
رباب ارشد
سمیٹ لو برکتیں اس رمضان ساری
نہ جانے اگلا رمضان نصیب ہو یا نہ ہو
رمضان المبارک کا مہینہ برکتوں والا رحمتوں والا مہینہ ہے۔اس ماہ میں اللہ پاک اپنے بندوں پر بہت مہربان ہوتے ہیں۔اس ماہ میں ہمارے چھوٹے چھوٹے اعمال بھی بڑی بڑی نیکیوں کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔یہ مہینہ ہمارے لیے اللہ پاک کی طرف سے تخفے کے طور پر ملتا ہے۔اس بابرکت مہینے میں ہمیں خود کو بخشوانے کا موقع ملتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے۔
آپﷺ نے فرمایا:
"جبرائیلؑ میرے پاس آۓ اور فرمایا:
اس شخص کے لیے ہلاکت ہو جو رمضان کو پاۓ لیکن اس کی مغفرت نہ ہو سکے۔
میں نے آمین کہہ دیا۔"
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رمضان ہماری بخشش کے لیے بھی ہمیں عطا کیا گیا ہے۔ہمیں اس مہینے میں اپنے رب کو راضی کرنا ہے۔ اور اپنی بخشش کروانی ہے۔ایک اور حدیث شریف میں ہے۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
"اس شخص کی ناک خاک آلود ہو (یعنی ذلیل و عاجز ہو) جس شخص کی ذندگی میں رمضان المبارک آیا اور اس کی مغفرت ہوۓ بغیر ہی وہ مہینہ گزر گیا۔"
اس بابرکت ماہ میں ہمیں اپنے رب تعالیٰ کی زیاده سے ذیادہ عبادت کرنی ہے۔ذکرواذکار بھی کثرت سے پڑھنے ہیں۔صدقات و خیرات بھی اپنی استطاعت کے مطابق ادا کرنے چاہیے۔سب سے ضروری یہ کہ اس ماہ میں ہمیں اپنے اردگرد کے لوگوں کا، اپنے رشتہ داروں کا اور اپنے ہمسائیوں کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اپنے دسترخوان تو مختلف کھانوں سے بھرے ہوئے ہوں مگر ان سب میں سے کسی کا دسترخوان خالی رہ جائے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے گھروں میں کام کرنے والوں کا بھی خاص خیال رکھیں۔ہمیں یہ بھی کوشش کرنی چاہیے کہ ان کے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ماہ ان پر کام کا بھی ذیادہ بوجھ نا ڈالا جائے۔
رمضان المبارک میں بھوکا رکھ کر ایک طرح سے ہمیں یہ بھی سبق دیا جاتا ہے کہ ہم اپنے اردگرد کے ان لوگوں کا بھی احساس کریں جو رمضان کے بغیر بھی بھوکے ہوتے ہیں۔اس مہینے میں خاص طور پر ایسے سفید پوش لوگوں کا بھی خاص طور پر خیال رکھناچاہیے۔رمضان المبارک میں بھر پور صلہ رحمی کرنی چاہیے۔ یہ مبارک مہینہ ہمیں صبروتحمل کے ساتھ ساتھ صلہ رحمی کا بھی موقع دیتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ہمیں اس رمضان المبارک ایک اور اہم بات کا خاص طور پر خیال رکھنا ہے کہ اس وقت ہمارے فلسطینی بہن بھائیوں کو ہمارے ساتھ کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ہمیں ان کا ساتھ دینا ہے ہر حال میں۔ ہمیں سحری و افطاری میں اس بات کو مدِنظر رکھنا ہوگا کہ ہمارے دسترخوان پر کوئی بھی کسی بھی قسم کی اسرائیلی مصنوعات نہیں ہونی چاہیے۔اسرائیلی کمپنی کے متبادل اشیاء پاکستانی برانڈ میں موجود ہیں۔ ہمیں اپنی مصنوعات کا ہی استعمال کرنا چاہیے۔ اس سے نا صرف ہم اسرائیلی کمپنیوں کا بائیکاٹ کریں گے بلکہ اس سے ہمارے ملک کو بھی فائدہ ہو گا۔اس کے ساتھ ہی ہمیں اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کے لیے بہت ساری دعائیں بھی کرنی ہیں۔جب بھی اپنےامن و سکون کے لیے اللہ کے خضور دعا کرو تو اپنے فلسطینی عوام کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا ہے۔
آئیے ہم سب مل کر عہد کرتے ہیں کہ ہم نے اپنا پورا رمضان کیسے گزارنا ہے۔
؞ ہم پورا رمضان پانچوں نمازیں ادا کریں گے۔
؞ روزانہ کا ایک پورا پارہ نہ سہی مگر قرآن مجید کو کھولیں گے ضرور کم ہی سہی مگر پڑھیں گے ضرور۔
؞ ہم پورا مہینہ باقائدگی سے تراویح کا اہتمام کریں گے۔
؞ اللہ تعالیٰ سے ذیادہ سے ذیادہ دعائیں مانگیں گے۔
؞ روزانہ اپنی وسعت کے مطابق صدقات دیں گے۔
؞ ہم اپنے اردگرد لوگوں کا خاص طور پر سفید پوش لوگوں کا خیال رکھیں گے۔
؞ ہم اسرائیلی مصنوعات کا مکمل طور پر بائیکاٹ کریں گے۔
؞ ہم کسی کی بھی دل آزاری نہیں کریں گے۔
؞ ہم اس رمضان کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔
(ان شاء اللہ )
نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
جب تک میری امت رمضان کا تقدس قائم رکھے گی وہ کبھی رسوا نہیں ہوگی۔
ایک شخص نے عرض کیا:
یا رسول اللہﷺ ماہِ رمضان کا تقدس خراب کرنے میں رسوائی کیسی؟
آپﷺ نے ارشاد فرمایا:
رمضان میں جس نے حرام کام کا ارتکاب کیا، اسی طرح شراب پی یا زنا کیا اس پر اللہ کی اور آسمان والے فرشتوں کی اگلے سال تک لعنت برستی رہتی ہے۔اگر اگلے رمضان سے پہلے پہلے یہ شخص مر جائے تو اللہ کے دربار میں اس کی کوئی نیکی اسے جہنم سے نہیں بچا سکے گی۔
لہٰذا رمضان کو ضائع کرنے سے بچو۔نیکیوں کا اجر و ثواب اس میں کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہےجو دیگر مہینوں میں نہیں بڑھتا۔اسی طرح گناہوں کا وبال بھی کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔




































