
ناہید اختر/ لاہور
ایک مرد اور عورت کے لیے حیا اس کے تکمیل ایمان کا حصہ ہے۔حیا کی اصل روح سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ہی مخلوط تعلیمی اداروں میں لڑکے
اورلڑ کیاں ایک دوسرے کےقریب آتے ہیں حتیٰ کہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑنےتک سےگریز نہیں کرتےایسے مواقع پرشیطان کو کھل کرکھیلنے کاموقع ملتا ہےاورپھر گمبھیرمعاشرتی مسائل جنم لیتےہیں۔
حجاب ہمارے دین کا تقاضا ہےاورہم اللہ کے بندے ہیں،حجاب کی صورت میں ہم اس کا برانڈ پہنتے ہیں جس کے سامنے دنیا کے تمام برانڈ حقیرہیں۔اللہ کی بندی جب اس کےحکم میں ڈھل کرجب آتی ہے تودورسےہی اس کےاحترام میں آنکھیں جھک جاتی ہیں ۔لوگ راستہ چھوڑدیتے ہیں۔
غیرمسلم ممالک میں بھی ایسے ہی ہوتا ہے،انہیں یہ نہیں معلوم ہوتا کون کہا ں سےہے ۔ بس احترام میں ہٹ جاتےہیں یہاں شگا گو میں تورہتے ہوئے میں نے یہ چیزبہت دیکھی۔اسلام تنگ نظر نہیں، یہ عین دین فطرت ہے، یہ کسی بھی مردو زن کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ۔ یہ تو ہمیں ایک مضبوط قلعہ میں محفوظ کرتا ہے ۔
کئی ترقی یافتہ عورتیں باحجاب ہیں پاکستان کی پہلی خاتون پائلٹ شکریہ خانم جن کا تعلق ملتان سےہےبا حجاب تھیں۔ڈاکٹرایم مری ثمل یہ وہ امریکی خاتون ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا، انہوں نے کوڑھ کے مریضوں کے لیے بہت کام کیا ۔ بہت نام کمایا، ساری زندگی انہوں نے خود کو عین اسلامی تقاضوں کے مطابق ڈھانپے رکھا۔آج کی درسگاہیں شیطانوں کی آماجگاہ بن گئی ہیں اوریہ ماں باپ کے لیے لمحہ فکریہ ہےکہ آنکھیں کھلی رکھیں۔
بچوں کی بنیادی تربیت اچھی ہوتومخلوط تعلیم بھی کچھ نہیں بگاڑسکتا۔بچوں کو شروع سے ہی دین سے جوڑیں انہیں اسلامی طرززندگی دیں ۔ حیا کےتقاضوں کو پوراکرتا ہوالباس پہنائیں، فطری بات ہے
بڑے ہوکر وہ خود ہی حیا اوراس کے تقاضوں کوسمجھیں گےکیونکہ جس میں حیا نہی اس میں ایمان نہیں۔حیا کا ایک ہی مطلب نہیں جس پرہم اکتفا کرلیتے ہیں۔ حیا ہرموقع پہ عمل میں آتی ہے،جسے اللہ سے حیا ہوگی وہی ہربرائی سےبچنے کی کوشش کرے گا۔
آپ دیکھیں یہودی اورسکھ اس معاملےمیں بڑے سخت ہیں۔ان کےبچے بچپن سےہی پگڑی اورٹوپی میں نظرآئیں گے۔جس لباس میں ہم نماز پڑھ سکتےہیں وہی لباس زیب تن کرکہ ہم جوائن فیملی سسٹم
میں بھی رہ سکتے ہیں اوراگرممکن ہو تواسی گھر میں الگ پورشن میں بھی رہ سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا اگر مثبت کردار ادار کرے توہم معاشرے کی تربیت بہترین طریقےسےکرسکتےہیں، کسی قوم کو زوال پزیرکرنا ہوتااس کامیڈیا قبضےمیں کرلووہ قوم خود ہی تباہ ہو جائے گی ۔
ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہےکہ ہم مسلمان گھرانوں میں خوش قسمتی سےپیداہوگئےاورہم نےاسے کافی سمجھا ہم نےبچوں کو بھی اورخود کو بھی دین اسلام کی اصل روح سےآگاہی نہیں دی۔
اب کرنےکا کام یہ ہےکہ ہم اپنی اوراپنےبچوں کی سوچوں کوایمان کی روشنی سےاتنامنورکردیں۔ انہیں اتنامظبوط بنا دیں کہ ان پرنہ سوشل میڈیا کےبرےاثرات مرتب ہوں اورنہ ہی معاشرے کی برائیاں انہیں اپنی جانب متوجہ کرسکیں۔ وہ اورہم ہرممکن اس شرسے بچنے کی کوشیش کریں ، ورنہ دنیا اورآخرت کی تباہی ہمارامقدرہوگی۔




































