
غزالہ اسلم /کراچی
خوبصورت پھولوں سے آراستہ سٹیج، اے سی کی ٹھنڈک سے یخ ہوتا شادی ہال، دیدہ زیب کپڑوں سے آراستہ مرد و خواتین، ہستے مسکراتے
چہرے ، بھاگ دوڑ کرتے بچے، تھوڑی دیر کے لیے احسن اپنی زندگی کی سب تلخیوں کو بھول کر دوستوں سے ہنسی مذاق کرنے لگا۔ ایسا لگتا تھا کہ شہر کے سارے خوش باش لوگ اس چھت کے نیچے جمع ہیں۔
دفعتآٓ ہال کی تمام لائٹیں بند کر دی گئی، ہلکی موسیقی کا والیوم بڑھا دیا گیا۔ معلوم ہوا کہ دولہا دلہن کی اینٹری ہو رہی ہے۔ خاصے رومانوی انداز میں نو بیاہتا جوڑا ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے خراماں خراماں آگے بڑھ رہا تھا۔ مخصوص زاویے سے روشنی صرف ان دونوں پر ڈالی جا رہی تھی۔ کیمرا مین اور مووی میکر ہر زاویے سے ان یادگار لمحوں کو محفوظ کر رہے تھے۔ جیسے ہی دولہا دلہن سٹیج پر آئے تو ان پر پھولوں کی بارش کی گئی، اسنو سپرے کیا گیا اور بھی بہت کچھ۔
احسن کافی دلچسپی سے یہ مناظر دیکھ رہا تھا۔ ویٹروں نے تیزی سے بوفے ٹیبل پر کھانا لگانا شروع کر دیا۔ تکے، بریانی، قورمے کی اشتہا انگیز خوشبو نے احسن کو بھوک کا احساس دلایا۔ گھر میں تو وہ لوگ جلدی رات کا کھانا کھا کر 10 بجے تک سو جاتے تھے، جبکہ یہاں رات کے 11 بج گئے تھے۔
ویٹروں نے ڈشوں کے ڈھکن ہٹائے اور سب لوگ اپنی اپنی پلیٹ لے کر بوفے ٹیبل کی جانب لپکنے لگے۔ احسن بھی پلیٹ لے کر بریانی کی ڈش کی طرف بڑھا اور ایک ویٹر سے ٹکرا گیا جو بریانی ڈال کر مڑ رہا تھا۔ دونوں نے بے ساختہ ایک دوسرے کو سوری کہا۔ احسن پلیٹ واپس رکھ کر شادی ہال سے باہر نکل گیا۔
سب دوست بریانی ،تکے لے کر واپس میز کی طرف آۓ تو احسن نہیں تھا ،ایک دوست نے فون کیا تو اس کا نمبر بند آرہا تھا ۔
" امی آج میرے اسکول میں پیرنٹس ٹیچر میٹنگ ہے۔ آپ اور ابو 11 بجے اسکول آجائیے گا۔" احسن نے اسکول کے لیے نکلتے ہوئے فاکہہ کو یاد دلایا۔
" ہاں بیٹا مجھے یاد ہے۔" فاکہہ نے جواب دیا۔
متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے اس خاندان کے سربراہ صفدر حسین ایک دفتر میں کلرک تھے۔ ان کی بیوی فاکہہ۔ بچے (احسن ،علی اور سنابل) اس گھر میں رہتے تھے۔ احسن ان کی پہلی اولاد تھی اس وجہ سے اسے اچھے پرائیویٹ سکول میں داخل کروایا۔ چند سال بعد علی اس دنیا میں آیا۔ جب اس کے اسکول داخلے کا وقت آیا تو بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے مجبورا علی کو محلے کے عام سے پرائیویٹ سکول میں داخل کروایا۔ بعد سنابل پیدا ہوئی تو تین سال بعد اس کو بھی علی کے سکول میں ہی داخل کروا دیا تھا۔
کچھ سال بعد سنابل پیدا ہوئی ،تین سال کی عمر میں اسے بھی عمر کےاسکول میں داخل کروادیا تھا۔
احسن صفدر اور فاکہہ کا بے حد چہیتا تھا۔ پہلے تو صفدر اور فاکہہ ہر اتوار کو بچوں کو پارک یا فن لینڈ ضرور لے کر جاتے تھے۔ پھر جیسے جیسے مہنگائی زیادہ ہونے لگی تو اب صرف مہینے میں ایک بار بچوں کو کسی تفریحی مقام پر لے جاتے تھے۔
پچھلے مہینے بجلی کا بل اتنا زیادہ آگیا کہ مجبوراًاس مہینےکی تفریح ملتوی کرنا پڑی۔
احسن شروع سےاپنےابو کےزیادہ قریب رہا تھا۔ اب حالانکہ وہ میٹرک کا اسٹوڈنٹ تھا مگرابو کی توجہ چاہتا تھا۔ چند مہینوں سے صفدر صاحب نے بچوں کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا تھا۔ صبح بھی جلدی گھر سے نکل جاتے اور رات کو بھی دیر سے گھر آتے۔ بچوں سے ان کی ملاقات اتوار کو ہی ہوتی تھی۔ احسن کبھی شکوہ کرتا تو اس کے جواب میں وہ "دوستوں کے ساتھ تھا"، کبھی" دفتر کا کام تھا"، کبھی "ایمرجنسی ہو گئی تھی" کہتے۔
احسن دل ہی دل میں ابو سے ناراض رہنے لگا تھا. اتوار کو بھی ابو سودا سلف میں مصروف ہو جاتے. کسی اتوار کو الیکٹریشن کا کوئی کام ہوتا۔کبھی پلمبر کا کام کبھی خاندان کی خوشی غمی میں شرکت کے لیے امی کے ساتھ چلے جاتے. بچے گھر میں ہی ہوتے تھے۔ اس دن پی ٹی ایم میں فاکہہ اکیلی ہی گئی تھیں ،جبکہ سب بچوں کے امی ابو آئے تھے۔ گھر آکر احسن یونیفارم بدلے بغیر آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر لیٹ گیا۔
"احسن بیٹا کھانا کھا لو، میں دستر خوان لگا رہی ہوں۔" امی نے آواز لگائی۔
"مجھے بھوک نہیں ہے آپ لوگ کھا لو۔"
" کیا بات ہے احسن؟" امی نے اس کی آنکھوں سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے پوچھا۔
" آپ اکیلی اسکول آگئیں، ابو کیوں نہیں آئے؟ میرے لیے تھوڑا سا ٹائم نہیں نکال سکتےتھے؟" احسن پھٹ پڑا۔
" بیٹا آفس سے چھٹی نہیں ملی ہوگی، کوئی ضروری کام ہوگا، جبھی وہ نہیں آئے۔ تم ناراض نہ ہو۔ کھانا تو کھا لو۔" امی نے پیار سے کہا۔
" مجھے نہیں کھانا کچھ بھی۔ ابو مجھ سے پیار ہی نہیں کرتے۔ بس آفس، دوست، گھر کے کام یہ سب عزیز ہیں انہیں۔" احسن کا غصہ کم ہونے میں نہیں آرہا تھا۔
' اچھا اچھا ٹھیک ہے۔ میں رات کو ضرور بات کروں گی۔ اب آئندہ وہ تمہارے اسکول بھی آئیں گےاور تمہیں ٹائم بھی دیں گے۔ چلو میں اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتی ہوں۔" فاکہہ نے لقمہ بنا کر اس کے منہ میں ڈال دیا۔
رات ایک بجے صفدر گھر میں داخل ہوئے۔ فاکہہ نےگہری نیند سے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ کھانے کا پوچھا تو صفدر نے انکار کر دیا۔ فاکہہ بھی دوبارہ سو گئیں۔
صبح فجر کے وقت فاکہہ اٹھیں،صفدر کو ناشتہ دیا اور کل صبح نہ آنے کی وجہ پوچھی۔ "باس نے نیا شوشہ چھوڑاہے کہ جو بھی دفتر سےایک گھنٹے کے لیے کسی ذاتی کام سے جائے گا اس کی تنخواہ میں سے 500 روپے کی کٹوٹی ہوگی۔ اس وجہ سے میں نہیں آیا۔ پہلے ہی مشکل سے گزارا ہوتا ہے۔ 500 روپے کٹ جائیں گے تو اور پریشانی ہو جائے گی"۔ صفدر یہ کہہ کر جلدی سے نکل گئے۔" فاکہہ نے بچوں کو اٹھا کر اسکول کے لیے تیار ہونے کی ہدایت کی اور جلدی سے ناشتہ بنا کر دسترخوان پر رکھا۔
احسن تیار ہو کر آیا تو اسے صفدر صاحب کا جواب سنا دیا۔احسن خاموش ہو گیا۔" امی اس اتوار کو ہم "ونٹرلینڈ" ضرور جائیں گے۔ آپ ابو سے کہہ دیں۔ کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔ میرے اسکول کے سب دوست جا چکے ہیں۔ بس میں ہی رہ گیا۔" احسن نے دوپہر کا کھانا کھاتے ہوئے امی سے کہا۔
" ہاں ہم ضرور جائیں گے، امی ۔"علی اورسنابل بھی احسن کے ساتھ ہم آواز ہو گئے۔
" ہاں ہاں ٹھیک ہے۔ میں تمہارے ابو سے کہہ دوں گی۔
رات کو فاکہہ نے صفدر کو بچوں کے پروگرام سے آگاہ کیا۔ صفدرنے حساب لگایا تو کافی خرچہ تھا۔ "اللہ مالک ہے" کہہ کر وہ بستر پر دراز ہو گئے۔
" امی ریفریجریٹر کی لائٹ نہیں جل رہی۔ بوتلیں بھی زیادہ ٹھنڈی نہیں جبکہ بجلی تو آرہی ہے۔" علی نے باورچی خانے میں روٹیاں پکاتی فاکہہ سے کہا۔
" صبح تو ٹھیک تھا۔ میں ابھی دیکھتی ہوں۔" کچن کے کام سے فارغ ہو کر فاکہہ نے سوئیچ بورڈ چیک کیا۔ تار اور پلگ چیک کیا۔ سب ٹھیک تھا۔ احسن کو بھیج کر فریج ٹھیک کرنے والے لڑکے کو بلایا۔" کمپریسر کام نہیں کر رہا فریج کا اور گیس بھی کم ہو گئی ہے۔ 8 ہزار کا خرچہ ہوگا۔ دونوں کام کر دوں گا۔ "لڑکے نے کہا۔
"اچھا بیٹا، ابھی تم جاؤ۔ احسن کےابو رات کوآئیں گے تو میں ان سےبات کروں گی، پھروہ تم کو بلا کر ٹھیک کروا لیں گے۔" فاکہہ نے کہا۔
" لو بیٹھے بٹھائے یہ مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ اچھا خاصا ٹھیک چل رہا تھا فریج۔ اتنی گرمی میں فریج کے بغیر گزارا بھی نہیں ہوتا۔" فاکہہ پریشان ہو گئی۔" چلو اللہ مالک ہے۔ تم تینوں اسکول بیگ لے کر آجاؤ اور اپنا ہم ورک کر لو۔" فاکہہ نے بچوں سے کہا۔
کچھ رقم صفدر کے پاس تھی۔ باقی دوست سے ادھار لے کر اتوار کو فریج ٹھیک کروایا اورونٹرلینڈ کا پروگرام اگلے مہینے کی کسی اتوار پر چلا گیا۔ احسن پھر اداس ہو گیا۔ فاکہہ نے اس کی پسند کے چائنیز رائس اور چکن شاشلک بنا کر اس کا موڈ ٹھیک کیا۔
احسن کے دوست فہد کی بہن کی شادی تھی۔ اس نے سب دوستوں کواصرار کر کےبلایا۔سب دوست وقت پر تیار ہو کر ٹیکسی لے کر شادی ہال پہنچ گئے تھے۔ سب دوست بہت خوش تھے اور انجوائے کررہے تھے۔ کھانا کھلا تو سب اپنی پلیٹوں میں بریانی، تکے لے کر واپس اپنی سیٹ پر آئے تو احسن نظر نہیں آیا۔ سب نے ایک دوسرے سے پوچھا مگر سبھی لاعلم تھے۔احسن بائیکیا سے گھر پہنچا۔
امی کچن سے برتن دھو کر اب سونے جا رہی تھیں۔ دروازے کی گھنٹی بجی تودروازہ کھولا۔ "احسن بیٹا اتنی جلدی آگئے۔ ابھی تو 12 بھی نہیں بجے۔ فاکہہ کے سوال کا جواب دیے بغیر وہ باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔ کپڑے بدل کر بستر پر دراز ہو گیا۔
فاکہہ سمجھی کہ تھک گیا۔ وہ بھی اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گئیں۔ احسن کو کسی کروٹ چین نہیں آرہا تھا۔ بار بار کروٹیں بدل بدل کر بھی تھک گیا تھا۔ رات کے دو بجے تھے، جب دروازے کی گھنٹی بجی۔ فاکہہ نے دروازہ کھولا۔ صفدر اندر آگئے۔
" کھانا لاؤں آپ کے لیے۔" فاکہہ نے روز والا جملہ دہرایا۔
" کھانا تو یہ شادی ہال سے کھا کر آئے ہوں گے۔" احسن کی آواز آئی۔
" کیا کہہ رہے ہو احسن؟ یہ تو دوستوں کے پاس گئےتھے نا کہ شادی میں۔" فاکہہ نےحیرت سے کہا۔" پوچھے ان سے یہ شادی ہال میں کیا کر رہے تھے۔" احسن نے طنزیہ انداز میں کہا۔
فاکہہ کبھی صفدر کی طرف دیکھتی کبھی احسن کو۔ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ صفدر چپ تھے۔
" میں بتاتا ہوں۔ فہد کی بہن کی شادی میں یہ ویٹر کا لباس زیب تن کر کے کھانا سرو کر رہے تھے۔ احسن نے انکشاف کیا۔
" کیا!؟" حیرت سے فاکہہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ صفدر مجرموں کی طرح صحن میں پڑے تخت پر بیٹھ گئے۔" صفدر کچھ بولیں نا۔ احسن کیا کہہ رہا ہے؟" فاکہہ نے التجا کی۔
اچانک احسن صفدر کے قدموں میں بیٹھ گیا اور ان کے گھٹنوں پر سر رکھ کر رونے لگا۔" ابو آپ ہمارے اسکولوں کی فیسیں اور گھر کے اخراجات کی وجہ سے یہ پارٹ ٹائم جاب کر رہے ہیں؟ اور ہم سب بے خبر یہ سمجھ رہے ہیں کہ آ پ دوستوں میں وقت گزاری کرنے جاتے ہیں اور دل ہی دل میں میں آپ سے ناراض تھا۔ ابو بتائیں آپ نے ہم کو بے خبر کیوں رکھا؟ اکیلے سارا بوجھ اٹھاتے رہے۔ مجھے معلوم ہوتا تو میں کچھ بچوں کو ٹیوشن پڑھ کر آپ کی مدد کرتا۔" احسن دھیرے دھیرے سے سسکنے لگا۔
" نہیں بیٹا تم ابھی چھوٹے ہو یہ سال تمہاری پڑھائی کے لیے بہت اہم ہے۔ میٹرک میں اچھے گریڈ سے پاس ہو گئے تو آگے بھی اچھی تعلیم کے مواقع ملیں گے۔ اس لیے میں نے کسی کو نہیں بتایا۔" صفدر نے احسن کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
" صبح آپ جلدی گھر سے نکل کر کہاں جاتے ہیں؟" فاکہہ نے سوال پوچھا۔
" صبح فجر کی نماز کے بعد دو گھنٹے بائیکیا چلاتا ہوں۔ اس طرح چار پانچ سو روپے مل جاتے ہیں۔ پھر دفتر جاتا ہوں۔" صفدر نے آہستگی سے کہا۔
" بس ابو اب آپ اتنی محنت نہیں کریں گے۔ میرے میٹرک کے امتحان ہو جائیں تو میں کوچنگ سینٹر میں ٹیوشن پڑھا کر آپ کا ہاتھ بٹاؤں گا۔" احسن کے لہجے میں کچھ کرنے کا عزم تھا۔ صفدر نے اسے گلے سے لگا لیا۔




































