
غزالہ اسلم
"حبا آج کالج سے جلدی آ جانا تمہاری خالہ اپنی سہیلی کے ساتھ آئیں گی۔" امی نے اطلاع دی۔" خالہ آرہی ہیں یہ تو ٹھیک ہے مگر سہیلی کو
کیوں ساتھ لا رہی ہیں؟" حبا نے سوال داغا۔
چھوٹی بہن دعا کی معنی خیز مسکراہٹ سے حبا کی سمجھ میں ساری بات آگئی۔ "امی منع کر دیں خالہ اور ان کی سہیلی کو مجھے نہیں کرنی شادی ۔ابھی میرا ماسٹر مکمل ہو جائے تو مجھے جاب کرنی ہے، اپنا کیریئر بنانا ہے۔" حبا غصے سے بولی۔
" بیٹا تمہارے ابو جاب کرنے کے حق میں نہیں، وہ امتحانات کے بعد تمہاری شادی کرنا چاہتے ہیں۔ آگے دعا اور روحان کی بھی ذمہ داریاں ہیں ،پڑھائی اور شادی کی۔" امی نے سمجھایا۔ حبا پاؤں پٹختی ہوئی چلی گئی۔
شام کو خالہ اپنی سہیلی کے ساتھ آئیں اور حبا کو پسند کر کے اپنے بیٹے کا رشتہ ڈال گئیں ۔ حبا نے رو رو کر گھر سر پر اٹھا لیا، کھانا پینا چھوڑ دیا اور اتنا زبردست احتجاج کیا کہ امی نے فی الحال شادی کا ارادہ بدل دیا۔
سمرا اسکول کے زمانے سے حبا کے ساتھ تھی۔ ایک گلی میں دونوں کے گھر تھے۔ ساتھ اسکول جاتی تھیں۔ کالج میں بھی دونوں نے ایک جیسے مضامین کا انتخاب کیا۔ یوں دونوں کی دوستی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتی گئی۔ سمرا کا ارادہ بھی جاب کرنے کا تھا مگر سمرا کے ابو کافی سخت مزاج تھے اور وہ اپنے ابو سے ڈرتی تھی۔ سونے پہ سہاگا اس کے دو بڑے بھائی تھے جو بالکل ابو کی طرح سخت مزاج تھے۔ بڑی مشکل سے کالج میں داخلے کی اجازت ملی تھی، جیسے ہی فائنل امتحان ہوئے اور سمرا کے لیے رشتہ آگیا۔ ابو اور بھائیوں کو بھی لڑکا پسند آگیا۔ وہ لوگ جلدی شادی مانگ رہے تھے۔ سمرا کا رونا دھونا کام نہ آیا اور دو ماہ بعد سمرا کی شادی ہو گئی۔
حبا نے مختلف اداروں میں اپنی سی وی ارسال کر رکھی تھی۔ سمرا کی شادی میں حبا کو سمرا کی خالہ ساس نے اپنے بیٹے کے لیے پسند کر لیا۔ ایک دن حبا کتابوں کی الماری درست کر رہی تھی کہ سمرا اپنی ساس اور خالہ ساس کے ساتھ آ دھمکی۔ حبا کو جب ان کے آنے کی وجہ معلوم ہوئی تو اس نے سمرا کو خوب باتیں سنائیں۔" چائے پیو اور اپنے مہمانوں کے ساتھ چلتی بنو۔ خود تو پھنس گئیں گھر گرہستی کے جنجال میں، اب مجھے بھی پھنسانا چاہتی ہو۔"
"شادی تو ہر لڑکی کی ہوتی ہے ایک نہ ایک دن، یہ تو اللہ کا حکم ہے، ہر ماں باپ اس فرض سے جلد از جلد فارغ ہونا چاہتے ہیں۔ اس میں کیا برائی ہے اور اویس بھائی بہت اچھے، تعلیم یافتہ ہیں ، نوکری بھی اچھی ہے تم خوش رہو گی۔"سمرا نے سمجھایا۔
حبا کچھ سننے کے لیے تیار نہ تھی۔ مستقل غصے میں الٹی سیدھی باتیں کرتی رہی۔ ان لوگوں کے جانے کے بعد بھی حبا بڑ بڑاتی رہی۔ امی نے شوہر کو رشتے کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے حبا کو بلا کر کہا،" بیٹا یہ رشتہ بہت مناسب معلوم ہو رہا ہے۔ کل میں لڑکے کے بارے میں معلومات کر رہا ہوں ،تم ذہنی طور پر شادی کے لیے تیار ہو جاؤ۔" "ابو آپ جانتے ہیں مجھے نوکری کرنے کا کتنا شوق ہے۔ ایک جگہ سے انٹرویو کال آئی ہے ۔میں چاہتی ہوں اس گھر کے حالات بدلیں ۔ میرے بہن بھائی اچھے کالج میں پڑھیں ،امی کا اچھے اسپتال میں علاج ہو۔ آپ پلیز دو چار سال کی مہلت دے دیں پلیز۔ حبانے رو رو کر ابو کو منا ہی لیا ۔حبا کی امی نے سمرا سے معذرت کر لی ۔ حبا کو آفس میں نوکری مل گئی تنخواہ بھی اچھی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک سال گزر گیا۔
گھر کی مرمت اور رنگ و روغن کرا کے نیا فرنیچر خریدا گیا۔ دعا پرائیویٹ کالج میں پڑھ رہی تھی اور روحان کا داخلہ مہنگے اسکول میں ہو چکا تھا۔ آنے جانے کے لیے وین لگوا لی تھی۔ حبا نے امی کا علاج بھی پرائیویٹ ہسپتال میں کروانا شروع کر دیا تھا۔ حبا اچھا لباس پہنتی، مہنگا موبائل اس کے استعمال میں تھا، میک اپ کا امپورٹڈ سامان خریدتی۔ ان دنوں حبا خوشیوں کی ہنڈولے میں جھول رہی تھی۔ آفس میں ایک لڑکی اریج سے اس کی بہت دوستی ہو گئی تھی۔ وہ بھی شادی کو بوجھ سمجھتی تھی اور لڑکیوں کی آزاد زندگی کو پسند کرتی تھی ۔ دونوں آفس میں ساتھ لنچ کرتیں اور ساتھ شاپنگ کرتی تھیں۔ غرض ہر طرح سے زندگی کو انجوائے کرتیں۔
ان دنوں حباکے لیے پھر ایک رشتہ آیا ہوا تھا۔ " امی اگر وہ لوگ شادی کے بعد نوکری جاری رکھنے کے لیے تیار ہوں تو میں اس رشتے کے بارے میں سوچوں گی۔"حبا نے شرط رکھ دی۔
" بیٹا سعد کی امی بیمار ہیں۔ ڈاکٹر نے جواب دے دیا ہے۔ اس لیے وہ جلدی شادی کرنا چاہتی ہیں۔ سعد کے والد نہیں ہیں اور چھوٹے بہن بھائی ہیں جو پڑھ رہے ہیں۔ تم نوکری جاری نہیں رکھ سکو گی۔" امی نے صورتحال واضح کی۔
"اچھا تو انہیں نوکرانی چاہیے جو گھر کے تمام کام بھی کرے اور ان کے بچوں کی ذمہ داریاں بھی اٹھائے۔ مجھے نہیں کرنی شادی وادی۔ منع کر دیں ان لوگوں کو۔ میں نے اس لیے اتنی محنت سے تعلیم حاصل نہیں کی کہ جھاڑو برتن کروں، ہانڈی روٹی کروں۔ نا بابا یہ تو جاہل عورتوں کے کرنے کے کام ہیں۔" حبا نے بدتمیزی سے کہا۔
ابو نے بھی سمجھایا مگر حبا کافی منہ زور ہو چکی تھی۔ کسی کے سمجھانے سے نہ سمجھی اور سعد کے گھر والوں کو بھی منع کر دیا گیا۔ اس طرح سال پہ سال گزرتے گئے۔ ابو کا اچانک ہارٹ اٹیک ہو گیا۔ دعا کی تعلیم مکمل ہوتے ہی ایک اچھا رشتہ آیا تو امی نے اس کی شادی کر دی۔ روحان ڈاکٹر بن گیا۔ مزید تعلیم حاصل کرنے لندن چلا گیا۔ دو سال بعد روحان نے وہیں شادی کر لی۔ دعا اپنے شوہر بچوں کے ساتھ دبئی شفٹ ہو گئی تھی۔
حبا نے پرانا گھر بیچ کر گلشن میں پرآسائش فلیٹ خرید لیا۔ گاڑی چلانا سیکھی۔ کچھ عرصے بعد سیکنڈ ہینڈ آ لٹو خرید لی۔ مزے سے گاڑی میں بیٹھ کر آفس آتی اور جاتی تھی۔ گھر میں دو ماسیاں تھیں جو تین گھنٹے میں جھاڑو برتن کپڑے کھانا پکانا سب کام کر کے چلی جاتیں۔
حبا اب 45 سال کی ہو گئی تھی۔ امی بہت بیمار رہنے لگی تھیں ۔ انہیں حبا کی بہت فکر تھی اگر مجھے کچھ ہوگیا تو حبا اکیلی کیسے رہے گی۔ اب تو کوئی رشتہ بھی نہ آتا تھا۔ ایک دن حبا آفس سے آئی تو امی باتھ روم کے باہر بے ہوش پڑی تھیں۔ ایمبولنس کو کال کر کے ہسپتال لے گئے۔ دو دن ہسپتال میں آئی سی یو میں رہنے کے بعد امی خالق حقیقی سے جاملیں۔ دعا اور روحان کو اطلاع دی گئی مگر کووڈ 19 کی وجہ سے جہاز بند تھے۔ وہ دونوں امی کی آخری رسومات میں شرکت نہ کر سکے۔ پڑوسیوں اور دور کے ملنے والوں نے جنازہ آخری آرام گاہ تک پہنچایا۔
ایک ہفتے کی چھٹی کے بعد آج حبا پہلے دن آفس آئی تھی۔ سب کولیگز نے اس سے تعزیت کی۔ دل بہت اداس تھا۔ مشکل سے کام کر کے شام کو گھر پہنچی تو بکھرا ہوا ،سناٹے دار گھر اس کا منتظر تھا۔ ماسیوں کو فارغ کر دیا تھا۔ خالی گھر کیسے ماسی کے حوالے کر دیتی۔ پہلے تو امی ہوتی تھیں، اپنے سامنے ماسیوں سے کام کروا لیتی تھیں۔ اتنے سال بعد چند برتن دھونے بہت گراں گزرے۔ خالی گھر کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔ اپنے لیے کیا کھانا پکاتی۔ چائے بسکٹ سے گزارا کر لیا۔ دن رینگ رینگ کر گزر رہے تھے۔روزانہ امی کے لیے قران کی تلاوت کرتی اور ہر اتوار کو یتیم خانے میں بریانی کی ایک دیگ پکوا کر دیتی ،امی ابو کے ایصال ثواب کے لیے۔
رات کو ہلکا سا بھی کھٹکا محسوس ہوتا تو گھبرا کر اٹھ جاتی پورے گھر کے دروازے کھڑکیاں دیکھتی کہیں چور تو نہیں آگیا، مگر اس کا وہم ہوتا پھر بستر پر آکر لیٹتی تو آنکھوں سے نیند اڑ جاتی۔
آج اسے سمرا کا فون آیا تھا امی کے انتقال کا معلوم ہوا تو تعزیت کے لیے آنا چاہ رہی تھی ،حبا نے گھر کا پتہ سمجھایا اور اتوار کو آنے کا کہہ دیا۔
سمرا آئی تو اس نے حبہ کو گلے لگا لیا، حبا بری طرح رو پڑی۔ سب حالات کہہ سنائے۔ سمرا کے ساتھ اس کی بیٹی اور بہو بھی تھی۔ دونوں کی گود میں بچے تھے۔سمرا کے چار بچے ( دو بیٹے اور دو بیٹیاں) ایک بیٹے اور بیٹی کی شادی کر دی تھی باقی دو بچوں کے رشتے طے ہو گئے تھے۔ اگلے مہینے شادی متوقع تھی۔ سمرا نے بہت تسلی دی، ہر کام میں تعاون کا یقین دلایا اور رخصت ہو گئی۔
کچھ دن بعد سمرا اپنے بیٹے اور بیٹی کی شادی کا کارڈ لے کر آئی اور شرکت کے لیے بہت اصرار کر کے گئی۔ بہت دنوں بعد حبا تحائف لے کر اہتمام کے ساتھ تیار ہو کر شادی ہال میں پہنچی ۔ سمرا اور اس کا شوہرا سٹیج پر بیٹھے تھے۔ دونوں دلہنوں اور دلہا کے ساتھ صوفے کے پیچھے بیٹی داماد، بیٹا بہو اپنے بچوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ سب کے چہرے خوشی سے چمک رہے تھے۔ حبا کے دل سے ہوک اٹھی۔ تحائف سمرا کی بہن کے حوالے کیے اور طبیعت کی خرابی کا بہانہ کر کے وہ تھکے تھکے قدم سے پارکنگ ایریا کی طرف بڑھ گئی۔#




































