
نائلہ تبسّم
آج کل ہر ماں باپ کی زبان پر یہ الفاظ ہیں کہ بچے بات نہیں مانتے ۔موبائل نہیں چھوڑتےیا گھر میں سکون کے لئے موبائل میں
مصروف رکھنا ضروری ہے۔ اس کےساتھ بچوں میں صبر،برداشت اور ہمت وحوصلے کی بھی کمی ہوتی جارہی ہے۔ ہم نے بچوں کو اسکرین کا اتنا عادی بنا دیا ہے کہ آج وہ دو گھڑی والدین کے پاس بھی نہیں رکتے، توجہ سے بات سننا تو دور کی بات اس کے ساتھ وہ سہولیات کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ موسم کی شدت بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں مستقبل میں وہ کیسے والدین ہوں گے؟؟
پہلے وقتوں میں جو چیزیں ہمارے لئے عیاشی تصور ہوتی تھیں ،آج بمشکل ان کی ضروریات زندگی میں شمار ہوتی ہیں۔ والدین بچوں کو سمجھانے اور ان کے اندر قوت برداشت پیدا کرنے میں ناکام ہیں ،جسے عام الفاظ میں جنریشن گیپ کا نام دیا گیا ہے یعنی ان کے دور اور آج کے جدید دور کے تقاضوں میں فرق ہے ۔ ذرا خود سوچیں پہلے ماؤں کے ہاں دس بارہ بچے ہوتے اور سب کی تربیت کی ذمہ داری بھی ماں پر ہوتی تھی ۔ میری ایک عزیزہ کی والدہ ہیں، ان کے گیارہ بچے ہیں مگر ان کی انڈرسٹینڈنگ سب سے چھوٹے بیٹے سے زیادہ ہے۔ آج مائیں دو یا تین سے زیادہ بچے ہی نہیں چاہتیں ۔غرض اس پر جتنا سوچا اور تلاشا جائے ۔ حل صرف قرآن پاک میں یوں نظر آیا۔جب حکیم لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا!بیٹا خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا ،حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ میرے ساتھ والدین کا بھی حق پہچاننا، نماز قائم کر نا۔ بدی سے رکنا اور جو مصیبت بھی تم پر آئے اس پر صبر کر نا اور لوگوں سےمنہ پھیر کر بات نہ کر نا ۔زمین پر اکڑ کر نہ چلنا بلکہ اپنی چال میں اعتدال پیدا کرنا اور اپنی آواز پست رکھنا ، بے شک سب سے بری آواز گدھے کی ہے(سورہ لقمان آیت نمبر 13 تا 19)
یقین جانیے تربیت اولاد کے لئے یہ آیات ہر مسلمان کے لئے کافی ہیں بشرط یہ کہ آپ خود قرآن سے جڑیں ہوں ۔ آپ بچپن سےہی بچوں کو قرآن سے جوڑیں ۔ سیرت کے واقعات سنائیں پھر قرآن انہیں خود سب کچھ سکھا دے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی اولادوں کو نیک اور صالح لوگوں میں شمار کرے۔ آمین




































