
مریم اسلم
آج جب سوشل میڈیا پر دیکھا کہ پنجاب میں موسیقی کا مقابلہ ہونےجا رہا ہےاورانعام کا لالچ بھی دیا جارہا ہےتو دل کوبہت دگھ ہواکہ وہ ملک جو اسلام کے
نام پر بنا تھاجس کا مطلب ہی لاالہ اللّٰہ ہے،اس ملک میں یہ کیا ہونے جا رہا ہے ہمارے بچوں کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔ کل کو میرے بچےاس ماحول میں بڑے ہوں گےجہاں موسیقی اور ڈانس سکولوں میں سکھایا جائےگا میں تو کبھی بھی یہ بات پسند نہیں کروں گی اور اگرآج آواز آٹھاؤں گی تب ہی کچھ ہو گا۔ موسیقی تو ہےہی حرام اس کے لیے کسی دلیل کی تو ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی پھربھی جو لوگ اس چیزکو جائز اورحلال کہتےہیں ان کے لیے یہ حدیث کافی ہے۔
صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میری امت میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جوزنا،ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال قراردیں گے۔"(صحیح بخاری، حدیث نمبر 5590)
اس حدیث میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر انتباہ کیا ہے کہ ایسے لوگ آئیں گے جو حرام چیزوں کو حلال قرار دیں گے، یہ حدیث موسیقی کے حرام ہونے کی دلیل ہےجبکہ لوگ اس چیز کو ڈیفند کررہے ہیں کہ دل کے سکون کے لئے ضروری ہے،اسے روح کی غذا کہتے ہیں۔ میں یہ سن اور سوچ سوچ کر حیران ہورہی ہوں ایک چیزجس کو اللہ نے حرام قرار دے دیالوگوں کواس میں سکون کیسے ملتا ہے۔سکون میں موسیقی کا کوئی ہاتھ نہیں ہےسائنس بھی یہ بات ثابت کرچکی ہے کہ انسان جیسا سوچتا ہے ویسا ہی اس کے ساتھ ہوتا ہےاورحدیث میں بھی یہ بات واضح ہے۔
ایک مشہورحدیث قدسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتےہیں:
"أنا عند ظن عبدي بي، فليظن بي ما شاء"
ترجمہ:"میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں، پس وہ جیسا گمان کرے، ویسا ہی پائے گا۔"
یہ حدیث صحیح بخاری اورصحیح مسلم سمیت دیگرکتبِ حدیث میں موجود ہے۔ ہم سکون کی نیت سےقرآن کیوں نہیں پڑھتے ہیں؟ قرآن سے زیادہ سکون اور لذت اور کس میں ہوسکتی ہے۔
موسیقی کے حوالےسےایک معروف حدیث ہےجس میں ذکرکیا گیا ہےکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےموسیقی سننےسے پرہیز کیا۔ یہ حدیث سنن ابو داؤد میں ملتی ہے اور یہ بیان کرتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیقی کی آواز سننے سے بچنے کے لیے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لی تھیں۔
یہ حدیث ہے: حضرت نافع سےروایت ہے کہ ایک دن ابن عمر رضی اللہ عنه کے ساتھ راستے میں تھے۔ وہاں بانسری کی آوازآئی۔ انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اورراستے سے ہٹ گئے۔ جب آواز ختم ہو گئی توانہوں نے انگلیاں نکال لیں۔ پھر فرمایا: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا جب وہ اسی طرح کی موسیقی سن رہے تھے۔"
(سنن ابو داؤد، کتاب اللباس، حدیث نمبر 4921)
جب یہ بات قرآن وحدیث سےثابت ہے تو چھوڑدیں میوزک اورگانا بجانا۔اس کے علاوہ کسی بھی دلیل کی ایک مسلمان کو ضرورت نہیں ہونی چاہیے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج لوگ گوری چمڑی والوں کی بات کو زیادہ سنتے اورعمل کرتے ہیں تو آپ لوگوں کے لیے بتاتی چلوں کی سائنس کیا کہتی ہے۔
سماعت کا نقصان۔۔۔۔۔۔
* بلند آواز میں موسیقی سننا یا ہیڈ فون کا زیادہ استعمال سماعت کے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
* عالمی ادارہ صحت ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اونچی آواز میں موسیقی سننے کی وجہ سے سماعت کے مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔
نیند پراثر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
* رات کوسونے سے پہلے موسیقی سننے سے نیند میں خلل آسکتا ہے۔
توجہ کی کمی۔۔۔۔۔۔۔۔
* کچھ مطالعات نے ظاہر کیا ہے کہ پس منظر میں موسیقی ہونے سے توجہ مرکوز کرنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے، خاص طور پر جب موسیقی کے بول یا الفاظ ہوتے ہیں۔
* یہ خاص طور پر طلباء کے لیے اہم ہے، اس سے ان کی توجہ متاثر ہوتی ہے۔
دل اور ذہنی دباؤ پر اثر۔۔۔۔۔۔
* موسیقی سننا دل کی دھڑکن اور خون کے دباؤ کو متاثر کر سکتا ہے۔
* یہ جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔
ذہنی صحت پر اثر۔۔۔۔۔۔
* زیادہ جذباتی یا افسوسناک موسیقی سننےسے ذہنی حالت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
* یہ چیز افراد کی عمومی خوشی اور موڈ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یہ وہ نقصانات ہیں جو سائنس بتاتی ہے،خدارا میوزک کسی بھی لحاظ سے نفع بخش نہیں۔ ایسے پروگرامز کا ایسے مقابلوں کا بائیکاٹ کریں اور اس کے خلاف آواز ضرور اٹھائیں ہم نے خاموش تماشائی نہیں بننا ہم قدم اٹھائیں گے اور انشاللہ کامیاب بھی ہوں گے۔




































