
بنت خلیل/ بہاول پور
ایک دوسرے پر طنز و تیر کے نشتر چلانے والی بہنوں میں اتنا پیار آخر کیسے جاگ جاتا ہے؟؟؟ ۔۔۔جو ہر وقت ایک دوسرے کی جان کی دشمن بنی رہتی تھیں صرف اس سوچ کی
وجہ سے کہ امی دوسری کو زیادہ پیار کرتی ہیں ۔۔۔
وہ بہنیں جو ایک دوسرے کی غلطیوں کو کھول کھول کر بتاتی تھیں، اس کوشش میں کہ بس آج توامی کی ڈانٹ میں صرف ایک بہن ہی شریک ہو۔۔۔ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا تو پسندیدہ مشغلہ تھا دونوں کا۔۔۔
وہی بہنیں شادی کے بعد ایک دوسرے کی راز دار،غم خوار و جان چھڑکنے والی کیسے بن جاتی ہیں ؟؟؟
وہ چھوٹی بہن جو کبھی اپنے کپڑوں ، جوتوں ،جیولری کو دوسری بہن کو ہاتھ نہیں لگانے دیتی تھی اب شادی شدہ بہن کسی وجہ سے اپنے سسرال سے اپنا سامان نہ لا سکے تو وہی بہن اپنا سب سامان پیش کر دیتی ہے لو جی آپی آپ میرا سوٹ پہن لینا میری،یہ چیزیں بھی استعمال کر لینا بس کچھ دن اور رک جاؤ ۔۔۔
آخر اب انہیں بہنوں کو ایک دوسرے کی موجودگی میں ایسی کیا خوشی محسوس ہوتی ہے جو اتنے سال اکٹھے گزارنے میں نہیں محسوس ہوئی ۔
اب وہ بہن جو شادی ہو کر اپنے سسرال والوں کی ہو گئی ہے اپنی چھوٹی بہن کی سپورٹرکیسے بن جاتی ہے؟؟؟
وہی بہن جسے وہ ڈانٹ پڑوانا چاہتی تھی اب اپنی امی ابو سے کہہ رہی ہوتی ہے چھوٹی کو کچھ نہ کہا کریں?
آخر یہ معجزہ ہوا کیسے؟؟؟
وہی بہن جو چاہتی تھی کہ جلد اس کی بہن کی شادی ہو اس کی جان چھوٹ جائے ، سارے گھر پر اس کا قبضہ ہو ، سارا پیار اسے ملے اب اپنی بہن کو اتنا یاد کیوں کرتی ہے ؟؟؟
آخر کیوں ؟؟؟
دراصل وقتی چھوٹی موٹی لڑایاں اپنی جگہ پر بہنیں تو ایک دوسرے کا مان ہوتی ہیں ، جان ہوتی ہیں ۔۔۔




































