
ناہید طارق/ بہاول پور
باجی کے انتقال کی خبر آئی سن کر بہت صدمہ ہوا ،جلدی جلدی ٹکٹ کروائی تو پتا چلا بس تاخیر سے جائے گی ۔
بھتیجے کو بھاگم بھاگ اڈے پر بھیج کر ٹکٹیں واپس کروائیں اور ڈائیوو کی لیں ۔
گھر سے جلدی جلدی ڈائیوو ٹرمینل کی طرف چل نکلے۔ ڈائیوو سٹاپ پہ پہنچے تو بس نکل رہی تھی اور ہم انٹر ہو رہے تھے معلوم ہی نہ تھا کہ ہماری بس ہے ،جب سٹاپ پہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ ڈیڑھ منٹ پہلے جو سامنے سے بس نکلی وہ ہماری ہی بس تھی ۔پھر ٹکٹ واپس کی اور دوبارہ بھاگم بھاگ فیصل موورز پر پہنچے اور جو بس ملتان کے لیے نکل رہی تھی وہ لی کہ جا کر چینج کر لیں گے ۔وہاں ملتان سے فیصل آباد جو بس جانی تھی اس کا اے سی خراب ہو گیا۔ ذہن میں آیا ہی نہیں کے اس سے اگلی بس کی ٹکٹ لے لیں۔ گھنٹہ لگا اس کا اے سی ٹھیک ہونے میں اسی چکر میں پرانی بس پہلے نکل گئی ۔
بس میں ایک مریض کو وومٹنگ ہو رہی تھی۔ سب نے اسے برداشت کیا نہ کوئی لڑا، نہ کسی نے اسے باہر نکلنے کو کہا بالکل اسی طرح ہمیں جیسے اس معاشرے میں ،خاندان میں ،سب کے ساتھ سمجھوتا کرنا ہے ،انہیں ساتھ لے کہ چلنا ہے، نہ کہ کاٹ کہ پھینک دینا ہے ۔
فیصل آباد پہنچ کہ رکشے والے سے کہا تیز چلاؤ جنازے پرجانا ہے ۔۔۔ خیر اس نے پہنچا دیا ۔یوں ڈیڑھ منٹ کے فرق نے سفر کو مشقت میں بدل دیا اور 5 گھنٹے کا سفر پورے دن پہ مشتمل ہو گیا ۔کبھی کبھی زندگی میں ڈیڑھ منٹ اتنا اہم ہوتا ہے، یہ ہم نے اس دن جانا۔ منٹ دومنٹ کی دیر کو کبھی ہم نے اہمیت ہی نہیں دی ۔




































