
بنتِ ایوب
ہاں یہ زندگی ہی ہےجوخواہشات،اُلجھنوں،غموں اورکچھ کاش جیسےالفاظ کی ڈولتی ہوئی کشتی کی مانند ہے۔ کچھ ساتھ نبھانے والے لوگ کشتی کے چپّو کا
سا کام کرتےہیں۔ وہ کیا ہے نا کہ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اک اذان سے اپنے مذہب میں داخل ہوتا ہے۔ یہ زندگی سےموت تک کا بلبلہ صرف ایک سانس کی ڈور سےجڑاہوا ہے۔
یہ فلسفۂ زندگی ایک موت کی پیاس میں بھٹکتی ہوئی انسان کےسانس کودبوچنےکا باعث بنتا ہے۔ زندگی کےصحرائی علاقوں میں انسانوں کا سفر کچھ اس طرح ہے کہ اگر پانی مل جائے تو جیسے زندگی کی خوشیاں ہمارے قدموں میں ڈھیرہیں اور اگر نہ ملا تو جیسے سفرِآخرت ہواچاہتا ہے۔ فاصلہ صرف وضو سے نماز تک کا ہے۔آتے ہوئے اذان دی گئی تو جاتے ہوئے اس کی قرض نماز پڑھی گئی۔انسان کی زندگی بھی اسی قرض کی ادائیگی پرمبنی ہے۔ الجھنوں کے اس سمندر میں اس مالک نے تمہیں کچھ تو سوچ کر تخلیق کیا ہوگا ۔ تمہیں شاید اس قابل سمجھا اور پھر چُنا ہوگا کہ تمہیں فرشتوں سے بھی اعلٰیٰ مقام عطاء کیا۔ انسانوں کی ناشکری کی اس دلدل میں ہم گُھٹ گُھٹ کر بدکاری کےعالم میں ڈوبتے چلے جا رہے ہیں۔




































