
صبا احمد
مجید افسردہ سا گھرمیں داخل ہوا۔بیگم رضیہ چارپائی پرغصے سے بھرائی ہوئی بیٹھی تھی کیونکہ مالک مکان تین دن سے لگا تارآرہا تھا۔ دومہینے کے
کرائے کا مطالبہ کررہا تھا اور مجید کو مزدوری نہیں مل رہی تھی ۔ گھر تو روزانہ کے خرچہ پانی سے چلنے والاتھا، ماہانہ راشن کا تو کوئی تصور نہ تھا ۔بڑے بیٹے منصور جس نے بڑی مشکل سےسرکاری اسکول سے میڑک کیا تھا فیکٹری میں کام کررہا تھا۔ بیس پچیس ہزارہی مہینے کا آتے تھے جن میں سے بارہ ہزار مکان کا کرایہ اوربل پورے ہوتے تھے۔
پچھلے مہینے اسے ٹائفائیڈ ہواتو نوکری چلی گئی ، بیماری سے اٹھا تونئی نوکری کی تلاش میں پھررہا ہے جوجمع پونجی تھی تواس کی بیماری میں لگ گئی، اب مالک مکان کرایہ کا تقاضا کررہا ہے،وہ حق بجانب ہے ۔شکر ہے عبداللہ کو مدرسے میں کروادیا پڑھتا بھی وہاں ہےدوپہر کا کھانا کھا کرگھرآتا ہے۔ اللہ کا کرم ہے بیٹی دی وہ اللہ تعالیٰ نے واپس لےلی اس کو بیاہتے کیسے ! اللہ کے فیصلے پر سر جھکاتےہیں ۔
بیگم رضیہ نے ایک ہی سانس میں سب کچھ کہ کراپنے دل کی بھڑاس نکال دی ۔۔۔۔۔
مجید سر جھکائے خاموش بیٹھا رہا کیا جواب دیتا ۔۔۔۔
کچھ تو جواب دیں کوئی مزدوری ملی .؟
"مزدوری تو ملی ہےمگرکم پیسے کی ،مستری تو تین چارہزارروزکما لیتا ہےاورمزدور کودو ہزار سے زیادہ نہیں ملتے،ٹھیکے دار دیتا جبکہ ہم سروں پر دس دس بلاک اوراینٹیں اٹھا کردو دو تین تین منزلیں اوپرچڑھتے ہیں ،سارا دن اوپرنیچے اترتےچڑھتےہیں مستری توبیٹھے بیٹھےبلاک یا اینٹ لگاتا ہے اور مسالحہ بھی ہم بنا کر تسلے میں ڈال ڈال کر ان کے پاس لے کر جاتے ہیں کھبی ایک گھنٹہ یا دوزیادہ کام کرتے ہیں تو اؤر ٹائم بھی نہیں دیتے ہیں یہ نا انصافی نہیں" ۔۔پاس بیٹھا منصور بولا "ابا جان بلکل آپ مزدوریونین کے صدر سے بات کریں "۔۔۔
ہم نے کی ہےاس نے کہا "ک کچھ دن سب مزدور ہڑتال کرواورکام بند کرو ٹھیکیداروں اورانجینئر سےبات کرو پھر بات بنے گی۔ اس طرح خاموشی سے کام کرتے رہوگے تو حق نہیں ملے گا "
منصور بولاابا بلکل ٹھیک حکومت کو بھی مزدوری فکس کرنی چاہیے تاکہ ٹھیکداراورانجینئر اس کےپابند ہوں گےمگر یہ لوگ ہم مزدوروں کا حق پھر بھی مار جاتے ہیں کوئی مزدوربیمارہو توعلاج بھی اپنا خود کروائے کوئی کام کرتےمعزور ہوجائے تو کسی کسی کی مالک مدد کرتے ہیں جو ان کا اپنا بندہ ہو مجے دیکھ میں نے میڈیکل سرٹیفکیٹ بھیجا پھر بھی فارغ کردیا میں نے مزدور یونین کے صدر سے بات کی ہے وہ کہ رہا ہے کے کو سکیٹری سے بات کرے گا ".
میں نے پڑھا تھا "کہ اسی طرح پہلے عورتوں کےساتھ ہوتا تھا، امریکہ میں عورتیں فیکٹریوں میں کام کرتی تھیں ۔ ان کو آدھی تنخواہ اور مردوں کو پوری کام دونوں برابر کرتے تھے پھرعورتوں نےمظاہرے کیےاحتجاج کیا توان پر لاٹھی چارج ہواانہیں مارا پیٹا گیا مگر وہ ڈٹی رہیں اور وہ سولہ گھنٹے کام کرتے ہفتے میں کوئی چھٹی نہ ملتی وہ توکولہوکے بیل کی طرح کام کرتے آرام کے صرف آٹھ گھنٹے۔
پھر انہوں نے احتجاج کیا ان کو ماراگیا گولیوں سے لاٹھی چارج ہوتا گرفتار کرکے کچھ کو پھانسی دی گی ، آخرکار ان کے مطالبے مانے گئے 1886میں پھر ان کی اس یاد میں شگاگو میں یوم مزدور یکم مئی کو جھٹی کی جاتی ہے ۔
دنیا کے کئی ممالک میں پاکستان میں پپلزپارٹی نے بھی اس دن کو منانے کا حکم دیا اپنے دورے حکومت میں جو آج تک منایا جاتاہے ۔بھٹے کے مزدوروں کو دیکھو ان کےخاندان درخاندان قرض کے بوجھ کی وجہ سے ان کے غلام بنے ہوئے ہیں ۔بچے بھی اور ان کے آنے والے بچے بھی ۔
کسان بھی دن رات سخت محنت مزدوری کرتا ہے کھیتوں میں اس کی فصل حکومت کم روپوں میں لیتی ہے جیسے اب گندم کا فی من ریٹ کم لگایا ہے ۔
کسان کو نقصان ہوتا ہے ۔وہ بیج کھاد اوراسپرے خرید کرلگاتا ہے، ادھار پر فصل کی کٹائی پر سب دیتا ہے اس مہنگائی میں اب کیا کرے "
مجید بولا" کہتے سب ہیں مگر ہمارے حق کے لیے لڑتا کوئی نہیں ۔"
ابا کوئی نہ لڑےاپنےحق کے لیے ہم خود لڑیں گے۔ اپناحق لیں گے،انشاء اللہ بس اللہ کی مدد چاہیے۔اللہ کے نبی صہ نے تو کہا "کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری دے دو۔
نبی صہ اپنے ملازم انس رضہ عنہا کو اپنےساتھ بیٹھا کر کھانا کھلاتے حضرت عمر نے اپنی تنخواہ مزدورجتنی رکھوائی ۔ جب وہ امیر المومنین بنے ۔
حضرت عثمان اینٹ پرسر رکھ کر سوتےیہ محسوس کرنے کے لیے کہ اس کا کام اورزندگی کتنی کٹھن ہے ۔" بس مزدور کو خود کھڑے ہونا گا ۔
علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔۔۔۔
اپنی دنیا آپ پیدا کر گر زندوں میں ہے
پھرہی ہمارا حق کو تسلیم کیا جائے گا
تو قادر و عادل ہےمگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
مجید نے اک لمبی سی آہ بھری ۔۔۔۔۔۔!




































