
ایمان عرفان /نیو کراچی
ایک خوبصورت شہر میں ایک نوجوان لڑکی مینا رہتی تھی۔مینا کا خواب تھا کہ وہ ایک بڑی سائنسدان بنے اور انسانیت کی خدمت کرے لیکن اس
کے راستے میں کئی رکاوٹیں تھیں، لوگ اس کی قابلیت پر شک کرتے اور اس کی محنت کو کم تر سمجھتے تھے۔ مینا اکثر سوچتی کہ کیا وہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکے گی یا نہیں۔ ایک دن وہ ایک قدیم کتاب پڑھ رہی تھی جس میں علامہ اقبال کے اشعار تھے، جب اس نے یہ شعر پڑھا:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
یہ اشعار اس کے دل میں ایک نئی امید جگا گئے۔ اسے احساس ہوا کہ کامیابی صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ اپنی محنت جاری رکھے اور مشکلات کا سامنا کرے گی۔ مینا نے اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے نیا عزم کیا۔ اس نے پرھائی میں دل لگایا اور چیلنجز کا سامنا کیا۔ وہ راتوں کو محنت کرتی اور ہر امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتی۔ ایک دن اس نے ایک اہم مقابلے میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا، جہاں دنیا بھر سے سائنس کے ماہرین کو بلایا گیا تھا، اس نے اپنی تحقیق پیش کی جو اس نے اپنی محنت اور لگن سے تیار کی تھی۔ جب مینا کی باری آئی تو اس نےشعر پڑھا
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
اس کا عزم اور جذبہ سب کو متاثر کر گیا ،آخر کار مینا نے وہ مقابلہ جیت لیا اور اس کی محنت کی قدر کی گئی، اس کی کامیابی نے نہ صرف اس کا خواب پورا کیا بلکہ اس نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر انسان میں عزم اور خوداعتمادی ہو تو کوئی بھی منزل حاصل کرنا مشکل نہیں۔
مینا کی کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ ستاروں سے آگے نئی منزلیں ہیں ہمیں اپنی منزل حاصل کرنے کیلئے ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔




































