
نزہت عثمان
کیا آپ جانتے ہیں اسلام نے خواتین پرحجاب کیوں واجب کیاہے ؟
کیونکہ پردہ واجب ہونےکامدار فتنہ ہے،معاشرتی نظام الٹ پلٹ ہونے کا حدشہ ہے، جس کی زندہ مثال یورپین ممالک میں بڑھتی ہوئی ، زنا، قتل و غارت اور خودکشی کی اندوہناک شرح ہے ۔
کہا جاتا ہے کہ انسان اور حیوان میں سب ہی باتیں مماثلت رکھتی ہیں بلکہ انسانوں سے کہیں آگے ہیں ، جیسے چیونٹی کی زندگی اتحاد و اتفاق کی اعلی مثال ہے، شہد کی مکھیوں میں آداب سلطانیہ کی انتہا ہے ۔پرندوں کی زندگی میں ذکروعبادت ہے، صرف ایک بات ہے جس میں انسان کو حیوان پر فوقیت حاصل ہے ، اور وہ ہے ، حیا اور اعضاء مستورہ کو ڈھانپنا۔ اگر ہم ماضی کی جانب لوٹیں تو تاریح اس بات کی شاہد ہے کہ جنت میں بھی آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ کو لباس عطا کیا گیا اور پھر اولاد آدم کی طرف پلٹیں تو اعضائے مستورہ کو چھپانا تمام شریعتوں میں فرض رہا ، کیونکہ انسانیت کا یہی تقاضہ تھا ، چاہے وہ اللہ کو ماننے والے ہوتے یا نا ہوتے ۔وہ مسلمان ہوں یہودی ہوں یا نصاریٰ ، سب نے ہی بے حیائی کو برا سمجھا ، اس کی ایک مثال پروٹسٹنٹ عقیدے کے لوگوں نے اسلام سے قبل زنا اور بے حیائی کی تباہ کاریوں کے پیش نظر اپنی عورتوں کو نہانے سے روک دیا تھا کہ صفائی صنف مخالف کے لئے زیادہ کشش ہونےکا باعث بنتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جو عورت جب تک نہائے بغیر رہے گی ،وہ خدا کے اتنا ہی قریب ہو گی اور" جوؤں کو خدا کے موتی " کہتے تھے کہ جس عورت کے سر میں جتنی زیادہ جووئیں ہوں گی وہ خداوند کے اتنا ہی قریب ہو گی ۔
اس کے برعکس اسلام کامل و اکمل دین ہے ، جو انتہائی نفاست پسند ہے ، حد درجہ صفائی کو پسند کر کے انسانوں کو گندگی کی تکلیف سے دور رکھتا ہے اور انسانوں کی نفسانی خواہشات پر قدغن لگانے کے بجائے نکاح جیسا پاکیزہ تصور بھی پیش کرتا ہے تاکہ مضبوط خاندان کی بنیاد رکھی جا سکے ، جہاں تک بے حیائی کا تعلق ہے تو اس کے لیے حجاب کا حکم دیے کر اسلام کا خوبصورت ترین پہلو پیش کیا ہے ۔ قدسی نفس حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے حجاب کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے 5 ہجری کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا ،اے اللّٰہ کے رسول ! آپ کی ازواج کے پاس نیک اور گناہگار داخل ہوتے ہیں تو اگر آپ ان کو پردے کا حکم فرمائیں ، جس پر پردے کی آیت نازل ہوئی ۔
ایک نقطہ زیر غور رہے کہ ستر عورت تمام شریعتوں میں فرض رہا،جبکہ حجاب کا حکم امت محمدیہ کو 5 ہجری میں ملا
ستر عورت اگر شرم و حیا کی ابتدا ہے
عورت کا حجاب شرم و حیا کی انتہا ہے
مگر عجیب بات تو یہ ہےکہ جس طرح اسلام کے شروع میں جاہلیت اولی بےپردگی کا سبب تھی اسی طرح آج جاہلیت آخری بےپردگی کاسبب بنی ہوئی ہے ۔حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں نیک بخت اور صاحب عزت عورت کا نشان گھونگھٹ ہے تاکہ بد نیت، فاسق ،فاجر ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں اور آج کی مسلمان عورت نے وہ گھونگھٹ نوچ پھینکا ہے ، جس کی وجہ سے ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کو عورتوں کو ہراس کرنے کا موقع مل گیا ہے ۔
حدیث پاک میں ارشاد ہوتا ہے
"عورت چھپانے کی چیز ہے "
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ میں نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا آپ نے صحابہ کرام سے سوال پوچھا عورتوں کے لئے کیا چیز بہتر ہے صحابہ کرام خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا اسی دوران مجھے گھر جانا پڑا تو میں نے فاطمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے یہی سوال پوچھا انہوں نے جواب دیا !
"عورتوں کے لئے بہتر ہےکہ نہ تو وہ مردوں کو دیکھیں اور نہ ہی مرد ان کودیکھیں"
میں نے یہ جواب نبی علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا تو نبی علیہ السلام نے خوش ہو کر فرمایا !
"وہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے "
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سےروایت کیا ہے
میں اس کمرے میں داخل ہوتی جس میں نبی علیہ السلام مدفون ہیں تو اپنی چادر رکھ دیتی اور کہتی تھی کہ یہاں تو صرف میرے شوہر اور میرے والد مدفون ہیں لیکن جب عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو دفن کیا گیا تو اللہ کی قسم میں ان سے حیا کی وجہ سے خوب اچھی طرح پردہ کر لیا کرتی تھی ۔
پردے کی اہمیت کا اندازہ لگائیں کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ جیسی باوفا ، باکردار،پاکیزہ ہستی ، جن کی پاکیزگی کی گواہی قرآن مجید جیسی عظیم کتاب میں دی گئی ہے ، وہ پاک فطرت پاک طینت امت محمدیہ کی ماں جب قبر میں مدفون شحص سے پردہ کر رہی ہیں تو سوچنے کی بات ہے کہ اب جبکہ برائی عروج پر ہے ، فحاشی و عریانی نے دنیا کے سکون کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے اور عورتیں ان حالات میں بھی جیتے جاگتے مردوں سے بھی پردہ کرنا ضروری نہیں سمجھتیں۔
شرعیت نے پردے کے تین درجے بتائے ہیں
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے !
"اور تم اپنے گھروں میں قرار پکڑو "
عورت کے لئے سب سے اعلیٰ درجہ یہی ہے کے گھر کی چار دیواری میں وقت گزارے ۔ اس درجے پرعمل کرنے والی عورت ولایت کے درجات پانے والی اور قرب الٰہی کو حاصل کرنے والی ہوتی ہے ۔
حجاب چادر میں !اگر بامر مجبوری عورت کو گھر سے نکلنا ہی پڑے تو برقعے یا چادر میں خوب اچھی طرح لپٹ کر باہر نکلے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے
اپنے اوپر چادر اوڑھ لیں
برقعہ پہن کر دستانے اور جرابوں سے جسم کی زینت چھپا کر باہر نکلنے سے بھی عورت تقوی پر عمل کرنے والوں میں شمار ہوتی ہے ۔آخری درجہ حجاب بالعذر پردے کا آخری درجہ ہے یہ ہی کہ عورت مجبوری میں گھر سے نکلے چادر یا برقعہ اس طرح پہنے کی ہاتھ پاؤں آنکھیں وغیرہ کھلی ہوں ۔
چہرے کے پردے کے متعلق آج کل بعض جدت پسند شر پسندوں کی جانب سے یہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ اسلام میں حجاب کے حکم میں چہرے کا پردہ شامل نہیں حالانکہ چہرے سے ہی تو سارے فتنے پھوٹتے ہیں ۔ دوستیاں چہروں کو دیکھ کر ہوتی ہیں ۔ رشتے چہروں کو دیکھ کر ہوتے ہیں ۔ چہرہ تو پوری شحصیت کا عکاس ہوتا ہے ۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ چہرے کا پردہ نہ کیا جائے حالانکہ صحابیات بھی اس حکم سے مستثنیٰ نہیں ہیں ، تو ہم کون ہوتے ہیں خود کو اس حکم سے مستثنیٰ سمجھنے والے ۔
امریکہ کی ایک نوجوان لڑکی مسلمان ہوئی تو اس نے باقاعدہ نقاب والا برقعہ پہننا شروع کر دیا ۔ اس سے بہت ساری عورتوں نے سوال کیا ، آپ تو کھلے ماحول سے کھلے بدن میں پھرنے والی لڑکی ہیں یکدم اتنا گہرا پردہ کرنے سے آپ کو تنگی نہیں محسوس ہوتی ؟ آپ اپنے آپ کو قید میں محسوس نہیں کرتیں ؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے اپنی جوانی کی راتیں نائٹ کلبوں اور ناچ گھروں میں گزاری ہیں ۔ میں نے ہر مرد کی نظر کو ہوس زدہ دیکھا ہے ۔ میں گلی بازار میں چلتی تھی تو مردوں کو اپنی طرف گھورتا دیکھتی تھی، میرے دل میں ہر وقت ڈر رہتا تھا کہ کوئی بدمست بد بخت نوجوان مجھ پر جھپٹ نہ پڑے ، کیا پتہ عزت بھی لوٹے اور جان سے بھی مار دے لیکن جب سے میں نے پردہ کرنا شروع کیا ہے ،اس وقت سے میں لوگوں کی نظر سے اوجھل ہوں نہ تو کوئی میرے حسن وجمال کا مشاہدہ کر سکتا ہے، نہ مجھے دل میں کسی سے حطرہ ہے ، میں تو پردے میں آ کر سکھی زندگی گزار رہی ہوں ۔ کاش بے پردہ عورتوں میں میرے دل کے سکون کو تقسیم کر دیا جاتا تو انہیں سکون مل جاتا ۔
بے پردہ عورت کی سزا ۔
امام ذھبی رحمہ اللہ علیہ ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک عورت بہت بن سنور کر بے پردہ رہتی تھی، جب اس کی وفات ہوئی تو اس کے بعض رشتہِ داروں نے اسے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالی کے دربار میں اس سے پیش کیا گیا ہے اسے پتلے باریک کپڑوں میں پیش کیا گیا، اتنے میں ایک زوردار ہوا کا جھونکا آیا اور اسے ننگا کر دیا اللہ تعالیٰ نے اس سے منہ پھیر لیا اور فرمایا اسے جہنم کی بائیں جانب پھینک دو کیونکہ یہ دنیا میں بن سنور کر بے پردہ رہا کرتی تھی،
تجھے حسن ظاہر نے دھوکے میں ڈالا
جیا کرتا ہے کیا یونہی مرنے والا




































