
ثمیرہ ہارون / کراچی
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہےسیپارا
سر احمد اوران کے طالب علم اسپین کے دورہء پر تھے۔ان کے اسکول نےاسپین کا دورہ منعقد کیا تاکہ طالب علم اپنی تاریخ سے آگاہ ہو سکیں۔
اسپین(اندلس) میں مسلمانوں نے ایک تاریخ رقم کی تھی۔ اسپین میں انہوں نے نیشنل لائبریری آف اسپین (اسپین کی سب سے بڑی لائبریری) دیکھی۔ لائبریری میں موجود کتابیں دیکھ کر سر احمد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ طالب علم پریشانی اور اضطراب کے عالم میں اپنے استاد کو دیکھنے لگے اور تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر ایک طالب علم نےان کے رونے کے بارے میں استفسار کیا،جس پر سر احمد نے اندلس میں مسلمانوں کی سیاہ تاریخ کو بیان کرنا شروع کیا۔
انہوں نے بچوں کو بتایا کہ طارق بن زیاد ،یوسف بن تاشفین اور بے شمار بہترین مسلم رہنماؤں کی اندلس پر حکمرانی کے بعد مسلمانوں میں موجود سیاہ بھیڑوں نے سازش کرنا شروع کر دی۔ ابو القاسم ،ابو داؤد ،ابو عبد اللہ اور بے شمار غداروں کی سازشوں نے مسلمانانِ اندلس کو سقوط غرناطہ جیسا سیاہ دن دکھایا۔
سقوط غرناطہ کے بعد اندلس کی سر زمین مسلمانوں پر تنگ کردی گئی۔مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ،ان کی زمینیں اور جائدادیں ضبط کر لی گئیں اور انہیں عیسائی بننے پر مجبور کر دیا گیا۔ سائنس ،تاریخ اور جغرافیہ پر موجود مسلمانوں کے تعلیمی خزانے اور کتابوں کو ضبط کر لیا گیا۔
الحمراء کے چوک پر مسلمانوں کی کتب کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ عیسائیوں نےمسلمانوں کی کتب سے نت نئی ایجادات کیں اور یوں مسلمانوں کی کتب پر عیسائیوں کا قبضہ ہو گیا اور آج وہ وہ کتابیں اسپین کی لائبریریوں میں موجود ہیں۔ سر احمد اندلس (اسپین) کی تاریخ بتا کر خاموش ہو گئے اور طالب علموں کے لیے سوچنے کا ایک نیا زاویہ چھوڑ گئے۔




































