
لبنیٰ مزمل
زینب پورے دنوں سے ہے کسی وقت بھی ننھےمہمان کی آمد ہو سکتی ہے ۔ جنگ کی وجہ سےسہولیات ناپید ہیں۔ صالح بس زینب کی طرف سے
خبرکا منتظر ہےپھر یہ قافلہ کیمپ کی جانب چل پڑے گا۔۔ نہ جانے رب کی کیا مصلحت ہے کہ ٹائم اوپرہوتا جا رہا ہےاور جنگ میں بھی تیزی آ تی جا رہی ہے۔
ارد گرد کےعلاقے کافی حد تک تباہ ہو چکے ہیں۔زینب ایسے میں یہاں مزید رکنا خطرےسے خالی نہیں۔ صالح نے زینب سےمخاطب ہو کر کہا۔ میں اسی لیے تو کہ رہی ہوں ۔صالح تم میری فکر نہ کرو تمام لوگوں کو کیمپ تک پہنچا کرآجاؤ ۔اگر میری اورمیرے بچے کی زندگی ہےتو کوئی میرا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ نہیں زینب ۔ نہیں میں تمہیں تنہا چھوڑ کر نہیں جا سکتا ۔اسی لمحے بہت تیز دھماکوں کی آوازآئی زینب نے اپنے ہاتھ کانوں پررکھ لیے ۔
چلو پھرٹھیک ہےصالح پھر مزید انتظار نہ کرومیں ایسے ہی چلتی ہوں زینب نےصالح سے کہا۔ زینب اپنےقریب رکھے بیگ کواٹھاکرکھڑی ہوگئی ،سوچ لوزینب راستہ کٹھن ہے اورمنزل کا کچھ پتہ نہیں ۔ صالح میں بم سے مروں یا اس تکلیف سے شہادت میرا مقدر ہے۔میں نے ہر تکلیف کو برداشت کرنے کی ہمت پیدا کر لی ہے۔ چند نفوس پرمشتمل یہ قافلہ چل پڑتا ہے۔ارد گرد پھیلےملبے۔ بموں کی خوفناک آوازیں اور اندھیری رات۔چلنا بہت دشوارہو رہا ہےمگر یہ قافلہ سخت جان دھیرے دھیرے آ گے بڑھتا جا رہا ہے۔
زینب صالح کا بازوتھامے آ ہستہ آ ہستہ محو سفر ہے ۔اپنے بیٹے کو ڈاکٹربنانے کی خواہشمند زینب اب اپنے بیٹے کو مجاہد بنانا چاہتی ہے۔ بیت المقدس کی آ زادی اس کی دیرینہ آرزو ہے۔ وہ اپنے بیٹے کو بھی یحییٰ السنوار کی طرح بہادر دیکھنے کی خواہش مند ہےجس کے نام سے یہود کانپ اٹھیں۔ صالح ، زینب صالح کو پکارتی ہے۔ فاطمہ کو آ واز دوشاید وقت آپہنچا ہے۔ صالح زینب کو وہیں ملبے پر بیٹھا کر فاطمہ کی جانب لپکتا ہے۔ قافلہ رک جاتا ہے۔ قریب ہی ایک ٹوٹے پھوٹے گھر میں صالح فاطمہ اور زینب کو لے جاتا ہے ۔
کچھ ہی دیر میں نومولود کےرو نے کی آ وازآتی ہے۔ قافلے والوں کے چہروں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ فاطمہ بچے کو تیار کر کے صالح کی گود میں دے دیتی ہے۔ صالح نومولود کے کان میں رب کی بڑائی بیان کرتا ہے۔ چند گھنٹے زینب کےآرام کر لینے کے بعد قافلہ پھر چل پڑتا ہے ۔
اشیاء خوردونوش کی بےحد کمی ہے چند گھونٹ پانی اورچند لقموں پر گزارہ ہے۔دھول مٹی میں آٹا یہ قافلہ اپنی منزل سے بہت دور ہے ۔زینب کو چلنے میں کافی دشواری ہو رہی ہے ۔صالح زینب کو کچھ دیر آ رام کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔نومولود فاطمہ کی گود میں چند میٹر کے فاصلے پر ہے۔ زینب اور صالح ایک پتھر پر بیٹھ جاتے ہیں۔ صالح فاطمہ سے اپنے بچے کو لے لیتے ہم کافی پیچھے رہ گۓ ہیں ۔زینب صالح سے کہتی ہے ۔اسی لمحے کان کے پردے پھاڑ دینے والی آ واز سنائی دیتی ہے۔ کچھ دور دھول اور مٹی اڑتی دکھائی دیتی ہے۔ زینب اور صالح قافلہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ دونوں تیزی سےاٹھتے ہیں،صالح دوڑتا ہوا قافلے تک پہنچتا ہے۔تڑپ کر رہ جاتا ہے۔ہر طرف خون ہی خون لاشے زخمیوں کی چیخ و پکار۔زینب تڑپ کر اپنے پھول کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہے
چند قدم کے فاصلے پر اسےاپنا ننھا شہید نظر آجاتا ہے۔زینب اسے اپنی بانہوں میں لے لیتی ہے۔سر تا پا خون میں نہایا ہوا ننھا شہید
زینب کو محسوس ہوتا ہےکہ جیسے نومولود چیخ چیخ کر کہ رہا ہو
قصور میرا بتاؤ تم
ابھی تو نا آ شنا تھا میں
ٹھنڈی ہواؤں سے
کالی گھٹاؤں سے
کڑکتی بجلیوں سے
برستی بارشوں سے
گھٹاٹوپ اندھیروں سے
تپتی گرمیوں سے
ابھی تو نا آ شنا تھا میں
صبح کی نرم روشنی سے
چاند کی ٹھنڈک چاندنی سے
پرندوں کی چہکار سے
پھولوں کی مہکار سے
اپنوں سے اغیار سے
ابھی تو نا میں نے جانا تھا
ماں کی آغوش کو
اور ان لفظوں کو
جو میرے کانوں میں اترے
لبوں سے میرے بابا کے نکلے
رب کی وحدانیت میں
میں ایسا پھول ہوں
جسے تم نے
کھلنے سے پہلے ہی مسل ڈالا
میری ماں کو زخموں سے چور کر ڈالا
قصور میرا بتاؤ تم
قصور میرا بتاؤ تم




































