
حبہ خالد
اکثر اوقات ایسا ہوتا ہےکہ جن جگہوں پرآپ تواتر سے جاتے رہے ہوتے ان میں انفرادیت وقت کے ساتھ ساتھ کم لگنے لگتی ہے
۔ انس مدھم پڑنےلگتا ہےلیکن صدر ایک ایسا مقام ہے جو گھر کےنہایت قریب ہےاورگھر کے قریب ہونے کے ساتھ ساتھ دل کے بھی بہت قریب ہے ۔ بشمول ایمپریس مارکیٹ صدر کی تمام عمارتیں تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کو ڈراؤنی نہیں لگتیں بلکہ ان عمارتوں سے انس کا احساس بچپن ہی سےمحسوس ہوتا آیا ہےاور گھر کے اتنا قریب ہونے کے باوجود یہ مقام میرے دل میں اپنی اپنایت کو بالکل بھی مدھم نہیں کرسکا ہے ۔
ایک احساس کہ کبھی قائداعظم بھی اپنی دیدہ زیب تراش میں ان شاہراہوں سےگزرتے ہوں گے۔ تانگےوالے چاچا کتنے علم کی تلاش میں نکلے طالب علموں کو ان کی درس گاہوں تک پہنچاتے ہوں گے ۔ مسجد قصاباں میں نمازیوں کا کثیر تعداد میں ہونا اور ان کا اس تاریخی مسجد میں نماز پڑھنے کا لطف اٹھانا۔وہی مسجد قصاباں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ گورنر جنرل قائد اعظم جیسی ہستی کے لیے بھی مولوی صاحب نے انتظار نہ کیا اور عید کی نمازاپنے وقت کے مطابق بغیر تاخیر کیے پڑھا دی گئی ۔
صدر ہو یا برنس روڈ کی عمارتیں دونوں کو ہی ریاست کی توجہ کی بے حد ضرورت ہے لیکن پھر چپکےسےدل میں ایک خیال سرگوشی کرنے لگتا ہے کہ آیا بعد میں یہ عمارتیں اپنا حسن اور انس برقرار رکھ سکیں گی بھی یا نہیں۔۔
ایمپریس مارکیٹ کے قریب کھڑی مزدہ بسوں کےکنڈیکٹروں کی آوازیں آج بھی اس عظیم دور کی خوبصورت یادوں میں لے جاتی ہیں جس دور نے بڑے بڑے آدمی پیدا کیے۔مختارمسعود اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ" قدرت کے بھی کچھ اصول ہوا کرتے ہوں گے " تمام عظیم لوگوں کو ایک ہی دور میں پیدا کردیتی ہے اور پھر برسوں تک کوئی ایک بھی ان کی عظمت کے مرتبے تک نہیں پہنچ پاتا۔
صدر سے گزرتے ہوئےبہت سی ریڑھیاں آپ کو نظرآئیں گی جن پر کثیر تعداد میں کتابیں رکھی ہوتی ہیں۔ کتابوں کی حالت تو خستہ حال ہوتی ہے لیکن باذوق نظریں ان کی خستہ حالی میں پنہاں تاریخی عقیدت اور ماضی سے انسیت کے راز تلاش لیتی ہیں اور یہ کتابیں اپنی اصل قیمت سے کہیں کم قیمت میں خریداروں تک پہنچ جاتی ہیں اور اس امر کی تصدیق کردیتی ہیں کہ علم بہرحال وراثت ہے اور اہل علم میں اس کی تقسیم اس علم کا حق ہے جو ان کتابوں کے اندر موجود ہے ۔
صدر مقام کے اپنے اندر ایک دنیا آباد ہےجو محسوسات کی دنیاہے،کیفیات کی ترجمانی کرتی ہوئی انسیت کا پیغام دیتی ہوئی دنیا ہے پھر چاہے وہ ٹریفک کے ہجوم میں بیٹھیں ڈرائی فروٹ بیچتی خواتین کا ذریعہ معاش ہو یا موبائل مارکیٹ میں بھاؤ کرتے بیوپاری ہوں ، چاہے اپنے مذہب کے مطابق رسومات ادا کرتے پارسی ہوں ،بروہی یا مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد۔صدر کے ماحول میں یہ تمام لوگ ایک دنیا آباد کرتے آرہے ہیں اور اس کی رونق کو برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔
صدر تم عزیز ہو ۔۔۔۔۔یا شاید "بہت عزیز " کچھ چیزیں ایسی ہوتیں ہیں کہ جنہیں انسان دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر بھی بھولنا نہیں چاہتا اور کوئی بھی خیال اس کی کیفیت کو تبدیل کرنے سےقاصر ہوتا ہے کیونکہ دل کی دنیا میں موجود ہر خانے کا ،ہر گوشے کا آخر اپنا ایک مقام ہوتا ہے ،اس مقام کی خاصیت محض وہ دل ہی جانتا ہے جس دل نے اپنے اندر موجود خانوں کی تقسیم کی ہے خواہ وہ خانہ تم سے متعلق احساسات پر مشتمل ہو یا پھر خود سے جڑی ہر اپنائیت کا جس اپنائیت سے جڑا جذبہ اپنے اندر منفرد سی کشش رکھتا ہے اور تم ان میں سے ایک ہو ۔




































