
رخسانہ شکیل
"صبا تمہاری میکسی تیار ہے؟"
ابھی کہاں کچھ کام باقی ہےاورتمہارا انگرکھا؟"
"ہاں بس تیار ہی سمجھو"
ساری لڑکیاں ادھرسے ادھر آتی جاتی نظرآرہی تھیں۔عجب افرا تفری کا عالم تھا۔ کچھ لڑکیاں ہال کی سجاوٹ میں مصروف تھیں۔ کچھ اپنے لباس ،باقی تیاری کے لیےبھاگ دوڑ کرتی نظر آرہی تھیں ۔آخرکالج میں فینسی ڈریس کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ یہ کوئی چھوٹی بات تو نہ تھی۔ مس ریحانہ جو اس سارے پروگرام کی روح رواں تھیں سب سے زیادہ مصروف تھیں ۔ کبھی کوئی لڑکی اپنا مسئلہ لےکرآتی اورکبھی کوئی اس وقت وہ سرپکڑ کربیٹھی ہوئی تھیں ،اس کی وجہ کوئی انتظامی مشکلات نہ تھیں بلکہ ایک عجیب وغریب فرمائش تھی۔
آخرانہوں نےپرنسپل صاحبہ کےپاس جانےکافیصلہ کیا۔ وہ اس وقت پرنسپل صاحبہ کےآفس میں موجود تھیں ، ان کی بات سن کرپرنسپل حیرت سےکبھی ان کواورکبھی عروبہ کو دیکھ رہی تھیں جس کی یہ فرمائش تھی۔
ایسا کیسےہو سکتا ہے انہوں نے کہ کیوں نہیں ہوسکتا ؟میم یہ بھی تو ایک لباس ہی ہےفینسی ڈریس میں اس کا شامل ہونا کیا بڑی بات ہے۔ عروبہ نے کہا میم میں اس لباس کے ساتھ ہی شرکت کرنا چاہتی ہوں۔
پرنسپل تذبذب کا شکارتھیں،ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ عروبہ کی بات کا کیا جواب دیں۔ اچانک مس ریحانہ کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی انہوں نےکہا میم آپ عروبہ کو اجازت دے دیں ، ان کے پر زوراصرار پر انہوں نے عروبہ کو اجازت دے دی عروبہ خوشی خوشی باہر چلی گئی۔
اس کے باہرجانے کے بعدپرنسپل نے مس ریحانہ سےکہا کہ ایسا بھی کبھی ہواہے۔ میم یہی سوچ کر تو مجھے یہ خیال آیا کہ ایسا جو کبھی نہیں ہوا۔ وہ اب ہمارے کالج میں ہوگا اوراس سے سوشل میڈیا اور میڈیا پر ہمارے کالج کی دھوم مچ جائے گی ۔ اسی وجہ سےمیں نے آپ کو عروبہ کو اجازت دینے کے لیے کہا مس ریحانہ نے کہا ،پرنسپل ان کے اس جواب سے کچھ خاص مطمئن نہ تھیں۔ ٹھیک ہےنتائج کی ذمہ دارآپ خود ہوں گی ۔ بیگم اکرام جوہماری تقریب کی مہمان خصوصی ہیں۔ وہ اگرناراض ہوئیں تواس کی وضاحت آپ دیں گی۔ (دراصل سوشل میڈیا پر دھوم مچ جانے والی بات نے پرنسپل میم کو اس فیصلے لئے آمادہ کیا تھا)
آخر وہ دن آگیا جس کاسب لڑکیاں بےچینی سے انتظارکرہی تھیں ۔ سب لڑکیاں اپنےاپنےلباس سنبھالےتیاری میں مگن تھیں مگرعروبہ کو کوئی فکرنہ تھی وہ بس مزے سے اپنی باری کا انتظارکررہی تھی۔ آخراس باری کی آگئی ، احتیاطاً اسےسب سے آخر میں بلایا گیا۔وہ اسٹیج کی جانب بڑی خود اعتمادی اور وقارسے پہنچی اس کی آمد پر بجنےوالی تالیاں اسے دیکھ کاراچانک بند ہو گئیں۔
پرنسپل میم نےغصہ سےمس ریحانہ کو دیکھا،اچانک عروبہ نے پروگرام کی میزبان لڑکی سےمائیک لے کرپرنسپل سےکچھ کہنے کی اجازت چاہی۔ انہیں وقت کی نزاکت کودیکھتے ہوئے اسے اجازت دینی پڑی (عروبہ نےمائیک پر اپنی گرفت مضبوط کی )
معززمہمان گرامی،پرنسپل میم اورمیری پیاری ساتھیو۔
آج جس لباس کو دیکھ کرآپ سب حیران ہیں ،یہ آج کا سب سے ماڈرن لباس ہے۔یہ تو ہمارا فخرو امتیاز ہے۔ ہمارے معاشرے کو پاکیزگی عطا کرنےکا ذریعہ ہے۔ یہ ہماری ترقی میں رکاوٹ نہیں بلکہ ہماری ترقی کی علامت ہے ۔ آج اکیسویں صدی میں بھی دنیا اسلام سے بہت پیچھےہے، مغرب نےعورت کو جو کچھ دیا عورت کی حیثیت سے نہیں بلکہ مرد بنا کردیا ، اس سے اس کا یہ لباس جو اسے محفوظ اور مستحکم کرتا ہے چھین لیا ان کی نگاہ میں عورت اب بھی ایسی ہی ذلیل ہے جیسے پرانے دور جاہلیت میں تھی۔ دور جاہلیت میں خواتین ایسے ہی سج دھن کر باہر نکلا کرتی تھیں جیسی آج ہماری خواتین نکلتی ہیں۔
مغرب میں ایک اصلی اور حقیقی عورت کے لیے اب بھی کوئی عزت نہیں ، عزت اگرہےتواس مرد مونث یا زن مذکر کے لیےجو جسمانی لحاظ سےتو عورت ہو مگر دماغی اور ذہنی حیثیت سےمرد ہو۔ تمدن اور معاشرت میں لحاظ سے مرد ہی کام کرے۔ ہمارا رب تو کہتا ہے”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچاکر رکھیں اوراپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اوراپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجزاس کےجو خود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پراپنی اوڑھنیوں کےآنچل ڈالے رہیں”( سورہ النور)
ایک موٹیویشنل اسپیکر کا کہنا ہے کہ باحیا لباس ایک ایسا صدف ہےجو پاکیزہ عورت کو ایک موتی کی طرح
چھپا کراس کی قدروقیمت میں اضافہ کر دیتا ہے۔ ایک عورت یہ جانتی ہے کہ حقیقی حسن بےحیائی اور بے حجابی میں
نہیں تقویٰ اور پرہیز گاری میں ہے ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہےکہ عورت کو اپنے حسن وجمال کے اظہار کا موقع ملنا چاہیے۔ کہیں فن کےنام پر کہیں آرٹ کے نام پر اورکہیں ترقی کے نام پریہ عورت کا حق ہے،اظہارحسن جمال عورت کا حق ہےمگر صرف اپنے شوہر کےلیے اس کے علاوہ جومطالبات ہیں۔ وہ شیطان کےمطیع خواہشات نفس ہیں اللہ کا فرمان ہے، شیطان کے راستے پر نہ چلو یہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ آج پڑھی لکھی باحیا عورت نے یہ ثابت کر دیا ہےکہ وہ ہر میدان میں کامیاب ہے۔
آئیے ہم غافل لوگوں کے لیےنمونہ بنیں ایک باحیا اورباحجاب زندگی بسرکریں اپنی نسوانیت اورحسن کی حفاظت اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کےمطابق کریں تاکہ روز آخرت ہمارا رب ہم سے راضی ہو۔
عروبہ نےاپنی بات ختم کی ایسا لگ رہا تھاپورے ہال کو سانپ سونگھ گیا، سب سے پہلے بیگم اکرام نے تالی بجاکر اس کے موقف کی تائید کی ،ان کو دیکھ کر پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا ۔




































