
سلطانہ بیگم
حیاء سے ہے پہچان ہماری
حیاء سے ہے آن ہماری
حیاء ایمان کا ایک اہم حصہ اورایمان کی ایک شاخ ہے اورانسانیت کا لباس ہے۔حیا انسان کو غلط کاموں سے روکتی ہے اور اصلاح پر آمادہ کرتی ہے۔ پیارے رسول صلی اللّٰہ وسلم کا فرمان ہے!ہردین کی ایک پہچان ہوتی ہے، ہمارے دین کی پہچان شرم وحیاء ہے۔ حیا کی غیر موجودگی کے بارے میں فرمایا"جب تجھ میں حیا نہ رہےتو جو چاہے کرتا ہے رہ"
حیاء کا اسلام میں ایک مقام ہے اوراسے انسان کی فطرت قرار دیا گیا۔ ایمان کے ساٹھ سے زائد شعبے ہیں اور حیا ایمان کا عظیم شعبہ ہے ۔
حیاء انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے اورمعاشرتی زندگی میں تہذیب اور اخلاقیات کو پروان چڑھاتی ہے۔ حضرت ابوہرہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا "پہلی شے جیسے اس امت سے اٹھا لیاجائے گا وہ شرم و حیاء اور ایمان ہے ،پس تم ان دونوں چیزوں کا اللّٰہ سے سوال کرو ۔
حجاب و حیاء امت مسلمہ کا وہ شعار،مسلم خواتین کا وہ فخروامتیاز ہےجو اسلامی معاشرے کو پاکیزگی عطا کرنے کا ذریعہ ہے۔ حیاء کی موجودگی انسان کے اخلاق کو بلند کرتی ہے اوراس کے کردار میں شائستگی اورشرافت کو جنم دیتی ہے،جوانسان کو اپنے ضمیر کے سامنے شرمندہ ہونے سے روکتی ہے۔ یہ اندورنی نگہداشت ہےجو برےاعمال سے بچاتی ہے اورنیک عمل کی طرف راغب کرتی ہے۔حیاء انسان کے وقاراورعظمت کو بڑھاتی ہے اوراسےعزت و احترام کا مقام دیتی ہے۔
سورہ نور آیت 190 میں فرمایا کہ جولوگ چاہتےہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحاشی پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب کےمستحق ہیں ۔اصل میں ہم اسلامی روایات کو بھول چکے ہیں ،ہم نے خود ہی اپنی تباہی کی بنیاد رکھی ہے۔
مغرب کےانداز واطورکو اپنا کر دینی اصول و ضوابط کو بھول کراپنے دین ہی کو فراموش کردیا ۔ اس وقت اسلام دشمن ہمارے نوجوان نسل کواس عذاب کے گڑھے میں گرارہا ہے ۔
سیکولرتہذیب نے ہم مسلمانوں کو حیاء کی اہمیت سےنا آشنا کردیا ہے،ثقافت کی آڑمیں اپنے خالق ومالک سے دور کرکے تباہی وبربادی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ وہ چاہتا ہےکہ مسلمانوں کی نسل کودین سے دورکر دیا جائے ۔
اس دجالی دورمیں ہمیں چاہیے اپنے بچوں کو دین اسلام کی اہمیت سے آگاہ کریں ،اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ کی تعلیمات سے روشناس کروائیں تاکہ ہم ایک بہتر ، محفوظ اور پُرسکون معاشرہ تشکیل دے سکے ۔




































