
مسرت جبیں/ لاہور
سورة آل عمران ( سورۃ نمبر 3 ،آیت نمبر 18)۔
شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۙ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ اُولُوا الۡعِلۡمِ قَآئِمًۢا بِالۡقِسۡطِ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿ؕ۱۸
اللہ تعالیٰ ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ عدل کو قائم رکھنے والا ہے ، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ۔
سورۃ آل عمران کی یہ آیت کس قدر حکمت بھری ہے ۔ یوں تو برحق حکیم و خبیر اللّٰہ کا پورا کلام حکمت سے مذین ہے ۔ خود اس کی ذاتِ حکمت بھری حکمت کے خزانوں سے بھرپور ہے ۔
گواہی دی اللّٰہ نے کہ نہیں کوئی معبود سوائے اللّٰہ کے ۔
گواہی کی تعریف یہ ہے کہ گواہ خود شاہد ہو ۔ عین الیقین ،حق الیقین ۔
خود واحد و لاشریک اللّٰہ اپنی ذات کی گواہی پیش فرما رہیں ہیں ۔ اور جتنا ادراک علم فہم یقین خود اللّٰہ رب العالمین کو اپنی ذات کا خود ہے ۔ اس ذاتِ کی کیا شان ہے ،اس کی ذاتِ کی کیا عظمت ہے ، اس کی ذاتِ کی کتنی کبریائی ہے ، اس کی ذاتِ کا کتنا علم ہے ۔ اس ذاتِ کی کیا کیا کہاں کہاں کیسی کیسی حکمتیں ہیں ۔ اس کی ذاتِ کی وسعت ، اس کی ذاتِ کی قدرت، اختیار، ملکیت ، غلبہ ، زور ، حاکمیت ، بادشاہت اس کی مخلوقات کی تعداد، جنس ، صلاحیت ، عمرتقدیر خود مخلوق کو بھی معلوم نہیں ۔ وہ خود ہی ان سب کے علم کا احاطہ کیے ہوئے ہے ۔
اس کی شان وہ خود ہی جانتا ہے ۔ کوئی دوسرا نہیں ۔
اس لئے اس نے خود گواہی دی کہ نہیں کوئی معبود مگر صرف اللّٰہ ۔
دوسری گواہی بھی عین الیقین حق الیقین ہے فرشتوں کی ہے مگر فرشتوں کا علم مشاہدہ اسی قدر محدود ہے جتنا رب کائنات نے ان کے ذمے امور کائنات سپرد کر رکھے ہیں ۔
فرشتے ہم انسانوں سے زیادہ بہت کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں ۔ اور پھر کائنات کے بہت سے امور کے فرائض منصبی انجام دینے کی وجہ سے بہت سے رازوں سے آگاہ ہیں ۔ مثلاً حضرت جبرائیل علیہ السلام کس کس پیغمبر پہ کیا کیا کتنی کس معاملات کی وحی لے کر اترتے رہیں ہیں ۔
موت کا فرشتہ حضرت اعزائیل علیہ السلام جتنے ہیں کس ذی روح کی جان کب اجسام میں ڈالنی ہے کب نکال لینی ہے ۔کس جگہ کس وقت کس حال میں ۔ آہ انسان بے خبری میں ہی خود فریبی میں ہی مست رہتا ہے ۔ اور موت کا فرشتہ ایک ہچکی میں سب متاعِ دنیا سے محروم کر دیتا ہے ۔ انسان حسرت سے تڑپتا ہی رہ جاتا ہے ۔ کچھ دیر تو مہلت دے فرشتہ اجل کہ آج کچھ مال دنیا جو آج میں حق ملکیت سے محروم ہو رہا ہوں اس میں سے کچھ تو اللہ کے رستے میں خرچ کر جاؤں ؟
مگر مہلت عمل ختم
کسی اپنے پیاروں سے ایک بات ہی کر سکوں کسی محبوب کی ایک جھلک ہی دیکھنے کی اجازت مل جائے ۔ نہیں سب رشتے ناطے, مال ومتاع ،اسباب
وسیلے، قوت طاقت، حکومت واختیار،عہدے منصب ، ہنر صلاحیت ، کوئی سفارش کوئی سفارشی سب تعلقات کٹ گئے ۔
سب اسبابِ چھن گئے ۔
بارش کی رحمت کب کتنی کہاں کس قدر رحمت ہو گی یا زحمت ۔اس کےعلم کو اوراس فرشتوں کواور اتنا جتنا اللّٰہ کی حکمت نے بتانا ضروری جانا ہے ۔
اور پھر تیسری گواہی اہل علم کی ہے اور وہ اہم پیغام ہے جو اس آیت میں مضمر ہےاور یہی حکمت ہے اس آیت کی
کیا خوب کیا اعلیٰ وارفع مقام ہے ،کیا خوبصورت نسبت ہے ۔ کیا مرتبہ ہے ۔ کیا اعزاز ہے اللّٰہ کے ہاں اہل علم کا ۔سبحان اللہ ۔ اہل علم اور علم کے مقام ومرتبہ کی دلیل ہے کہ اللّٰہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا ۔ اس سے بڑھ کر علم کی شان کیا ہوگی کہ خود رب کائنات معلم ہےاور دنیا میں ہر قوم کی طرف ہدایت کے لئے کتاب کو نصاب ہدایت اور پیغمبروں ، رسولوں ، انبیاء کرام علیہم السلام کو معلم بنا کر مبعوث فرمایا ۔
علم اور معلم کےاعزاز میں یہ اعلیٰ وارفع مرتبہ سر کا تاج بن کر دنیا واخرت میں جگمگا رہا ہے ۔
فرمان مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ السلام ہے "انما بعثتِ معلم "
بے شک کائنات کے سب سے عظیم انسان امام انبیاء محمد عربی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو معلم بنا کر مبعوث فرمایا گیا اور خود آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو آس بات پہ فخر تھا ۔
علم کی فضیلت اہمیت ہی تھی کہ خاک کا پتلا ، حقیر قطرہ سے پیدا کیا گیا بشر مسجود ملائکہ ٹھہرا ۔ اشرف المخلوقات کا تاج اسی علم کا فیضان ہے ۔ پھر جتنا بڑا منصب اتنی ہی بڑی ذمہ داری ؟
تخلیق کائنات کا مقصود بھی اللّٰہ کی پہچان اللّٰہ کے بندوں کو کروانا ۔ جب انسان کو خود اللّٰہ کی ذاتِ کا ادراک فہم وفراست شان و کبریائی کا علم نہ ہو گا وہ کیسے رب کائنات کی واحدانیت پہ یقین رکھے گا اور جو اللّٰہ کی رحمت اور اپنی جی کی خوشی سے ارادہ و اختیارجو اللّٰہ کی رحمت وحکمت سے انسان کو دیا گیا ہے اور محنت ومحبت سے علم نافع کے حصول کی منزلیں طے کر لے ۔ اس کی رضا مندی پانے کے لیے ۔ وہی علم جو پہلی وحی کا نور غار حرا میں چمکا ۔ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تجھے پیدا کیا ۔
پڑھ وہ جو تو نہیں جانتا اسی لیے اہل علم کی گواہی اللّٰہ اور فرشتوں کی گواہی کے ساتھ اعزاز پاتی ہے ۔
علم کا سر چشمہ قرآن حکیم۔ کلام الٰہی میں غوطہ زن ہو کر ہی یہ ادراک مل سکتا ہے کہ "لا الہ الااللہ" ہی برحق ہے
قرآن اور صاحب قرآن ھادی برحق معلم اعظم نبی مہربان صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا عظیم اور کامل اسوہء حسنہ ہی وہ راز ہے وہ دل کا نور ہے۔ وہ چشم بینا ہے کہ اہل علم بھی یہ گواہی دینے کا اعزاز پا سکتے ہیں ۔
یہ آیت ہمیں دعوت دے رہی ہے کہ آؤ اس علم نافع کی طرف جو فوز عظیم کا ضامن ہے جو فرشتوں کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے ۔گواہی کس بات کی کہ وہ واحد لاشریک رب کائنات ہی غالب تھا ، ہے ، رہے گا ہمیشہ ہمیشہ ۔وہ غالب ہے تمام مخلوقات پہ تمام بادشاہت پہ وہ غالب ہے سرکش قوموں پہ وہ غالب ہے پوری کائنات پر اس کے حکم واختیار اور فیصلوں کے سامنے کسی کی مجال نہیں
حکم کی سرتابی کی
سب اس کے سامنے جوابدہ ہیں
وہ کسی کو جوابدہ نہیں کبھی بھی کہیں بھی اور اس ساری کاریگری میں، اس ساری تخلیق کی تخلیقات میں صرف اور صرف اس کی حکمتوں کےراز ہیں ۔
مخلوق کے وہ غم، دکھ، تکلیف ، پریشانی جو مخلوق اس کو غم سمجھتی ہے ۔
وہ راحتیں ،خوشیاں ، خوشحالی ، کامیابیاں جن کو ہم اپنی کامیابی سمجھ رہے ہوتے ہیں ۔ان کےاندر اس کی کیا کیا حکمتیں ہیں وہ سب جانتا ہےاوران حکمتوں کو پردہ راز میں رکھنا بھی حکمت سے خالی نہیں ۔
الحمدللہ اگر ہم طالب علم اورمعلم ہیں تو مقام شکر ہے اور
مقام فکر ہے کہ اس عظیم منصب کی عظیم ذمّہ داری سے
پوری کوشش، ایمان داری سے انصاف کر سکیں ۔ یقیناً یہ ایک بھاری منصب ہے اور اگر نہیں تو جب رب کائنات کی پہلی وحی پہلا حکم ہی اقراء ہے تو اس کے پہلے اور لازمی حکم سے حکم عدولی کس جرآت سے کر سکتے ہیں ۔
یہ لمحہ فکریہ ہے اور خاص ان تعلیم یافتہ سے جو دیگر علوم دنیوی میں کڑی محنت اور منزلیں طے کریں کر سکنے کی صلاحیت رکھیں جس ذاتِ واحد ذات رحیم وحکیم نے یہ سب صلاحیت ،اسباب ،قوت، طاقت عطاء فرمائی ہے ۔ اسی کے حکم سے بغاوت ؟
یا اللّٰہ ہم عاجز ہیں ہمیں علم نافع نصیب فرما ایسا علم جو جزاء کو سزا میں بدل دے اس سے تیری پناہ مانگتے ہیں ۔
یا اللّٰہ ہماری نسلوں کو اپنےدین سے جوڑ دے ۔ان کے دل دجالی فتنوں سے زنگ آلود ہو چکے ۔یا اللّٰہ ان کے سینوں کو نور ایمان نور قرآن نور حیا سے مزین فرما ۔
یا رب کائنات یا واحد لاشریک ذات ہم بھی گواہی دیتے ہیں کہ " لا الہ الااللہ "لفظ ہم اس لیے لکھا ہے کہ میں اور جو جو قاری پڑھے وہ بھی اس گواہی میں شامل ہوجائے ۔قبول فرما ۔ قبولیت کی گھڑی طاق رات ہے ۔
آمین ثم آمین ۔




































