
عریشہ اقبال
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدا ہے جہاں لا الہ الا اللہ
دور حاضر میں جہاں محبت کا دعویٰ کرنا تو بےحد آسان ہو گیا ہے اور اس کے حق کو پہچاننے کی فکر تو کہیں کھو ہی گئی ہے یا کہنا زیادہ درست ہے کہ بھلا دی گئی ہے ۔۔۔۔ ❤️عید کا موقع ہے یقیناً عید ایک خوشیوں کا پیغام ہے اور خوشیاں تو محبتوں کا عکس ہوتی ہیں۔ مگر بات دراصل یہ ہے کہ خوشی اور محبت دنوں ہی رب رحمان کی طرف سے عطا کی گئی ،عظیم نعمتیں ہیں میں سوچتی ہوں کہاں کہاں انسان خود کو سراب کے پیچھے دوڑانے میں اور خود کو دھوکا دینے میں لگا ہوا ہے۔
ہم نے ہمیشہ سے عید کو ایک مسرت کا پیغام سمجھا ہے مگر کبھی اپنی فکر پر توجہ دینے کے متعلق نہیں سوچا ،اگر ہم سوچتے تو آج ہمیں اس عید قرباں کے لمحات کو گزارتے ہوۓ اپنے سے وابستہ رشتوں ،محبتوں اور ان سے جڑے احساسات کی فکر ہوتی مگر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہم قربانی کے حقیقی مفہوم اور اس کے حاصل کو سراسر فراموش کرچکے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم خوشی کو سرے سے جانتے ہی نہیں کہ خوشی ہوتی کیا ہے ۔
اور آخر خوشی کے معنی کیا ہوتے ہیں،اصل خوشی تو وہ ہوتی ہے جو روح کا سامان کرے ۔حقیقی خوشی تو اسے کہتے ہیں جو محبت کے راز سے آشنا کردے ،جی ہاں یہی وہ پیغام ہے جو عید الاضحیٰ ہمارے لیے ہر سال لے کر آتی ہے کہ ہم سنت ابراہیمی کو ادا کرنے اور طواف کعبہ کی حقیقی روح کو سمجھنے کے ساتھ اس کے پیچھے موجود اس عزیمت کی تصویر اور اس خلیل اللہ کی دوستی کے سفر کو یاد کرکے اپنی تذکیر کا سامان کرنے والے ہوں۔
آج فلسطین کی صورتحال آپ کے اور میری آنکھوں کے سامنے ہے کیا واقعی یہ عید خوشیوں کا پیغام ہے ؟ جبکہ آپ کے گھر عید کی خوشیوں کو بانٹنے کے لیے آپ کے ایمان کے مطابق مہمان آئے ہیں ۔ آپ کے پیارے آۓ ہیں۔ جی ہاں آپ کے گھر تو اللہ کی رحمت آئی ہے اور مہمان نوازی تو نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے ناں ! بلکل ہے میں اتفاق کرتی ہوں ،اس بات سے مگر زرا سوچیے آپ کی مہمان نوازی اگر نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم آکر دیکھ لیں۔۔۔۔ کہ یہ میری امت میری سنت کی پیروی کررہی ہے اور اس مہمان نوازی کا سامان سرزمین انبیاء پر بسنے والے ،قبلہ اول کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والے اور سنت ابراہیمی کی جیتی جاگتی تصویر۔وہ سچی محبت اور حقیقی خوشی یعنی جنت کی طلب اور جام کوثر کی آرزو رکھنے کا پیغام دینے والے عظیم مجاہدوں کے خون سے رنگی ہوئی اشیاء سے ہورہی ہے تو کیا اس مہمان نوازی پر رضاۓ رب کا دروازہ کھلے گا یا پھر جہنم کی آگ دہکے گی ۔
؟؟
زرا نہیں پورا سوچیے
اس وقت میرا اور آپ کا کڑا امتحان ہے




































