
تہمینہ جبیں
آپ کو شاید میرا یہ جملہ کچھ عجیب سا محسوس ہو کہ خواتین کےجو حقوق موجود ہیں وہی مطلوب بھی ہیں۔
الحمدللہ اسلام نے ہم خواتین کو زندگی کے ہر شعبے میں اپنے اپنے کردار کےمطابق تمام حقوق عطا کئے ہیں لیکن افسوس معاشرہ ہمیں وہ تمام حقوق دینے سے گریزاں ہے اور زیادہ تر حقوق چھینے ہی عورت کی آزادی کے نام پر گئےہیں۔
بحیثیت انسان اسلام میں مرد اور عورت برابر ہیں لیکن اللّٰہ تعالیٰ نے خواتین کو مردوں سے جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی لحاظ سے مختلف پیدا کیا ہے اور اسی لحاظ سے ان کی ذمہ داریاں بھی مختلف ہیں۔زندگی کا کوئی شعبہ لے لیں وہاں تمام افراد کو کچھ اصول و ضوابط کے مطابق ہی چلنا ہوتا ہے لیکن آج کی عورت کو مکمل آزادی کے نام پر جن حقوق کے خواب دکھائے جا رہے ہیں وہ صرف اور صرف اس کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
بقول علامہ اقبال
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا
ناپائیدار ہو گا
میں یہاں ایک اہم مثال خاندان کے ادارے کی لوں گی کیونکہ خاندان وہ بنیادی ادارہ ہےجو مل کر ایک معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔ اسلام نے مردوں کوعورتوں پر حاکم ونگہبان بنایا ہے۔ عورت کو آزادی کے نام پر گھروں سے نکال کر برابری اور اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا جھانسا دے کر جو حقوق ان سے چھینے گئے ہیں اس سے دو نقصانات ہوئے ہیں، پہلے یہ کہ خواتین نے آزادانہ حقوق کے حصول کے لئے درپردہ وہ ذمہ داریاں اپنے کاندھوں پر لادی ہیں جن کے ادا کرنے کا حکم دین اسلام نے دیا ہی نہیں ۔ دوسرا خواتین ان ذمہ داریوں کو ادا نہیں کر پاتیں جو ہمارا دین ان پر عائد کرتا ہے۔
میں یہاں یہ بات واضح کر دوں کہ اسلام کی حدود میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے پر کوئی پابندی نہیں اور جہاں تک جاب کا تعلق ہے تو کچھ شعبے ایسے ہیں کہ جہاں خواتین کا ہونا ہی ضروری ہے۔
دین اسلام میں گھر کا معاشی نظام چلانا مردوں کی ذمہ داری ہےنہ کہ خواتین کی۔ گھرداری کا نام سنتےہی خواتین بھی یوں محسوس کرتی ہیں کہ شاید انہیں گھروں میں قید کر دیا گیا ہے اور ان سے ترقی کے وہ تمام مواقعے چھین لئے جائیں گے جو وہ گھر سے باہر نکل کر حاصل کر سکتی ہیں۔
درحقیقت خواتین نے آنکھوں پر مغرب کی عینک لگا کر اپنے حقوق وفرائض کو جانچنا شروع کردیا ہے۔ وہی مغرب جس کی عقل کا معیار یہ ہے کہ اگر مرد پورا لباس پہنے تو آزاد لیکن عورت کا مکمل لباس مغرب کے نزدیک پابندی اور ترقی میں رکاوٹ کے زمرے میں آتا ہے لیکن افسوس یہ مغربی معاشرہ گورے اور کالے کی تفریق ختم نہ کر سکا۔ آج بھی ان کے ہاں کالے لوگوں کا استحصال جاری ہے۔
ایک اسلامی ریاست کی خاتون ماں، بیٹی، بہن، بیوی غرض کسی بھی رشتےکی صورت میں کبھی بھی تنہا نہیں ہوتی۔ ایک رشتے کی کمی کی صورت میں اسلام ہمیں دوسرے رشتوں کی صورت مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے اور اگر ایک بھی رشتہ موجود نہ ہو تو پھر اس خاتون کی مکمل ذمہ داری اسلامی ریاست پر عائد ہوتی ہے۔
ایک خاندان کو لیا جائے تو اس میں ایک ماں اپنی ڈیوٹی تقریباًجوبیس گھنٹے بغیرکسی چھٹی کےانجام دیتی ہےاوراگروہ جاب پر بھی جائے تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس کے کندھوں پر دہری ذمہ داری آ جاتی ہے۔
مغرب نے اپنی عورت کو اسی آزادی کے نام پر جس چکی میں پیس دیا ہے،اب وہ ہماری خواتین کےاردگرد بھی وہی جال بنا جا رہا ہے اور افسوس کسی حد تک کامیاب بھی ہے۔ ضروری ہے کہ ہم خواتین ان کی چالوں میں نہ آئیں اور ان حقوق سے بہرہ مند ہوں جو اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمیں عطا کئے ہیں جن حقوق کو حاصل کر کے خواتین ماؤں کی صورت میں جنت کے حصول کا ذریعہ تک بن سکتی ہیں۔
ایسا اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے دین کو سمجھ کر اس پر عمل کر کے ایسے افراد پیدا کریں جو ہماری دی ہوئی تعلیم و تربیت کے مطابق زندگی بسر کریں۔ خواتین اگر اپنے پیر مضبوط کرنا چاہتی ہیں تو یہ کامیابی اسی صورت ممکن ہے جب وہ ان تمام موجود حقوق سے آگاہی حاصل کرتے ہوئے ان کی طلب گار بھی بنیں۔
اس سلسلےمیں علامہ اقبال نے ہماری رہنمائی اس طرح فرمائی ہے۔
نے پردہ، نہ تعلیم نئی ہو کہ پرانی
نسوانیت زن کا نگہباں ہے فقط مرد
جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد




































