
رشیدہ صدف
اے شامِ غم بتا کہ سحر کتنی دور ہے
آنسو نہیں جہاں ، وہ نگر کتنی دور ہے
نادیہ ایک ساجھے ہوئے دماغ کی خاتون تھی ۔ اُسے دوسروں کےسامنے ہاتھ پھیلانا بالکل بھی اچھا نہ لگتا تھا ۔ شوہر جو گھر کا واحد کفیل تھا اُسکے اس دنیا فانی سے چلے جانے کے بعد یہ ذمہ داری اس کے بوڑھے باپ کےکندھے پر آن پڑی تھی۔
صبح کے وقت آٹا گوندھنے کیلئے نادیہ نے ڈبہ کھولا تو بہت تھوڑا سا آٹاتھا بسم الله کی برکت کہہ کر اُس نے آٹا نکالا گوندھا صرف چار روٹیوں کا آٹا رہ گیا تھا ہے ۔ جلدی سے ڈھکنا بند کر کے دعا کرنے لگی کہ اس میں اللہ برکت ڈال جائے شام تک بلکہ سحری تک وقت گزر جائے ۔
روٹیاں بنا کر سسر کو چائے کے ساتھ روٹی دی اور خود بچوں کو لیکر، دودھ میں پانی اور نمک ڈال کر کھانا کھلانے اس طرح بیٹھی جیسے اس سے اچھی کوئی کھانے کی چیز ہو نہیں سکتی ۔
جب سسر کھانا کھا چکے تو بڑے ادب سے آواز دی ابا جی ! " جی بیٹا " دعا کرتے ہوئے بولے ۔
آٹا تو ختم ہونے کو ہے اور راشن جو الخدمت والے آٹا تو دے کر گئے تھے وہ بھی ۔ بیٹا ! الله وارث ہے، کل بھی گیا تھا لیکن راشن نہیں ملا۔ بٹ تو رہا تھا مگر لینے والے بہت تھے ختم ہو گیا۔ بیٹا! پوری تو الله کے دینے سے ہی پڑتی ہے ناں۔ الله ضرور انتظام کرےگا، یہ کہہ کر وضو کیا نماز پڑھی، دعا کی، جائے نماز تہہ کیا اور ایک امید سے چل پڑے۔ نادیہ کے چہرے پر امید اور خوشی نظر آرہی تھی۔
الله کرے پچھلے رمضان کی طرح اچھا سا راشن ہو۔ بچے جام شیریں ،دودھ کے ڈبے، جوس پا کر کے کتنے خوش ہوئے تھے اندر ہی اندر مسکرا دی ۔
رحمت علی آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتا اس جگہ جلدی پہنچنے کیلئے چلتا ہی گیا کہ پاس اتنے پیسے نہ تھے آنے جانے کا کرایہ دے سکے ۔ زیر لب دعائیں بھی کر رہے تھا کہ آج تو راشن ضرور مل جائے۔ رحمت علی کا بیٹا پچھلے سال ایک اندھی گولی لگنے سے موقع پر ہی دم توڑ گیا تھا۔ اب یہ ساری ذمہ داری رحمت علی پر تھی۔ دو بچے پہلے تھے ایک ندیم کے مرنے کے چار ماہ بعد پیدا ہوا تھا ۔
رحمت علی نے پھر سے کمر کس کی گھر کے باہر چھابڑی رکھ کر سبزی بیچنے لگا جیسے تیسے گزارا ہوتا مگر بجلی، گیس کے بلوں کی ادائیگی نہ ہو سکنے کی وجہ سے کنکش کٹ گئے۔ اب تو مہنگائی نے ایسی کمر توڑ دی کہ بچوں کی سکول فیس گھر کا کرایہ دینا بھی محال ہو گیا ۔ انہیں سوچوں میں گم اپنے محلے کے ایک بچے ساتھ مطلوبہ جگہ پر پہنچ گئے ۔ ایک لمبی قطار تھی لگا نجانے آج بھی راشن شاید ۔۔۔
نہ نہ ایسا نہ ہو اب دوبارہ آنے کی مجھ میں طاقت نہیں ۔
عمر ہو پلکوں سے درد چھلکا۔ رحمت علی الله کا نام لیکر لائن میں لگ گیا ۔ کمزوری اورتھکاوٹ کی وجہ سےکھڑا تو نہیں ہوا جارہا تھا مگر مجبوری تھی اُس کے دل کی عجیب کیفیت ہو رہی تھی ۔ آج سے پہلے کبھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی نوبت جو نہیں آئی تھی وہ کبھی اپنی ہتھیلیاں مسلتا تو کبھی انگلیاں مروڑ نے لگتا ۔ زبان پر "استغفار" کا ورد جاری ہو گیا ۔ الله الله کر کے راشن ملنا شروع ہو گیا ۔ وہ بس الله سے ہی باتیں کیے جا رہے تھا ۔ شرم بہت آرہی تھی۔
الله کے فضل سے باری آنے پررحمت علی کو راشن تو مل گیا تھا وہ ادھر اُدھر دیکھے بغیر لےکر ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا ۔ تھک بہت گیا تھا مگر اپنی ساری قوت کو جمع کر کے اُٹھ کھڑا ہوا،راشن لیکر چلنے لگا۔ ساتھ ساتھ الله کا شکرادا کرنے لگا یہ رمضان المبارک کی برکت ہے ناں ۔
نادیہ اور بچوں کو رمضان کا کتنا انتظارتھا، وہ سب آج کتنے خوش ہوں گے ؟ اب بھی آنکھوں میں آنسو تھے مگر خوشی کے ۔ میں اب بوڑھا ہوں کمزور ہوں مجھےکچھ ہو گیا تو ان بچوں کا کیا بنے گا سوچ کر ایک چکر سا آگیا رحمت علی پر بیٹھ گیا ۔
اتنے میں ایک نوجوان پاس آکر رکا سلام کیا باباجی کیا مسئلہ ہے میں سامان اٹھا کر اسٹاپ تک پہنچا دوں۔بیٹا جیتے رہو بیٹا ! تم تو فرشتہ بن کر آگئے ہو ۔ڈھیروں دعائیں دے ڈالیں رحمت علی نے۔۔ ہاں بیٹا مجھے ادھر چنگ چی تک پہنچا دیں۔
بخت جگانے رمضان آگیا
قسمت بنا نے رمضان
بیٹے نے سامان بہت آسانی سے اُٹھا لیا دوسرے ہاتھ سے بابا جی کو سہارا دے کر اُٹھایا ۔ بچہ تیز چلنا چاہتا تھا مگر بابا جی کی وجہ سے آہستہ چل رہا تھا ۔ رحمت علی کو اپنا درد بھول گیا اور دعائیں دینے لگا ۔ الله آپ کو لمبی عمر دے بیٹا ! خوش رہو سدا بڑے نیک ماں باپ کی اولاد ہو۔ الله آپ کو کامیاب کرے۔ رحمت علی اُس سے چھوٹے چھوٹے سوال کرتا چل رہا تھا۔ بیٹا ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور کہتا جا رہا تھا ۔ باباجی ! یہ تو میرا فرض ہے میرے بس میں ہو تو میں خود آپ کے گھر اپنی کمائی سے راشن لے کر پہنچا دیا کروں دوسروں کے کام آکر مجھے روحانی خوشی ملتی ہے۔ بابا جی دعا کریں ناں اسلامی حکومت ہو ، پھر یہ ملک مدینہ منورہ جیسی ریاست بنے تو پھر آپ کو یہ مشقت اُٹھانا نہ پڑے ۔ آمین آمین !! بابا جی نے جوش سے کہا ۔
اتنے میں اسٹاپ آگیا ۔ نوجوان نے سامان چنگ چی میں رکھواکر کرایہ بھی خود ہی دے دیا اور مزید کچھ پیسے بابا جی کی جیب میں ڈال دیئے اور شکریے کا انتظار کیئے بغیر مڑگیا۔ بابا جی چنگ چی پر سوار ہو گئے یہ کہتے ہوئے کس نیک ماں کا بچہ ہے۔ الله اُسے کامیاب کرنا ۔ کتنی خوبصورت باتیں کرتا ہے ۔ الله تو اس ملک میں اسلامی نظام لا۔ اللہ یہ رمضان المبارک کی برکتیں۔ الله یہ پاکستان بھی تو رمضان ہی میں ملا تھا ناں ۔ یہ سوچتے ہوئے ایک نئے جذبے کے ساتھ گھر کی طرف چل دیا۔




































