
سروے رپورٹ : شگفتہ ضیاء / صفیہ نسیم
فرد واحد سےشروع ہوکر لاکھوں افراد کے دلوں کو اپنے پیغام سے مسخر کرنے والی جس تحریک نے پوری دنیا کو متاثر کیااور
جس کے متاثرین نےاس کے نصب العین کی خاطر لاتعداد جانیں قربان کیں اورعزم و استقامت کی لازوال داستانیں رقم کیں، الحمد للہ آج ہم اسی کا یوم تاسیس منا رہے ہیں یعنی دور حاضر کے مجدد مولانا سید ابوالاعلی مودودی رحمۃاللہ کی بنائی ہوئی جماعت اسلامی تاکہ لوگوں کوایک دفعہ پھریاد دہانی ہوکہ اللہ کےدین کے قیام اورسربلندی کے لیے کوشش کا کیا مطلب ہےاورمسلمان ہونےکا تقاضا کیا ہے۔
بقول علامہ اقبال
چوں می گویم مسلمانم بلرزم
کہ دانم مشکلات لا الہ را
جب میں کہتا ہوں کہ مسلمان ہوں تو لرز جاتا ہوں کیونکہ میں لاالہ (کے اقرار) کی مشکلات کو سمجھتا ہوں۔
کلمۂ لا الہ کے حقیقی مفہوم کو سمجھ کر اللہ کے دین کے نفاذ کی تڑپ رکھنے والی خواتین سے رابطہ کر کے....
حریم ادب ضلع شرقی نے ایک سروے ترتیب دیا ۔
سوال اور جوابات آپ کے پیش خدمت ہیں.
سوال :جماعت اسلامی کی وہ کیا خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے آپ نے اس جماعت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا؟
آئیے آپ بھی ان کے خیالات سے مستفید ہوں اور جماعت اسلامی سے مزید آگا ہی حاصل کریں.!!
شاید کسی کا کہا ہوا کوئی جملہ آپ کے دل کو چھو جائے۔
رقیہ احسان
ہوش سنبھالتے ہی گھرمیں جماعت اسلامی کا ذکر بھی سنا اوروالد گرامی کو جماعت اسلامی پر فریفتہ پایا
مگر میں باقاعدہ جماعت اسلامی کا حصہ کیسے بنی یا جماعت اسلامی میری پہچان کیسے بنی ...؟.
دراصل میری زندگی کی سب سے بڑی "خوش نصیبی "میرا جماعت اسلامی میں شامل ہونا ہے۔
جماعت اسلامی میں شامل ہونےکی وجوہات تو بہت ساری تھیں مگرذاتی وابستگی گھر میں ہفتہ وار درس قرآن میں شرکت کر کے پیدا ہوئی.
سینئرخواتین ارکان کو سننا اوردیکھنا نصیب ہوا،ایمان کی حلاوت اور خالص اللہ کی محبت کا مشاہدہ ہوا۔۔۔
دین سیکھنے اورسکھانےکےلئے،سید مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کےمطالعہ سے علمی آگاہی حاصل ہوئی ۔جماعت اسلامی کا مجھ ناچیز پربہت بڑاحسان ہے،بالکل ماں جیسی خیرخواہ اورمحبت سےجوڑ کےرکھنے والی۔ ہمدردی اوراپنائیت کا احساس بالکل ایک خاندان کی طرح جس میں ایثار کی بھی تلقین ہے اورعفو و درگزر کا بھی درس ہے۔اس جماعت سے وابستہ لوگوں کی ایک الگ پہچان ہے۔صبیحہ باجی اورعائشہ باجی خاص طور پر جی چاہتا تھا کہ وہ گھنٹوں بولتی رہیں اور میں سنتی جاؤں.
عصمت آرا
کم عمری کی شادی اوروالدین کی نصیحت "جوشوہر کہے اس کی بات ماننی ہے"نے جیسے دل ودماغ میں بسیرا کیا ہوا تھا ۔نہ جانے کیوں گناہوں پراصرار نیکیوں سے فرار کے لیے ان جملوں کی تکرار ماحول میں جیسے رچ بس گئی ہو!
"اللّٰہ توغفور الرحیم ہے وہ سارے گناہ معاف کردے گا"
انہی جملوں کی زد میں انڈیا کے ایک سفر سے واپسی پرانڈین بنارسی ساڑھی پہنے،بالوں میں گجرا سجایے فلائٹ پکڑی تو مجھے توکھانے میں ویجیٹیرین ڈش ،شوہر اوربچوں کو مٹن ،مارے حیرت کے ائیر ہوسٹس کا منہ تکتی رہ گئی۔
دل ودماغ میں جیسے گناہوں کی ٹیسیں اٹھ رہی ہوں ۔ کانوں میں بازگشت کرتی آوازیں مجھ سے کہہ رہی ہوں تم مسلمان ہو؟؟ تمہارے حلیے نےاس ائیر ہوسٹس کی نظر میں تمہیں انڈین بنادیا ہے۔یہی وہ وقت تھا کہ احساس گناہ نے میرے وجود میں جنم لیا۔ ندامت کے آنسو تھےکے تھمنے کا نام نہ لیں!شائد رب کو یہ ادا پسند آگئی اور مجھے جلد ہی رب نے حق کی راہ پر چلنے والے قیمتی مسافروں سے ملاقات کروائی۔
جنہوں نے قرآن کے الفاط دل میں اتار دیئے !!
مولانا مودودی (رح) کی تفسیرکے مطالعہ نےمیرےاندرایمان کی شمع جلائی جس کی روشنی نے میرے گھر بار کی آبیاری کی !
قافلہ مودودی رحمہ میں شامل عظیم جان نثاروں نےپھرسے ایمان کو تازہ کردیا، سیاسی شعور بیدار کیا ،باطل کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونا سکھایا۔ شکریہ جماعت اسلامی ۔
یاسمین شفیق
میں نے اسلامی تاریخ میں محمد صل اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کے عزم صمیم، جہد مسلسل اور استقامت کے بارے میں پڑھا تواس کے سحر میں گرفتار ہوگئی ۔ ہمیشہ دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں اس وقت موجود ہوتی اسلام کو سربلند کرنے میں میرا بھی کوئی حصہ ہوتا اورآج جب امت مسلمہ مغلوب ہےاور خطرات میں گھری ہے تو اس وقت اسلام کی سربلندی میں کس طرح اپنا حصہ ڈال سکتی ہوں؟ پھر کچھ ایسا ہوا کہ الیکشن کے لئے کام کے دوران میری ملاقات جماعت کی کارکنان سے ہوئی.ان کےپرخلوص دعوت کےاندازسےمتاثر ہوکردرس میں جانے لگی۔
درس، دورہ قرآن اورپھر مولانا مودودی کے لٹریچر نے میرے دل کو سکون و اطمینان اور سرشاری سے بھردیا۔
مولانا مودودی بلاشبہ اس دور کےمجدد ہیں۔ وہ لوگوں کے دلوں میں غلبہ اسلام کی ایسی تڑپ پیدا کر دیتے ہیں کہ پھر انسان کو اپنی دنیا کی زندگی آخرت کےمقابلے میں بے معنی نظر آتی ہے اوروہ اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئےتیار ہو جاتا ہے۔(واضح رہے کہ یہ شہید کی ماں ہیں جو اپنے جگر گوشے کو راہ خدا میں پیش کر چکی ہیں (از مرتبہ)۔ مولانا کی کتب نے میرے جذبات کو راستہ دکھایا ۔ میں ام اکبر خالہ جان صبیحہ شاہد، حمیرا جاوید، اور مشعل باجی کی دل سے مشکورہوں انہوں نے ہمیں قرآن سےجوڑا، اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کی قبروں کو اپنے نورسے بھر دے اور انکی تمام کوششوں کو قبول فرمائے۔ آمین
زینب جلال
جماعت اسلامی سے پہلا تعارف امی کے ذریعے ہوا، گویا اعتماد کا پہلا رابطہ قاٸم کرنے والےفرد سے بھی اعتماد کا رشتہ، راستہ آسان کرگیا۔ یہ تعلق صرف ذہنی اورعلمی رہتا کہ ایک دن گیٹ کی گھنٹی بجی اور علاقے کی خواتین نے اپنا تعارف کرواکردورۂِ قرآن کی دعوت دیاور یوں دلی اور ذہنی وابستگی سے آگے بڑھ کر عملی تعلق کا آغاز ہوا۔ پھر جماعت کےلٹریچر کو پڑھا جیسے بند ذہن کے دریچے کھلتے ہی چلے گئے ۔گزرے کتنے ہی برسوں کا تجزیہ کروں تو جماعت اسلامی ،محبت وامانت، علم وعمل کا حسین امتزاج ہے۔جماعت اسلامی ایسا حلقہ اثر ہےکہ اب اس کے بغیر زندگی بے معنی لگتی ہے۔اللہ پاک جماعت اسلامی کودنیا واخرت کی خیرعطا فرماۓ آمین۔
عالیہ زاہد بھٹی
جماعت اسلامی کا نظریہ ہی اصل میں اس کی وہ اہم ترین خصوصیت ہےجو جوق در جوق افراد کو اس سےجوڑتی ہے ۔ہر وہ فرد جو چاہتا ہے کہ کلمہء حق کا اقرارکرنے کےبعد اس کو عملی شکل میں قائم کرے۔ جماعت اسلامی کی دعوت اس کے لئے نعمت بےبہاہے۔ہم جیسے وہ افراد جومعاشرے کی شخصیت پرستانہ ڈگرسےاکتائے ہوئےاعلائےکلمۃ اللہ کے لئے شہادتیں پیش کرنے کو تیار رہا کرتے تھے،ان کے لئے جماعت اسلامی میں شمولیت باعثِ سعادت رہی ۔
ذہنی خلفشار ہویا قومی انتشار یہ اطمینان ہے کہ ہم اللہ کے ہیں اورجماعت اسلامی اللہ ہی کے اصول و قوانین رائج کرنے والی جماعت ہے۔ اس کی بنیاد اعلائے کلمۃ اللہ اورمنزل رضائے الٰہٰی ہے۔ نتائج کی ذمہ داری ہماری نہیں کاوشیں ہماری ہیں۔
عندلیب علی
میں جماعت اسلامی میں کیسے آئی ۔سچ تو یہ ہے کہ بہت سوچ سمجھ کے اور ناپ تول کے آئی۔ میری جماعت اسلامی سے ایسی مخالفت تھی کہ مولانا کےترجمہ کیے ہوئےقرآن کو پانچ سال ہاتھ نہ لگایا۔ کہیں وہابی نہ ہوجاؤں۔ (یہ اوربات ہے کہ شادی تایازاد سے ہوئی جو رکن جمیت تھے)
پڑھنے کے شوق کی وجہ سے گھر میں موجود بہت لٹریچر پڑھا۔ میں کسی کی شخصیت واخلاق سے مرعوب ہوکر نہیں بلکہ جماعت اسلامی کی ،اجتماعیت سے متاثر ہوئی۔۔۔۔ جس میں رنگ،نسل،زبان، گورے وکالے ایک دوسرے سے افضل نہ تھے۔ امیر وغریب کی درجہ بندی نہیں تھی. جو جتنی اونچی ذمہ داری پہ تھا، وہ اسی قدر عجزو انکساری کا پیکر بنا ہوا تھا، جہاں جگہ ملی وہیں بیٹھ گیا۔ یہ منظر آج بھی ذہن میں تازہ ہے،ادارہ نورحق میں شاید ناموس رسالت صہ کا بہت بڑا اورمنظم اجتماع تھا۔وہاں کی پاکیزہ اجتماعیت کے بس ایک لمحے نے دل بدل دیا۔
ایک نئی خواہش نےسراٹھایا کہ" کاش اس اجتماعیت کا میں بھی حصہ بن سکوں"۔
پھر اجتماع کارکنان میں جانا شروع ہوا۔۔۔۔" ایک دن اجتماع میں مجھےرپورٹ فارم دیا گیا کہ اب تم کارکن ہو،تم بھی اسے بھراکرو،اس دن میرا دل آسمانوں میں ہوا کے سنگ اڑرہا تھا۔ میں بھی دین کےکام کے لیے چن لی گئی تھی..
اور یوں میں جماعت کیخلاف پھیلائے گئے منفی پراپیگنڈے سےآزاد ہو کر اس اسلامی اجتماعیت میں دل وجان سے مقید ہوگئی کہ اب رہائی ملی تو مر جائیں گے۔
مدیحہ صدیقی
تحریک واجتماعیت جوخالص رب کے راستےمیں جدوجہد کے لیےکھڑی ہو ،اندھیرے میں چمکتے جگنوں کا جھرمٹ ہی تو ہوتی ہے۔ فتنوں کا دور مخالفتوں کا طوفان معاشرے کا انتشار، اس میں نہی عنہ المنکر کی مخالفت مول لینا خود کو ہوا کی مخالف سمت کھڑا کردینے کے مترادف ہے ۔الحمدللہ قرآن حدیث و نظریاتی لٹریچر کے مطالعے کے بعد نصیب ہونے والی دل کی بے قراری میں اسباب و مددگار کے لیے نظر دوڑائی تو حصول منزل کے لیئے جماعت اسلامی سے بہتراجتماعیت کہیں نظر نہیں آئی ۔ قافلے کی صورت چلنا ،ایک دوسرے کو سہارا دینا ،سنبھل سنبھل کر منزل کی طرف قدم بڑھانا،یہی جماعت اسلامی ہے۔ایسی اجتماعیت جس میں شامل ہوکراس زمین پرنظام الہٰی کے قیام کی جدوجہد ہو اوربندہ کشاں کشاں رب سےملاقات کو چل دے۔ان شاءاللہ
افسانہ مہر
یونیورسٹی کے دن بھی کیا یادگار دن ہوتےہیں ۔محتلف حوالوں سے زندگی بھریاد آتے ہیں۔ ایک حوالہ یہ بھی ہےکہ سنا تھاکہ نو واردان جامعہ کی جمیعت کےساتھی بےلوث مدد کرتے ہیں، یہ دیانت دار ہوتے ہیں ۔۔۔بس دل میں بیٹھ گیا۔ اور وقت نے ثابت بھی کیا۔زندگی آگےبڑھی ایک مخلص اور بڑی ہی نرم دل خاتون سےملاقات ہوئی ۔ طاہرہ جیلانی۔ مہینے میں ایک یا دوچکر ضرورلگاتیں ۔اس وقت تک ہم جماعت اسلامی کو صرف درس کرنے والی جماعت کے طور پہ ہی جانتے تھے پھر درس میں جانا شروع ہوئے تو پتا چلا کہ یہاں تو علم سکھانے اورتربیت کرکر کے کردار بنانے کا مکمل تربیتی نظام موجود ہے۔تب سے تحریک اسلامی سے محبت پیدا ہوئی پھر جب اس کا حصہ بنے توجو افراد دیکھےوہ پائی پائی کے حساب میں محتاط دیکھے۔ اپنے پاس سے زیادہ چلا جائے پرواہ نہیں لیکن کسی کی امانت یا تحریک کی امانت میں خیانت نہ ہوسکے یہ رویےّ میں نے خود دیکھے، میں اس امانت ۔دیانت اور خدمت کے بےلوث انداز سے متاثر ہوکراس تحریک میں شامل ہوئی ۔آج تک شامل ہوں اور ان شاء اللہ مرتے دم تک تحریکی ہی رہنا چاہتی ہوں ۔۔۔اللہ اس اجتماعیت سے ہمیں جوڑے رکھے اوراس کے سائے تلے اپنی رحمتوں اور برکتوں سےنوازے ۔آمین۔
افروزعنایت
مجھے قلم وقرطاس کے سفر کے دوران کچھ پیاری بہنوں سےملنےکا اتفاق ہوا جن کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا جو چل کرمیرے گھر تک پہنچیں ان کااخلاق اورمحبت وہ پہلی سیڑھی تھی جو میں جماعت اسلامی کی طرف راغب ہوئی۔ دینی تعلیم سے رغبت بھی مجھے ان کے قریب لے آئی ،اس لیے جب انہوں ایک ادبی نشست ( ارقم )میں شرکت کی دعوت دی تو میں انکار نہ کرسکی۔وہاں مجھے ایک چیز نے بہت متاثر کیا جس کا ذکر کرنا ضروری سمجھتی ہوں، کہ میں سمجھ رہی تھی جماعت اسلامی کی تقریب ہےوہاں بغیر حجاب یاعبایہ کے داخلہ ناممکن ہوگا لیکن وہاں ہر خاتون کوعزت سے نوازا گیا جو بغیر حجاب کےبھی تھی ،یعنی راہ حق دکھائی ضرورجاتی ہے لیکن زور زبردستی گھسیٹا نہیں جاتا۔ یہی دل کشی اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے،جس سے دوسرے بھی مستفید ہوتے ہیں کہ آپ کا عمل و کردار ایسا ہو کہ سامنے والا خود متاثر ہو کر اس راہ پر آجائے۔ جماعت اسلامی اس ارض وطن کے عوام کی بھلائی کی خواہاں ہے اوراس مشکل گھڑی میں پریشان حال عوام کے حقوق کے لئے جس طرح مشقت اٹھارہی ہے،اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔
عائشہ بی
میں اپنی ساس اور جیٹھانی کے ساتھ محلےمیں درس قرآن اور دیگراجتماعات میں جایا کرتی تھی ،اسی زمانے کی بات ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہوااور جماعت کی کچھ خواتین نےمجھ سے ملاقات کی اورمجھے الیکشن میں کام کرنے پر آمادہ کیا۔اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے "جماعت اسلامی جیت گئی۔"
عبد الستار افغانی میئربنےاورکراچی میں بڑے زبردست کام ہونے لگے۔ میں نے محسوس کیا کہ جماعت اسلامی واقعی عوام کے لیے کام کرتی ہے۔ اجتماعات میں شرکت سےمجھے معلوم ہوا کہ جماعت اسلامی پاکستان کی دعوت کے تین نکات ہیں ۔ ان نکات کو جان کرمجھے ایسا لگا کہ"مجھے اسی کی تلاش تھی۔صرف ایک اللہ کی بندگی، منافقت اور دو رنگی سے بچنا ، اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کے لیے نیک صالح حکومت کا قیام۔۔۔۔ ان نکات نے مجھے اس اجتماعیت سے اور قریب کر دیاجس کے بعد حامی سے کارکن ہونےکا سفر طے کیا اوراب ماشاءاللہ رکن کی حیثیت سے جدوجہد جاری ہے۔
جماعت اسلامی پاکستان میں شمولیت کےبعد مجھے بہت کچھ سیکھنےکوملا۔بارہ سال بیٹھک اسکول میں پڑھایا۔ نعمت اللہ خان صاحب مرحوم کی میئرشپ کے زمانے میں کونسلر کی حیثیت سے کامیاب ہوئی ۔میرا پوراگھرانہ اس وقت تحریک اسلامی کا سپاہی ہےاوراس پر طمانیت کا احساس مجھےسرشاررکھتا ہے ۔
کرن وسیم
خود احتسابی یا اپنا محاسبہ اس قدر نایاب عمل ہوچکا ہےکہ انسانی زندگی میں اس کی موجودگی بھی اب بہت کم محسوس ہوتی ہے۔انسان اپنی ذات اورماحول کی طرف آنکھ اٹھا کردیکھنے کی بھی فرصت اورضرورت محسوس نہیں کرتا۔ پندرہ سال پیشتر قرآن کریم کے لفظی ترجمہ کی کلاس اٹینڈ کرنے سے پیشترہم بھی کچھ اسی فطرت کے مالک ہوا کرتے تھےلیکن جب قرآن کے مفہوم سے آشنا ہوئےاورآگہی کے در کھلنےلگےتوسب سے پہلے اپنے آپ کی ایسی ایسی خامیاں دریافت ہوئیں کہ ارد گرد نظردوڑانے کی بھی ہمت نہ ہوسکی ۔میری مربی و استاد طلعت ظہیرصاحبہ نے قرآن کو میری اپنی ذات کا آئینہ بنا دیا۔یہی بات مجھےجماعتِ اسلامی کے قریب لے آئی ۔ خود شناسی اوراپنے محاسبے کی جو خوبی مجھے جماعتِ اسلامی کےدورہ قرآن اور فہم القرآن سے حاصل ہوئی ، وہ کسی بھی دوسری اجتماعیت میں اتنی حساسیت کے ساتھ نہ مل سکی۔ قرآنی ہدایت کی روشنی میں اپنی خوبیوں اورخامیوں کو جانچنےکا یہ عمل جسےجماعتِ اسلامی میں محاسبےکا نام دیا جاتا ہے۔مجھے اس اجتماعیت سے بہت قریب اورحددرجہ متاثرکرگیا ۔
دوسروں پر انگلی اٹھانے اورسیاسی ومذہبی ٹرولز کےجمگھٹےمیں اپنی اور معاشرے کی اصلاح اور سدھار کیلئے فکرمند لوگوں کی یہ جماعت میرے لئے دنیا میں اللہ تعالیٰ کا خاص الخاص تحفہ ہے ۔
اللھم اجعلنا من الصالحین ۔
ماہ رخ سعیدہ
میرا تعلق تو تحریکی گھرانے سے تھا لیکن شادی جس گھرانے میں ہوئی وہ خالص ایم کیو ایم کےحامی تھے۔شدید نظریاتی اختلاف موجود تھا لیکن پھرکچھ عرصے بعد اپنے پرانےساتھیوں کی بدولت ہمت ہوئی اوریہ تعلق دوبارہ استوارہوا۔جماعت اسلامی میں ہرکارکن سےبلا تخصیص اس کی قابلیت اور صلاحیت کے مطابق کام لیاجاتا ہے ۔ یوں اس کی مثال ایک ایسی کارگرمشین کی مانند ہےجس کا ہرپرزا اپنی صلاحیت اور کارکردگی کےحساب سےفٹ لگا ہوا ہے۔ اس لئے اس کی کارکردگی بھی بہترین ہوتی ہے۔یہاں ہرکارکن کی قرآن اورلٹریچر کے ذریعے باقاعدہ تربیت کی جاتی ہے اور سب سے خاص چیز جو اسے دوسری جماعتوں سے ممتاز کرتی ہے وہ اقامت دین کے لیے دور حاضر کے دجال سے ٹکر لینا ہے۔۔حق پر ڈٹے رہنا اور اپنے نظریئے پر قائم رہنایہی وہ خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے دوبارہ موقع ملنے پر دل وجان سے اس میں شامل ہوئی ۔ ایمان کے بعد جو سب سےبڑی نعمتیں ہیں ان میں ایک بڑی نعمت اپنی پیاری جماعت اسلامی میں شامل ہونا بھی ہے۔
صفیہ نسیم
اجتماع کا دوسرایاتیسرا دن تھاجب دستورجماعت اسلامی منظورہوگیا توسب سے پہلےمودودی صاحب اٹھے اور کلمہ شہادت کا اعادہ کیا اورکہا کہ لوگو! گواہ رہو کہ میں آج ازسرنو ایمان لاتا اورجماعت اسلامی میں شریک ہوتا ہوں۔ اس کے بعد محمد منظورنعمانی صاحب اٹھ کھڑے ہوئےاور آپ نے بھی اسی طرح تجدید ایمان کا اعلان کیا ۔ اکثر حضرات کی انکھوں سے آنسو جاری تھے۔کچھ پر تو روتے روتے رقت طاری ہوگئی تھی ۔قریب قریب ہرشخص کلمۂ شہادت ادا کرتے وقت ذمہ داری کے احساس سے کانپ رہا تھا۔ دیر تک لوگ خدا کےحضور میں روتے اور گڑگڑاتے رہے، (روداد جماعت اسلامی حصہ اول ۔ صفحہ نمبر 49)
ان سطور میں تحریک اسلامی کی تشکیل اور ان میں شمولیت اختیار کرنےوالے نفوس کےتجدید ایمان کی ایسی متاثر کن روداد ہےجس کو پڑھ کر ہی میں نے اس ذمہ داری کو محسوس کیا جو تحریک کے ہر فرد پرعاٸد ہوتی ہے ۔ تحریک اسلامی کا مقصد یہ ہے کہ ہماری زندگی میں دین داری ایک انفرادی رویے کی صورت میں جامد و ساکن نہ رہ جائےبلکہ ہم اجتماعی صورت میں نظام دینی کوعملاً نافذ و قائم کرنےاورمخالف و مزاحم قوتوں کو اس کے راستے سے ہٹانے کے لیے جدوجہد بھی کریں۔ یہ کوٸی ہلکا اور آسان کام نہیں ہے۔ پورے نظام زندگی کو بدلنا ہے ۔ دنیا میں جو نظام حیات خدا سے بغاوت پر قائم ہے اسے بدل کرخدا کی اطاعت پر قائم کرنا ہے اور اس کام میں شیطانی طاقتوں سے مسلسل جنگ ہے۔
اگر سوچا جاٸے کہ اس بارگراں کو کیسے اٹھایا جاٸے گا تو اس کے لئےمولانا صاحب کا فرمانا تھا کہ افراد جماعت ، لٹریچر کا مطالعہ کریں ۔ جماعت اسلامی لٹریچر کے انمول خزانےسےمالا مال ہے ۔ میں جتنا بھی پڑھ سکی اس نے میرے تحریک کے ساتھ تعلق کومضبوط کیا اور اس کےمقصد کی جانب پیش قدمی پر اکسایا ۔اگرچہ مجھے اپنی بہت سی کمزوریوں کا اعتراف ہےمگر مجھےفخر ہے کہ میں ایسی تحریک کا حصہ ہوں کہ جو اسلام کے کسی ایک جزکولے کرنہیں اٹھی بلکہ بقول مولانا مودودیؒ کہ ”ہم عین اسلام اور اصل اسلام کولےکر اٹھ رہے ہیں اور پورا کا پورااسلام ہی ہماری تحریک ہے۔“
قارئین کرام ! ہم نے ایک سوال کچھ چنیدہ افراد کے سامنے رکھا اور اس سوال کےمختلف جوابات نے جماعت اسلامی کے مقصد، لائحہ عمل ، طریقہ کار ، اس کی بھرپور جدوجہد،اس کی نظریاتی حیثیت ،مایہ ناز لٹریچر،تربیتی نظام اور افراد کی کردارسازی غرض تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے۔یہ تمام خصوصیات جماعت اسلامی کو ایک منفرد مقام عطا کرتی ہیں ۔بیاسی سال کی طویل مسافت کے دوران مختلف سخت حالات بھی آئے،پابند سلاسل کیا گیا، جان کے نذرانے پیش کئے گئے لیکن جدوجہد کی ایک لازوال داستان رقم کرتے ہوئے جماعت اسلامی آج بھی دعوتی و سیاسی میدان میں ممتاز حیثیت رکھتی ہے ۔




































