت سے منحرف کرنے کے لیے چلی تھی یہ تھی کہ اس کے جذبہء شرم و حیا پر کاری ضرب لگائی اور دیکھا جائے تو اس کی یہ روش آج تک ان کی تم قائم ہے. شیطانی ذہنیت کے لوگوں کے مطابق ترقی کا کوئی کام شروع ہو ہی نہیں سکتا جب تک عورت کو سر بازار کھڑا نہ کر لیں. خواتین سے متعلق مصنوعات تو ایک طرف خالص مردانہ چیز بھی ہو تو اس پر اشتہار عورت کا ہی نظر آئے گا۔اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت مستور رہنے کے قابل چیز ہے جب وہ نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے اور اللہ کی رحمت سے قریب تر وہ اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر میں ہو۔یعنی عورت کا اصل دائرہ عمل اس کا گھر ہے۔گھر سے باہر اس کو صرف اسی ضرورت کے لیے نکلنا چاہیے جس کی شریعت اجازت دیتی ہو اور اس طریقے سے نکلنا چاہیے جو خود اللہ تعالی نے ایک مسلمان عورت کے لیے پسند کیا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے: اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہتے ہیں کہ وہ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکا لیا کریں۔اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی اور ان کو ستایا نہ جائے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے لیکن بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں مغربی رسم و رواج کو اپنانا ایک فیشن بن چکا ہے۔ہم اپنی قابل فخر اقدار کو چھوڑ کر مغربی اقدار کو اپنانا ترقی کی علامت سمجھتے ہیں۔جس کے بھیانک نتائج ہمارے سامنے ہیں ۔بچوں سے زیادتی ہو یا زنا کے جرائم، حیا و حجاب سے دوری کا نتیجہ ہیں ۔خواتین کا چست لباس' اپنی زیب و زینت کی سر عام نمائش ' مغرب کی تقلید میں تمام اداروں میں مرد و زن کا اختلاط گناہ کو کھلی دعوت دینے کے مترادف ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:" دور جاہلیت کی طرح اپنی سج دھج نہ دکھاتی پھرو". مگر آج شادی بیاہ ہو یا کوئی اور تقریب ۔ شیطان اور اس کے چیلے بنت حوا کی بے حیائی پہ خوب خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں۔وہی باپ بھائی جو اپنی بہن بیٹی کو بغیر پردے کے گھر سے باہر نہیں نکلنے دیتے' اس وقت انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ ہماری عزتیں کتنی نامحرم آنکھوں کے حصار میں ہیں۔وہی بنت حوا جو پوری طرح مستور ہو کر گھر سے نکلتی ہے ،شادی بیاہ کے موقع پر پوری طرح سج سنور کر جب نامحرم مردوں کے سامنے چلتی پھرتی ہے۔ فوٹو سیشن کرواتی ہے' اپنا لباس دکھانے کے چکر میں اپنا ہرہرعضو نمایاں کرتی ہے تو کیا اس کے باپ، بھائی کوغیرت نہیں آتی ؟لہو لعب کی ان محافل میں وہ خواتین جو اپنا ایمان بچانے کے لیے باپردہ ہو کر بیٹھتی ہیں ان کو تحقیق و تضحیک کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے لیکن یاد رہے وہ فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم:" اسلام شروع میں اجنبی تھا اور ایک وقت آئے گا کہ یہ پھر اجنبی بن کر رہ جائےگا تو سلام ہے ان اجنبیوں پر جو اسلام کو تھامے رہیں". تو شاد رہیں یہ خواتین اور اللہ کی رضا کے لیے چند روزہ اجنبیت برداشت کر لیں ۔ ان شاءاللہ روز محشر ان کو بھرپور عزت ملے گی۔اس دنیا سے کئی گنا زیادہ اچھی میزبانی کی جائے گی۔
حیا و حجاب کا تقاضہ ہے کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی سےبچا جائے۔اپنے دل دماغ نگاہ کی حفاظت کی جائے۔ تنہائی کو بھی پاکیزہ رکھا جائے کہ فرمان الہیٰ ہے:" اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیا کی جائے". اور جب اللہ سے حیا کا جذبہ دل میں ہوگا تو انسان کوئی گناہ کر ہی نہیں سکے گا اور یوں عاقبت سنور جائے گی۔ہمیں اپنا احتساب کرتے رہنا چاہیے کہ آیا ہم صرف دنیا والوں کی نظروں میں اپنی عزت برقرار رکھنا چاہتے ہیں یا ہمارے پیش نظر اللہ رب العالمین کی رضا اور خوشنودی ہے؟ آخر انسان کو خود سے اتنی محبت تو ہونی ہی چاہیے کہ وہ خود کو جہنم سے بچا کر جنت میں لے جائے لہذا خود کی حفاظت کیجئے کہ جب ہمارا پورا وجود ہی اللہ کے عطا اور امانت ہے تو پھر اسے دنیا والوں کی خواہشات کے مطابق کیوں کیا جائے۔اپنی زندگی کے ہر ہر لمحے میں اللہ رب العزت کی قائم کردہ حدود کا احترام کیا جائے کہ اللہ کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا؟




































