
ریطہ
ہم کہتے ہیں یہ مردوں کا عالمی دن ہے،سچ کہیں تو ہردن مرد کا ہی دن ہے، اس کی کمال مردانگی کےبنا نظام ہستی نا مکمل ہے۔جس جا چلے
جاؤمرد کا وقاراس کامقام باعث ضرورت ہی نہیں ،اس معاشرے کا کلیدی حصہ ہے۔
مرد نہ ہو تو عورت کی حفاظت کیسے ہو
مرد نہ ہو تو مردوں کو کندھا کون دے
مرد نہ ہو تو اداروں کی رونقیں ختم ہوجائیں
مرد کی غیرت صنف نازک کے لیے ڈھال
مرد نہ ہو تو گھر کی سربراہی بھی ممکن نہیں
مرد نہ ہو تو کب رہتی ہے مسجد کی وعظ و تکبیر
مرد نہ ہوتو جنگ و جدل کیسے ہواور کیسے بدی اور نیکی کی جہد آسان ہو۔
مرد کا جاہ جلال ہے کہ دنیائیں ترقی کی منزلیں طےکرکے امروز و فرواتعمیر کررہی ہیں، ممکن ہی نہیں کہ مرد کی ذات کے بغیر اس کارخانہ ہستی کا نظام چل سکے۔
مرد نےخاندان میں رعب دبدبےسےمٹتے سہمے کرداروں کونمو پانے کا موقع دیا ہےاورکتنے ہی رشتوں کو بکھرنے سے بچایا ہے۔
مرد کی ذات عورت کی وہ ڈھال ہےجس میں رہ کر اسےدنیا کی کوئی طاقت زیر نہیں کرسکتی اورپھرمرد، مرد مومن ہے۔
اللہ کا مددگار تو پھر
ہرلحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شام
گفتار میں میں کردار میں اللہ کی برہان




































