
ہاجرہ عبدالمجید
ایک چراغ کو پرواہ نہیں ہوتی کہ اندھیرا کتنا ہی زیادہ کیوں نا ہو وہ اپنی بساط کے مطابق چراغاں کرنے سےکتراتا نہیں ہے! سورج خواہ کتنا ہی حرارت کیوں نا دے بالآخر اس
نے ڈھلنا ہی ہوتا ہے! بہتے پانی کے راستے میں خواہ کتنی ہی بڑی چٹان کیوں نا آ جائے وہ اپنا راستہ خود بنا ڈالتا ہے! پانی کو بوتل کو کیچڑ میں ہی کیوں نا پھینک دیں اس کے اندر کےپانی کو فرق نہیں پڑنا باہر کیا ہے۔
جی ہاں۔ان سب باتوں کو گننے اور بتانےکامقصد انسانی نفسیات سے منسلک کرنا ہے۔
انسان چاہے کتنی ہی گندگی سےکیوں نا گرا ہو،کتنی ہی تنقید اور قید وبند میں مبتلا کیوں ناہو اس کےاندر ابھرتا نظریہ،خوشی،سکون کوئی نہیں چھین سکتا۔
ایک دانا کا قول ہے: انسان کی سانسیں تو کھینچی جا سکتی ہیں مگرسکون نہیں بشرطیکہ وہ ایک مضبوط خیالات کا مالک ہو۔
یاد رکھیں ہر بات کو سننا،دھیان دینا ایسا ہی ہے جیسے ہر ایک سے کسی منزل کا راستہ پوچھنا اور ہر بتانے والا با کمال ہو آپ بہتر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ نتیجہ کیا ہونا،جب تک ہمارا سکون خود سے جُڑا ہے تب تک آپ ایک مسرور اور جاندار شخصیت ہوتے ہیں مگر جیسے ہی آپ اپنا یہ سکون کسی بشر سے منسلک کر ڈالتے ہیں تب سے آپ اپنی مشکلات کو بڑھاوا دیتے ہیں جن کے سامنے زیادہ وقت ٹِکنا نہایت دشوار ہو جاتا ہے اور آپ ان کے رنگ میں ڈھل جاتے ہیں۔
اپنے نظریے پختہ کریں،اگر آپ کو لگتا کہ آپ کے الفاظ کی قدر نہیں تو وہاں الفاظ ضائع مت کریں۔خاموشی اپنائیں،فضول. کی ننگ چھیڑنے کا کوئی نفع نہیں،اگر آپ کا اعتماد بار بار ٹھکرایا جا رہا تو محتاط ہو جایئں بجائے شکوے شکایات اور فسادات کے،ضبط کر جائیں۔کیوں؟؟؟؟یہی تو آپکی بہادری کی علامت ہے کیوکہ میرے نبیؐ کا فرمانِ عالیشان ہے!
" سب سے بہادر وہ ہے جو صبر کرنیوالا اور غصہ کو پی جانے والا ہے"
کُشتی کے لیے جسامت چاہیے مگر سب سے بہادر بننے کے لیے سب سے بڑا صبر درکار ہے"
بہادر بنیں اپنی خوشیوں کے لیے کسی سے مت ٹکرائیں،یا تو مل کر جییں یا بغیر کسی کو نقصان میں ڈالےتگ و دو کریں یہی آپ کی خوشیوں کی تعلق کا حقیقی جڑ ہے۔




































