
بنت خلیل
پانچویں جماعت کےطالب علم زید کی بخار کی وجہ سے سکول سے چھٹی ہوگئی اور وہ شام کو اپنے دوست احمد سےہوم ورک معلوم کرنے جاتا ہے ۔۔۔
احمد اسے ہوم ورک بتائے ہوئے سکول میں حیا ڈے پر ہونے والے چھوٹے سے پروگرام کے حوالے سے بتاتا ہے۔۔
احمد : زید یار آج ہمارا انگلش کا لیکچر نہیں ہوا آج میم نے ہمیں حیا کے بارے میں بتایا ۔۔۔
زید : حیا کیا ہوتی ہے؟؟؟
احمد: حیا شرم اور وقار کو کہتے ہیں ۔۔۔
زید: کیا مطلب ؟؟؟
احمد : مطلب یہ کہ اگرہم کوئی بھی غلط کام کرتے ہیں ہمیں شرم آتی ہے ،ہم سوچتے ہیں اللہ ہم سےناراض ہو جائیں گے اور سب لوگ بھی ہمیں برا بھلا کہیں گے یہ حیا ہوتی ہے۔
زید : اچھا ہاں مجھے یاد آیا پہلے بھی ایک دفعہ میم نے ہمیں بتایا تھا کہ ہم اچھے بچے بن کر رہا کریں ، اپنے کپڑوں کا خیال رکھا کریں ، دوسروں کے سامنے کپڑے نہ اتاریں ۔۔۔
حیا پر بات کرتے کرتے زید کوکچھ یاد آتا ہے۔
اچھا احمد آپ کو پتا ہے کل ٹیوشن میں ارسلان کو ڈانٹ پڑی بہت گندا بچا ہے دوسروں کو گالیاں دیتا ہے ۔۔۔سکول میں بھی اس کے نمبر اچھے نہیں آتے ۔
ابھی دونوں بچوں کی گفتگو جاری ہوتی ہے کہ احمد کی بڑی بہن بچوں کو جوس دینے کمرے میں آتی ہیں وہ چونکہ ان کی باتیں سن چکی ہوتی ہیں وہ انہیں نصیحت کرنے کے موقع کو بالکل نہیں گنواتیں ۔
جی توکیا باتیں ہورہی تھیں ؟؟؟
احمد : آپی میں زید کو بتا رہا تھا حیا پروگرام کے حوالےسے ۔۔۔
آپی : اچھا!!! تو میں بھی آپ کو ایک بات بتاتی ہوں ۔۔۔
احمد اور زید اکٹھے گویا ہوئے : جی آپی بتائیں۔۔۔
آپی: حیا کپڑوں کی بھی ہوتی ہے لیکن زبان اورآنکھوں کی حیا بھی بہت اہم ہے ۔
احمد اور زید حیرانی سے
آپی : جی زبان سے اچھے الفاظ ادا نہ کرنا ، گالیاں دینا ، برا بھلا کہنا ، دوسروں کے برے نام رکھنا ، غیبت کرنا یہ سب بھی اللہ کو پسند نہیں ہیں ۔۔۔ اور جو بچہ یہ کام کرتا ہے اس کا مطلب ہے وہ حیا کا خیال نہیں رکھتا ۔۔۔
احمد : جی مجھے یاد آیا ٹیچر نے یہ بھی بتایا تھا آنکھوں سے اچھی چیزیں دیکھنا بھی حیا ہے ۔۔۔
آپی پیار سے احمد کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے : جی بالکل
احمد آپی ہمیں ہوم ورک میں حیا پر ایک حدیث لکھنے کا کام بھی دیا ہے میم نے ۔
آپی : جی ٹھیک ہے میں لکھواتی ہوں ۔۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی سترسےزیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔۔۔ صحیح مسلم
زید : آپی اس کا کیا مطلب ہے ؟؟؟
مطلب یہ کہ جب ہم حیا نہیں کرتے تو ہمارا ایمان بھی مکمل نہیں ہوتا۔۔۔
زید سمجھ آنے کے انداز میں سر ہلاتا ہے۔




































