
بنت خلیل
تحریم : تم میرے ولیمے پر نہیں آئی میں تم سے ناراض ہوں بس۔
شیریں : اچھا اب کیسے مناؤں تمہیں مجھےتو منانا ہی نہیں آتا ۔(تحریم ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے منہ بناتی ہے )
شیریں : اچھا روٹھنا منانا بعد میں ہوتا رہےگا میں منا ہی لوں گی،پہلے یہ بتاؤسسرال والے سب کیسے ہیں تمہارے ؟؟؟ بھائی زید کیسے ہیں ؟؟؟
تحریم: الحمد للّہ بہت اچھے ہیں سب، شیریں تمہیں پتا ہے گھر بھی بہت پرسکون ہے،خاموشی خاموشی ، کوئی کسی کے کام میں ٹانگ نہیں اڑاتا۔
شیریں :اچھا ماشاء اللہ
تحریم : میں یا بھابھی جیسے مرضی باہرنکلیں کوئی روک ٹوک نہیں،جبکہ امی کےگھر میں عبایا لو، خوشبو نہ لگاؤ،بھائی کو ساتھ لے کر جاؤ،یہ کرو وہ کرو۔انسٹا ، فیس بک ، وٹس ایپ پراپنی پکس نہ لگاؤ وغیرہ وغیرہ۔یہاں تو صرف امی ابو ہی نہیں پورے خاندان والے فضول بولنا شروع کر دیتے تھے اگر دو چار پکس لگا بھی لو تو۔۔۔(شیریں تحریم کی یہ باتیں سن کرسوچ میں پڑجاتی ہے)
تحریم : اب اللہ کرے تمہیں بھی ایسے ہی لوگ مل جائیں۔۔۔شیریں دل میں : اللہ نہ کرے لیکن یہ بات وہ تحریم کےمنہ پر کہہ نہ پائی کیونکہ ہر بات کہہ دینے کی تھوڑی ہوتی ہے ۔۔ تحریم کے جانے کے بعد تحریم کے الفاظ بار بار شیریں کے کانوں میں گونج رہے تھے۔
شیریں عصر کی نماز میں بھی بار بار سوچوں میں الجھ رہی تھی باربار دماغ سے ان خیالات کوجھٹکتی۔۔۔ آخر نماز پڑھ لینے کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہوتے وہ اللہ سے یوں گویا ہوئی۔
''اللہ جی مجھے تو ایسے لوگ نہیں چاہییں جو مجھےغلط کام کرتا دیکھیں اورفوراً میری اصلاح نہ کریں۔اللہ جی ایسے مردوں کو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیوث کہا ہےجو اپنی ماں ،بہن، بیٹی اور بیوی کو برائی کرتے دیکھیں اور روکیں ناں ۔۔
اللہ جی میرا ایمان ابھی بہت کمزور ہے ایسے لوگ عطاکرناکہ اگر میں بھٹکنے لگوں وہ مجھے پکڑ کر رہنمائی فرما دیں،گرنے لگوں تھام لیں ،جہاں پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر آسان ہو ، جہاں سکون و تحمل سے سیدھی راہ دکھانے والے لوگ ہوں ۔ جہاں سب کو ایک دوسرے کو جنت میں لے جانے کی فکر ہو جہاں سب کو بغیر ٹانٹ کیے بغیر شور شرابا کیے بغیر غصہ کیے اصلاح کرنا آتی ہو۔۔۔ " اللہ سے خوب دعا ومناجات کے بعد وہ اپنا جائے نماز لپیٹتی ہے اور کتابیں پڑھنے بیٹھ جاتی ہے۔




































